25.9 C
Karachi
Friday, April 19, 2024

نعمتوں کا شکرانہ

ضرور جانیے

یارب تیرا شکر بیاں کیسے کریں گے
نعمت کا سمندر ھے جو ہر آن ھے جاری

اعضاء جو سلامت ہیں تو بس تیرا کرم ھے
سانسوں کی جو نعمت ھے وہ سب پہ ھے بھاری

عزت کا شرف بخشا انسان بناکر
ایمان کی دولت کی عطا سب سے نرالی

ھے رزق مقدر کا جو مل کے رھے گا
تحصیل ہدایت کی ھے محنت سے بتادی

گر شکر کی زباں ھو تو ذرے پہ بھی واجب
نا شکرے کو ھے کم جو دولت کی ھو وادی

وعدہ تیرا ھے شکر پہ نعمت کو بڑھانا
جو شکر نہ کرے اسے قلت کی سزا دی

ھے شکر عمل سے تو شریعت کی پیروی
یہ بات صحابہ نے عمل سے ھے سکھادی

مرنے کے بعد داخلہ جنت کی بشارت
مؤمن كو یہ خوشخبری بڑی تو نے سنادی

دنیا کے جو مصائب ہیں کفارہ گناہ
بخشش کی خبر ادنی سے کانٹے پہ سنادی

نعمت جو ملے شکر ھو ورنہ صبر ھو
دونوں صفات مل کے ھیں جنت کی سواری

یارب مجھے شکر کا پیکر تو بنادے
صد شکر کہ پہچان مجھے اپنی کرادی

جاری زبان پہ ذکر ھو ایسی زبان ھو
اور دل وہ دل کہ یاد تیری جس میں بسادی

پیارے نبی پاک کی سنت پہ عمل ھو
تھوڑے میں بھی راضی رھو عادت یہ بنادی

انعام صبر و شکر کا جنت میں ملے گا
جو فکر نے سوچی نہیں جنت وہ بنادی

امت میں نبی (ص)کی ھوں تو یہ تیرا کرم ھے
نبیوں کے کام کا شرف خوش بختی بنادی

کلام اھلیہ ڈاکٹر عثمان انور

پسندیدہ مضامین

شاعرینعمتوں کا شکرانہ