25.9 C
Karachi
Friday, April 19, 2024

نماز اللہ تعالی کی ملاقات کا ذریعہ

ضرور جانیے

ہر مسلمان کے دل میں اپنے رب کو دیکھنے کی آرزو تو یقینا ھوتی ھے لیکن یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی پڑتی ھے کہ ھم اللہ تعالی کو اس دنیا میں نہیں دیکھ سکتے البتہ تمام اھل سنت والجماعت کے علماء کا اتفاق ھے کہ ان شاءاللہ ہر مؤمن جنت میں اپنے رب کی زیارت ضرور کرے گا
اسی طرح نماز اللہ تعالی نے ایک ایسی عبادت بنائ کہ جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
سب سے نزدیک بندہ اپنے رب سے سجدے کی حالت میں ھوتا ھے لہذا تم سجدے میں خوب دعا کیا کرو
صحیح مسلم کی روایت
اسی طرح سنن نسائ کی روایت ھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بندہ نماز پڑھتا ھے تو اللہ تعالی اس کی طرف برابر متوجہ رہتے ہیں جب تک وہ ادھر ادھر نہ دیکھے بندہ جب ادھر ادھر دیکھنے لگتا ھے تو اللہ بھی اس سے اپنی توجہ ہٹالیتے ہیں
گویا دنیا میں اللہ تعالی کی ملاقات کا ایک بہترین ذریعہ نماز ھے کہ جو اگرچہ حقیقی ملاقات تو نہیں لیکن قرب کی وہ کیفیت عطا کرتی ھے کہ جس سے اھل شوق اور اھل ایمان کے دل منور ھوجاتے ھیں اور جب یہ محبت ترقی کرتی ھے تو جو لطف انہیں نماز میں آتا ھے وہ کسی اور چیز میں نہیں آتا
نماز انتہائی عظیم عبادت ھے اسی لئے اس کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے کہ گویا

*ایک نماز کاجسم ھے
اور دوسری اس کی روح ھے

جسم سے مراد اس سے متعلق وہ تمام احکامات جو ظاھر سے تعلق رکھتے ہیں مثلا ستر ڈھانکنا خصوصا خواتین کو جسم کے تمام اعضاء کو چھپانا سوائے چہرہ اور دونوں ہاتھ اور پاؤں کھولنے کی اجازت ھے اگرچہ یاد رہے کہ ٹخنہ بھی ستر کا حصہ ہیں تو انہیں ڈھانکنا انتہائی ضروری ہے اسی طرح مرد حضرات کو ستر ڈھانکنا تو فرض ھے اس کے علاوہ ایسا مناسب لباس پہننا جس سے جسم کی ساخت نمایاں نہ ھو
پھر پاکی کا خیال رکھنا کہ جسم جگہ اور کپڑے سب پاک ھوں
اٹھک بیٹھک میں صفت اعتدال ھونا اور سب سے اہم نماز میں پڑھی جانے والی تسبیحات اور قرآن پاک کی آیات کی تجوید کا بالکل درست ھونا
کیونکہ خصوصا قرآن پاک کی تجوید درست نہ ھو تو نماز باطل ھوکر ٹوٹ جائے گی
اس لئے ہر مسلمان پر اتنی تجوید کا سیکھنا جس سے وہ اپنی نمازوں میں پڑھے جانے والی قرآن کی آیات یا سورتوں کی غلطی کو دور کر سکے فرض عین ھے اور جان بوجھ کر اس فرض سے غفلت اور کوتاہی کرنا سخت گناہ اور جرم عظیم ھے

اس کے بعد دوسرے نمبر پر نماز کی روح ھے
اور اس سے مراد نماز کا وہ خشوع خضوع ھے جس سے اللہ تعالی کے قرب کی وہ کیفیت پیدا ھوجائے جو نماز کا اصل مقصود ھے
اللہ تعالی نے سورہ طه آیت 14 میں ارشاد فرمایا
اقم الصلوة لذكري
میری یاد کے لئے نماز قائم کرو
اور حدیث جبرئیل کے مطابق صفت احسان کے ساتھ نماز قائم کرنا
صفت احسان کے بارے میں فرمایا
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ

ان تعبد اللہ کانك تراه فان لم تكن تراه فإنه يراك

کہ اللہ کی عبادت ایسے کرو گویا کہ تم اللہ کو دیکھ رھے ھو اور اگر تم اس کیفیت کو نہ پا سکو تو کم از کم یہ کیفیت پیدا کرو کہ اللہ تو تمھیں دیکھ ہی رھے ھیں
گویا اللہ تعالی کے سامنے کھڑے ھونے کی کیفیت پیدا کرنا ہی نماز کی اصل اور روح ھے کہ بندہ اللہ تعالی کی عظمت کے تصور کے ساتھ کھڑا ھو
فرمایا قومو لله قانتين

