25.9 C
Karachi
Friday, April 19, 2024

“تھا جس کا انتظار وہ مہمان آگیا”

ضرور جانیے

اور پھر الحمدللہ وہ عظیم مہمان آ پہنچا اھل عشق جس کا پورے سال انتظار کیا کرتے ہیں اللہ والے اپنے رب سے گڑ گڑا کر رمضان المبارک کی مقدس ساعات تک زندگی اور اس میں عبادتوں کی توفیق مانگا کرتے ھیں
وہ مہمان جسے یوسف علیہ السلام کی طرح گیارہ بھائیوں کے درمیان کا بارھواں بنایا گیا
اور اس کی عظمت کا تقاضہ یہ رکھا کہ نہ تو کوئ اسے یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کی طرح قتل کرنے یعنی ضایع کرنے کی کوشش کرے (مطلب رمضان کے روزے اور عبادات سے جان بوجھ کر غفلت کرنا گویا اسے ضائع کردینا ھے
اور نہ کوئ اس میں غلطیاں (مثلا مختلف گناہ اور ریاکاری وغیرہ کرکے ) اسے انکی طرح کنوئیں میں ڈالے
اور نہ ہی کوئ یوسف علیہ السلام کی طرح اس مہینہ کو ثمن بخس یعنی ادنی سی قیمت میں بیچے
(مطلب دنیا کے ادنی فائدے کھانے پینے میں اسراف اور مزے کے لئے اس کے قیمتی لمحات کو ضائع نہ کرے)
پس جس نے اس مہمان کا اکرام اور عزت ویسے کرلی جیسے عزیز مصر نے اپنی بیوی سے کہا تھا کہ
” اکرمی مثواه عسی ان ینفعنا “
او ان نتخذہ ولدا “
یعنی ان کی قدر کرنا اکرام کرنا شاید کہ ان سے ھمیں فائدہ پہنچے اور ھم انہیں اپنا بیٹا بنالیں “”
گویا جو رمضان المبارک کا اکرام یعنی اس کی قدر خوب دل سے کرے گا اور اس میں خوب نیکیاں کمانے اور عبادت اور گناھوں پر ندامت کے آنسوں بہائے گا تو خود احادیث مبارکہ سے ثابت ھے کہ رمضان المبارک ایسے مؤمن كو خوب فائدہ پہنچائے گا اور آخرت میں اس کا شفیع بن جائے گا
لہذا اللہ تعالی نے اپنے مؤمن بندوں اور گناھوں میں لتھڑے ھوئے کمزور بندوں پہ اس مبارک مہینے کے ذریعے اس طرح شفقت فرمائ کہ گیارہ ماہ تک جو گناہ کئے اس مبارک مہینے میں ان تمام گناھوں کو معاف فرمانے کے انتظامات فرمائے اور اسے کچھ اس طرح ترتیب فرمایا کہ اس کے اول حصہ کو رحمت
درمیانی کو مغفرت
اور آخری حصہ کو جہنم سے نجات کا ذریعہ قرار فرمایا
گویا جو اللہ کے مقرب بندے ہیں ان پہ شروع دن سے انوار وبرکات کی کیفیات کا نزول شروع ھوجاتا ھے
جبکہ عمومی گناہگار دس دن کے روزے کے اور عبادتوں کے بعد اس کیفیت میں پہنچتے ہیں کہ جہاں انہیں گڑ گڑا کر مغفرت مانگنے اور قرب الہی کو پانے کاشوق پیدا ھوجاتا ھے لہذا انکی مغفرت فرمائ جاتی ھے اور مزید عبادت کی توفیق عطا فرمائی جاتی ھے
اب باقی وہ کمزور مسلمان جو گناہ کرتے کرتے ایمان کی انتہائی کمزور سطح پہ پہنچ جاتے ہیں اور گئ گزری کمزور عبادتوں کے ساتھ جب 20 دن گزار لیتے ھیں تو ان کے دل بھی نرم ھونے لگتے ھیں اور رمضان المبارک کی پرنور ساعتیں اور ہر طرف قرآن پاک کی تلاوت اور عبادت کی پر نور فضاؤں سے ان کے دل میں بھی جہنم کی آگ سے بچنے اور جنت میں بلاحساب کتاب داخلہ کی تمنی جنم لینے لگتی ھے اور آخر وہ اللہ تعالی کے آگے گڑا گڑا اٹھتے ھیں اور آخر کار آخری عشرے میں ان بڑے گناہگاروں کو بھی معافی مل جاتی ھے
غرض ایمانی لحاظ سے یہ تین قسم کے مؤمن ان 3 عشروں میں خوب مستفید ھوتے ھیں

اور اول الذکر آخری عشرہ تک خوب نکھر کر اللہ تعالی کے مزید مقرب بندے بن جاتے ہیں

دوسرے نمبر کے مسلمان آخری دو عشروں میں اپنی پچھلی ایمانی سطح سے خوب ترقی کرجاتے ہیں

اور تیسرے نمبر کے مسلمان بھی گناھوں سے پاک ھوکر نئ زندگی کا آغاز کرتے ھیں

اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
نے سب سے بڑا محروم شخص اسے قرار فرمایا جو اس مبارک مہینے میں بھی نیکی سے محروم رھے

