25.9 C
Karachi
Friday, April 19, 2024

’عدلیہ کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلائی گئی‘، چیف جسٹس اسد طور کیس میں برہم

ضرور جانیے

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صحافیوں کو ہراساں کرنے کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران برہمی کا اظہار کیا ہے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ایف آئی اے کے نوٹسز اور صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آباد پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جرم کی ریکارڈنگ موجود ہے، ان ملزمان کا سراغ نہیں لگا سکے؟

اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اٹارنی جنرل یہ کس قسم کا آئی جی ہے؟ ان آئی جیز کو ہٹادیا جانا چاہیے، چار سال ہو چکے ہیں، کیا آپ چار صدیاں چاہتے ہیں؟

چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آباد سے کہا کہ پورا ملک آپ کی کارکردگی دیکھ رہا ہے، آئی جی اسلام آباد کا رویہ سہولت فراہم کرتا دکھائی دیتا ہے، کسی صحافی کو گولی ماریں، کسی پر تشدد کریں، کسی کو اٹھائیں، محفوظ رکھیں۔ شہر کے کیمرے خراب ہو جاتے ہیں۔

سماعت کے دوران بیرسٹر صلاح الدین نے عدالت کو بتایا کہ اسد طور اس وقت جیل میں ہیں جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اسد طور جیل میں کیوں ہیں۔ اس پر بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ اسد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اسد طور کے خلاف کیس میں سنگین دفعات لگائی گئی ہیں، حساس معلومات سمیت دیگر دفعات کا اطلاق کیسے ہوتا ہے؟ انکوائری نوٹس میں لکھا گیا تھا کہ عدلیہ کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے جبکہ ایف آئی آر میں عدلیہ کے خلاف مہم کا ذکر تک نہیں، اسے عدلیہ کے کندھوں پر رکھ کر بندوق چلائی گئی ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیوں نہ ایف آئی اے کو توہین عدالت کا نوٹس دیا جائے، سپریم کورٹ کے کسی جج نے ایف آئی اے سے شکایت نہیں کی اور نہ ہی رجسٹرار سے، سپریم کورٹ کا نام استعمال کرکے یہ تاثر دیا گیا کہ جیسے عدلیہ کے کہنے پر کارروائی کی گئی۔ اس طرح عوام میں عدلیہ کا امیج خراب ہوگا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا اب ہم عدلیہ کو بدنام کرنے پر ایف آئی اے کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں؟ متعلقہ ایف آئی اے افسران خود عدلیہ کو بدنام کر رہے ہیں، آئی ایس آئی کا نمائندہ جے آئی ٹی میں کیسے شامل ہو سکتا ہے؟ آئی ایس آئی ایک انٹیلی جنس ایجنسی ہے، قانون نافذ کرنے والی ایجنسی نہیں، قانون نافذ کرنا آئی ایس آئی کا دائرہ اختیار نہیں ہے۔

پسندیدہ مضامین

پاکستان’عدلیہ کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلائی گئی‘، چیف جسٹس اسد...