(سورہ البقرة آیت 238) کہ اللہ کے سامنے فرمانبرداروں کی طرح کھڑے ھوا کرو
گویا بندہ کو جس وقت یہ احساس ھوجائے کہ وہ اپنے اس رب کے سامنے کھڑا ھے جس نے اسے پانی کے ایک گندے قطرے سے پیدا فرمایا اور پھر سنوار کر ایک خوبصورت انسان بنایا پھر پرورش کرکے سب سے پسندیدہ دین عطا فرمایا اور آج اپنے سامنے کھڑا ھونے کی توفیق عطا فرمائ اور مثلا حدیث شریف کے مطابق جب بندہ نماز میں قرآن پاک پڑھتا ھے تو گویا وہ اللہ سے باتیں کررھا ھوتا ھے
اور جب نماز کے باہر قرآن پاک پڑھتا ھے تو اللہ رب العزت اس سے کلام فرمارھے ھوتے ھیں
گویا اللہ تعالی سے ھم کلام ھونے کی ایک کیفیت کا نام نماز ھے جو سراسر دعا ھے
جب بنده اهدنا الصراط المستقيم پڑھتا ھے تو یہ ایک جامع ترین دعا ھے جس میں وہ سیدھا راستہ اللہ تعالی سے طلب کررھا ھے اور دن بھر کی 17 رکعت فرض نماز میں ہر رکعت میں یہ دعا مانگ رہا ھے اس کے علاوہ 12 رکعت سنت مؤكده کی ہر رکعت میں یہ جامع دعا مانگ کر آگے یہ کہتا ھے کہ میں ان لوگوں کا راستہ مانگتا ھوں جن پر آپ نے انعام کیا نہ کہ ان لوگوں کا
جن پر آپ نے (انکے کرتوتوں کی وجہ سے ) غصہ فرمایا اور نہ گمراہوں کا راستہ
گویا یہ ایسی دعا سکھائ گئ کہ اگر اس کو دھیان سے دل کی تڑپ کے ساتھ ہر نماز میں مانگا جائے (جو کہ ھم خبروں کی طرح پڑھتے ھیں )
اور انعمت علیھم پہ سارے انبیاء کرام اور صحابہ کرام اور تمام مقربین نیک لوگوں کو ذھن میں لاکر پڑھا جائے
اور اگلی آیت غیر المغضوب علیھم سے آخر تک تمام کفار اور گناہگار اللہ کے نافرمانوں کا دھیان کیا جائے تو لازمی اللہ تعالی کی بارگاہ میں یہ دعا قبول ھوگی اور نماز پڑھنے والے کے لئے دین اور دنیا کے بہترین راستے اور کامیابیاں مسخر کردی جائیں گی
بس یہ نماز میں اللہ تعالی کی عظمت اور بڑائ کا دھیان ہی تو ھے جو نماز کو مؤمن کی معراج کا رتبہ دلواتا ھے اور جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج پہ لے جایا گیا اور یہ شرف نہ اس سے پہلے کسی کو نصیب ھوا نہ کبھی بعد میں ھوگا اور وہاں عجائبات قدرت جنت جہنم کے نظاروں کے علاوہ سب سے بڑا شرف اللہ تعالی کی ملاقات کا نصیب ھوا
بالکل اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو یہ خوش نصیبی عطا ھوئ ھے کہ ان کو نماز کا تحفہ ملا ھے کہ جو اس نماز کو دھیان سے ادا کرے اور خوب خشوع خضوع کی کیفیت تک پہنچے تو یقینا اسے اللہ تعالی کی قربت کی لذت نماز میں محسوس ھوگی اور پھر وہ ایک ایسی معراج کا مزہ لے گا کہ دنیا کی کسی شے میں وہ لطف نہ ملا ھوگا کیونکہ بندہ جب اپنے رب سے باتیں کرنے کی کیفیت کو پا لیتا ھے تو اس کے اندر انتہائی سکون اور خوشی کا احساس پیدا ھوجاتا ھے پھر دنیا کی کوئ فکر اور غم اسے بڑا نہیں لگتا اور پھر نماز اسے ہر برے کام اور اللہ تعالی کی نافرمانی سے روک دیتی ھے جیسا کہ اللہ تعالی نے سورہ العنكبوت میں ارشاد فرمایا

ان الصلوة تنهي عن الفحشاء والمنكر
کہ بےشک نماز برائ اور بےحیائی کی باتوں سے روکتی ھے
شرط صرف یہی ھے کہ نماز وہ نماز ھو جو اپنے جسم اور روح کے ساتھ ادا کی گئی ھو
یعنی تمام شرائط اور اراکین کے علاوہ صفت احسان اور خشوع خضوع کی اعلی کیفیت کے ساتھ ادا کی گئی ھو
اللہ تعالی ھمیں ایسی نماز حاصل کرنے کی محنت کی توفیق عطا فرمائیں کیونکہ یہی اصل مقصود ھے اور اصل میں اسی کا نام نماز ھے

تحریر اھلیہ ڈاکٹر عثمان انور

پسندیدہ مضامین

اسلامنماز اللہ تعالی کی ملاقات کا ذریعہ