25.9 C
Karachi
Friday, April 19, 2024

ذرا سوچئے

ضرور جانیے

بچپن سے وہ انجکشن سے بھت ڈرتی تھی اور آپریشن کے نام سے تو روح کانپ جاتی تھی ایسے میں ڈاکٹر صاحبہ نے بتایا کہ آپ کا ایک چھوٹا سا آپریشن ضروری ھے اور اسے لوکل انیستھیزیا یعنی ہلکی سن کرنے والی دوا دے کر کیا جائے گا

یہ سن کر وہ کانپ گئ کیونکہ سوئیاں چبھنے کی تکلیف کا سوچ کر ہی جان نکل رھی تھی
لیکن زخم کو بڑھنے سے روکنے کے لئے گلٹی کا نکالنا بھی ضروری تھا

خیر اللہ تعالی سے نفل پڑھ کر ھمت مانگنے لگی اور اپنے آپ کو ذہنی طور پر تیار کرنے لگی
پھر آخر وہ وقت آگیا جب اسے اسٹریچر پر لٹا کر ڈاکٹر صاحبہ نے سن کرنے کا انجکشن لگایا اور بتایا کہ اس کے بعد بھی آپ کو کچھ تکلیف ھوگی آپ کو برداشت کرنا ھوگی

پھر جب ڈاکٹر صاحبہ نے سن کرنے کا انجکشن لگانے کے بعد آپریشن شروع کیا تو تکلیف سے اس کے آنسوں بہنے لگے اسی لمحہ دماغ نے تیزی سے کام کرنا شروع کردیا یہ چھریاں لگنے کی تکلیف اور وہاں فلسطینی مسلمانوں اور معصوم بچوں کی گولیوں اور بموں کے ٹکڑوں سے زخموں کی تکلیف مجھے تو سن کرنے کا انجکشن ھی لگا پھر بھی چھریاں لگنے جیسی تکلیف ھے اور انکو تو کوئ دوائیں میسر نھی پھر بھی شھادت کے جذبوں سے سرشار اور اسلام پہ مر مٹنے کاعظم ان کو تکلیف محسوس نہیں ھونے دیتا وہ ھمت کےکتنے بڑے پہاڑ ھیں کہ انکے زخموں کو ٹانکے لگائے جاتے ھیں یا پٹی کی جاتی ھے اور کوئ دوا سن کرنے کی میسر نہیں ھوتی پھر بھی زبان سے صرف حسبنا اللہ ونعم الوکیل نکلتا ھے بس پھر کیا تھا اس سوچ نے اسے جیسے بیدار کردیا ھو وہ آنسؤوں سے رو رھی تھی اور ڈاکٹر صاحبہ سمجھ رھی تھیں کہ وہ تکلیف سے رو رھی ھے حالانکہ وہ تو ان معصوم مسلمانوں کی تکلیف پہ رو رھی تھی.

جو سوئے تو اٹھ نہ سکے گھر سے نکلے تو واپسی پہ گھر کوڑے کا ڈھیر بن چکا تھا اپنے پیاروں کی لاشوں کے ڈھیر لگے دیکھ کر بھی صبر کے ان پہاڑوں نے صرف یہ کہا
کہ ھمیں اپنے رب سے جنت اور شہادت کے اعلی رتبوں کی تمنا ھے
اور ھم اپنے خون کے آخری قطرے تک مسجد اقصی اور فلسطین(جو انبیاء کرام علیہم السلام کی مبارک سرزمین ھے )کی آزادی کی جنگ لڑتے رہیں گے
سبحان اللہ
آج کے فتنوں سے بھرپور دور میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جیسے حوصلے اور عزم والے لوگ ھماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں
اور یہ حوصلے اور عزم وهمت ایک دن میں نہیں بناکرتے
بلکہ ان کے پیچھے ماؤں اور باپوں اور اسلاف کی انتھک محنت اور تربیت ھوتی ھے جو برسوں پہ محیط ھوتی ھے
ھمارے گھروں میں تو بچوں کی تربیت کا اتنا فقدان ھے کہ ہر گھر میں بچے خصوصا کھانے پینے کے معاملے میں شدید پریشان کررھے ھوتے ھیں اور گھر والے بھی ان کی پسند نا پسند کے حساب سے چیزیں مہیا کررہے ھوتے ھیں
پھر بھی ناشکری اور بے صبری کے جذبات کے ساتھ پروان چڑھتے ھیں
کاش کے آج کے مسلمان ان معصوم فلسطینی بچوں سے ہی سبق سیکھ لیں
اور اپنے گھروں میں ہر وقت ان کی مثالیں دے کر بچوں کو اور خود کو بھی صبر اور شکر
اور اللہ کی رضا کے لئے جینے والی زندگی کے اصول سکھائیں
سچ تو یہ ھے کہ اسلام کی سربلندی اور اللہ کے دین کی دعوت کا کام جو اس امت کے سپرد کیا گیا

کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ھیں اب ان کے بعد کوئ نبی نہیں آئیں گے
اسی لئے فرمایا کہ
کنتم خیر أمة اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنهون عن المنكر وتؤمنون بالله
سورة آل عمران آیت 110
اور اس امت کے لئے فرمایا گیا ھے
کہ تم بہترین امت ھو جو لوگوں کی نفع رسانی کے لئے نکالی گئ ھے
اور تم اچھی بات کی ترغیب اور بری بات سے روکنے اور اور اللہ پر یقین رکھنے والے لوگ ھو
بس اس 👆آیت مبارکہ کو اپنی زندگی میں شامل کرلیں تو بات سمجھ آجائے گی
کہ اھل فلسطین دراصل اپنی زندگی کا مقصد اس آیت کے تحت متعین کرکے زندگی گزار رھے ھیں
اور جب عزم کسی بڑی اور اونچی منزل کو حاصل کرنے کا کرلیا جائے تو راستے کی مشکلات مشکلات نھی رہتیں
اور جو اللہ کے دین کی سربلندی کو اپنی زندگی ک مقصد بناکر چلتے ھیں اللہ انکی دنیا کی مشکلات بھی ضرور دور فرمادیتے ھیں
بظاہر جو نقصان فلسطینی مسلمانوں کا نظر آرھا ھے
یہ دراصل نقصان نھی بلکہ انکی بہترین کامیابی ھے
کیونکہ شہید ھونے والے تو یقینا جنت الفردوس کے اعلی مقام حاصل کرچکے
اور جو پیچھے خستہ حال مسلمان اور مجاہدین رہ گئے وہ اللہ تعالی کے پسندیدہ ترین بندے ہیں کیونکہ اس فتنوں کے دور میں اللہ کے دشمنوں کے خلاف ڈٹ کے کھڑے ہیں
اور نہ صرف یہ کہ ڈٹ کے کھڑے ھیں بلکہ آج مسلمان تو کیا کافر بھی ان کے حوصلوں کی بلندی کی وجہ سے ان سے شدید محبت کرنے لگے ھیں
کیا یہ “” کامیابی “” کم ھے؟
اللہ تعالی ھمیں بھی حق کے لئے ڈٹ جانے کا حوصلہ ھمت اور عزم مصمم عطا فرمائیں آمین ثم آمین
انہیں سوچوں میں گم ھوئے اس کا کامیاب آپریشن ھوگیا اور اسے درد کا احساس بھی نہ ھوا
اور ڈاکٹر صاحبہ اس کے حوصلے پہ اسے شاباش دیتی ھوئ چلی گئیں
اور وہ دل دل میں مسکراتی ھوئ فلسطینی بچوں سے کہہ رھی تھی
شکریہ اے معصوم استادوں
شکریہ اے چھوٹی عمر کے بڑے انسانوں بہت بہت شکریہ ❤️

تحریر اھلیہ ڈاکٹر عثمان انور

پسندیدہ مضامین

اردوسٹوریزذرا سوچئے