لہذا اس مہینہ کی سب سے بڑی نیکی تو ” روزہ ” ھے
لیکن یہ روزہ “نماز” کے بغیر مکمل نھی اور اسی لئے اس مہینہ کی برکت سے فرض نماز کا ثواب بھی ستر گنا بڑھا دیا جاتا ھے

اور اس مہینہ کی ایک بڑی نیکی
قیام اللیل یا تراویح کی نماز ھے

اور چونکہ قرآن پاک کے نزول کا مہینہ بھی رمضان ھے لہذا اس مہینہ کی ایک بڑی نیکی تلاوت قرآن ھے
پھر اس بابرکت مہینہ کی ایک نیکی
صدقہ و خیرات کی کثرت کرنا ھے
پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصی تاکید فرمائی کہ 4 باتوں کی اس ماہ میں کثرت کرو

1-کلمہ طیبہ کثرت سے پڑھو-
2-گناھوں پر استغفار کثرت سے کرو-
3-جنت الفردوس کثرت سے مانگو-
4-جہنم سے نجات کثرت سے طلب کرو

پھر ایک بہت اھم نیکی اس ماہ کی
گناھوں سے بچنا ھے
اس لئے کہ کسی نے ایک تھیلی میں ہیرے جواہرات جمع کئے ھوں اور اس تھیلی کے نیچے ایک سوراخ ھو جس سے تمام ہیرے نیچے گرتے رہیں اور یہ شخص تھیلی لے کر چلتا رہے اسے پتہ ہی نہ چلے اور اس کی ساری جمع پونچی ضایع ھوجائے خدانخواستہ تو سوچئے اس پہ کیا بیتے گی
یہی حال روزہ رکھ کر گناہ کرنے والے کا ھے
نماز جان بوجھ کر چھوڑنا
اگر اس کے تمام احکامات نہ آتے ھوں تو سیکھنے میں غفلت کرنا
دھیان کے بغیر نماز پڑھنا
شرک اور بدعات کے کاموں میں مشغول ھونا
جھوٹ غیبت حسد کینہ بغض چغلی دھوکہ کسی کا دل دکھانا بے حیائی کے کام نامحرم کو دیکھنا بے پردگی
سنت کے طریقوں کے خلاف کرنا
غرض جتنے بھی گناہ ہیں وہ مؤمن كی روزہ کی قیمتی پوٹلی میں سوراخ کرکے اسے ضائع کرادیتے ہیں لہذا تمام گناھوں سے بچنے کا خوب اھتمام کیا جائے
پھر اس قیمتی پوٹلی کی قیمت مزید بڑھانے کا بہترین ذریعہ ندامت کے آنسوں ہیں جسے نصیب ھوجائیں اس سے بڑا خوش نصیب کوئ نہیں

کیونکہ معافی تو اس کی ہوتی ھے جو دل سے گناہ کا اعتراف کرتا ھے اور آئندہ کبھی اس گناہ کو نہ کرنے کا عزم کرتا ھے
اس کی مثال ایسے ہی ھے کہ کوئ شخص ڈاکٹر کے معائنہ کے بعد تمام ٹیسٹ کراکے یہ معلوم کرلے کہ اسے کینسر ھے لیکن اس کا علاج نہ کرے تو کیا بیماری سے شفا کے لئے ڈاکٹر کا معائنہ اور ٹیسٹ کافی ھوسکتے ہیں ہرگز نہیں اسی طرح مسلمان گناہ گار اقرار گناہ تو کر لے لیکن انہیں چھوڑنے کا عزم اور کوشش نہ کرے تو یہ چونکہ توبة النصوح کی شرائط کو پورا نہیں کرتی اس لئے اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ اللہ تعالی کا حکم قرآن پاک میں یہ ھے کہ
“یاایھاالذین آمنوا توبوا الي الله توبة نصوحا”
سورہ تحریم آیت 8
اے ایمان والوں اللہ کے سامنے سچی توبہ کیا کرو
اور سچی توبہ کی 3 شرائط ہیں
1-سچے دل سے آنسوں بہاکر گناہ کی معافی مانگنا
2-اس گناہ کو چھوڑنے اور آئندہ کبھی نہ کا عزم کرنا
3- توبہ کے بعد اس گناہ کی تلافی کے لئے کوئی نیکی کرنا
اللہ تعالی ہمیں دل کے خلوص کے ساتھ گناھوں پر معافی مانگنے کی توفیق عطا فرمائیں خاص کر تہجد تمام نمازوں کے بعد اور خصوصا افطار کے وقت جبکہ حدیث شریف میں آیا کہ روزانہ افطار کے وقت اللہ تعالی 10 لاکھ ایسے لوگوں کو جہنم سے نجات عطا فرماتے ہیں جن پر جہنم واجب ھوجاتی ھے اور جب رمضان کا آخری دن ھوتا ھے تو جتنے لوگ شروع دن سے جہنم سے آزاد فرمائے تھے انکی تعداد کے بقدر اس آخری دن میں آزاد فرماتے ہیں “
اللہ ہر مسلمان کو اس قیمتی آفر سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائیں آمین ثم آمین

اھلیہ ڈاکٹر عثمان انور کے قلم سے

پسندیدہ مضامین

اسلام"تھا جس کا انتظار وہ مہمان آگیا"