25.9 C
Karachi
Tuesday, February 27, 2024

قیامت کے وقوع کی بحث اور آج کا مسلمان

ضرور جانیے

آجکل سوشل میڈیا کا دور ھے ہر طرف فیس بک یو ٹیوب انسٹاگرام اور نہ جانے کیا کیا غرض ہر جگہ ہر شخص کو اپنے ویوز اور لائیکس زیادہ بڑھانے کا خبط سوار ھوچکا ھے اسی لئے ہر ایک کی یہ فکر اور کوشش ھے کہ کوئ ایسی خبر یا بات لائ جائے جو سب کو حیران کر جائے اور میرے ویوز اور لائیکس میں اضافہ ھوجائے.

اسی سلسلہ کی ایک کڑی قیامت کے واقع ھونے کی خبروں میں افواہیں پھیلانا ھے اور پھر
دینی معلومات سے کم علم لوگ اس کا یقین کرکے اور کچھ یقین نہ کرکے شغل کے طور پر ایسی افواہ نما خبروں کو پڑھتے بھی ھیں اور پھیلاتے بھی ہیں.

حالانکہ قلب سلیم اور عقل سلیم رکھنے والے تمام مسلمان اس بات سے خوب اچھی طرح واقف ہیں کہ قیامت کے آنے کا علم یقینی صرف اور صرف اللہ رب العزت کو ھے اور یہ ھمارے ایمان کا حصہ ھے کیونکہ اللہ تعالی نے اس حقیقت کو قرآن پاک میں بیان فرماکر اسے ھمارے ایمان کی شرط قرار دے دیا کہ چونکہ پورے قرآن پاک پر ایمان لائے بغیر ھم ہرگز مسلمان نھی ھوسکتے لہذا یہ بات چونکہ قرآن پاک میں موجود ھے کہ قیامت کے آنے کا وقت صرف اور صرف اللہ تعالی کے علم غیب میں ھے کوئ اسے نھی جانتا حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی نھی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال ایک سادہ لوح صحابی نے کیا تھا تو آپ نے انتہائی حکیمانہ انداز سے اس کا جواب ارشاد فرمایا کہ “” تم نے اس کی کیا تیاری کر رکھی ھے””الخ.

گویا قیامت ایک امتحانی پرچہ ھے جس کی تیاری کرنا ھم پر فرض قرار دیا گیا ھے اس طرح کہ ہر وقت الرٹ رھیں کہ وہ پرچہ کسی بھی وقت آجائے گا اور اس کے واقع ھوتے ھی اچھی تیاری کرنے والوں کو بہترین انعام جنت کی صورت میں اور اس کی تیاری سے غافل رہنے والوں کو سخت ترین سزا جہنم کی صورت میں فورا مل جائے گی.

اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما کے مطابق یہ سوال یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس لئے کیا کہ انہیں نعوذبااللہ کم علم ثابت کرسکیں جس پر اللہ تعالی نے سورہ اعراف کی مندرجہ ذیل آیات نازل فرمائیں

اسی لئے سورہ اعراف آیت 187 میں واضح طور پر بیان فرمایا کہ
” کہ یہ لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کب آئے گی آپ کہہ دیجئے کہ اس کا علم تو (صرف ) میرے رب کے پاس ھے اسے وہی اس کے وقت پر ظاھر فرمائیں گے بھاری پڑ رھی ھے آسمانوں اور زمین میں تم پر قیامت نہ آئے گی مگر ” “اچانک” (اے نبی) آپ سے ایسے پوچھتے ھیں کہ گویا آپ نے اسے خوب تحقیق کر رکھا ھے آپ فرمادیجئے کہ اس کا علم تو صرف اللہ کے پاس ھے لیکن بھت سے لوگ نھی جانتے سورہ اعراف 187
اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جب جب قیامت کے بارے میں سوالات کئے گئے کہ وہ کب واقع ھوگی تو آپ علیہ السلام پر آیات نازل فرمائی گئیں

مثلا سورہ الشوری آیت 17 میں فرمایا


“کہ اللہ ہی ھے جس نے حق کے ساتھ کتاب (قرآن ) اتاری اور ترازو اور آپ کیا جانیں شاید کہ قیامت قریب ہی ھو” اور یہ بات اس وقت ارشاد فرمائ گئ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن پاک نازل ھورھا ھے اب خود اندازہ لگایا جائے کہ جب اس وقت قیامت کو قریب فرمایا تو اب 1400 صدیاں گزرنے کے بعد کیا قیامت قریب نہ ھوگی.

جبکہ ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے (ابتدا سے انتہا تک) پوری دنیا کو تھوڑا بنایا ھے اور اب اس میں سے جو باقی بچا ھے وہ تھوڑے سے بھی تھوڑا ھے اور باقی رہ جانے والے کی مثال اس حوض کی طرح ھے جس کا صاف پانی پی لیا گیا ھو اور (اس کی تہ میں موجود ) گدلا پانی باقی رہ گیا ھو. (مستدرک الحاکم الحدیث7974)

البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی کچھ نشانیاں ارشاد فرمائ جن میں کچھ چھوٹی نشانیاں علامات صغری اور کچھ بڑی نشانیاں علامات کبری.

ارشاد فرمائ مثلا علامات صغری میں سے

بعثت نبی صلی اللہ علیہ وسلم
وفات نبی صلی اللہ علیہ وسلم
شق قمر کا واقعہ
جھوٹے نبوت کے دعویدار ظاھر ھونا
فحاشی وبے حیائی عام ھونا
قریب قریب بازار بن جانا
دیگر اقوام کا مسلمانوں پہ غالب ھوجانا
مسلمانوں میں وھن کی بیماری ھوجانا یعنی دنیا کی محبت اور موت سے نفرت کی وجہ سے جہاد کو ترک کردینا
بیوی کی فرمانبرداری اور ماں کی نافرمانی(ناحق ) کرنا
دوستوں سے قربت اور والدین سے دوری
کم حیثیت لوگوں کا اونچے رتبوں پہ فائز ھونا
اورمسجدوں میں شوروشغب ھونا
زکوة كو ٹیکس سمجھ کر ادا کرنا
دنیاوی مفادات کے لئے علم حاصل کرنا
امانت کا مفقود ھوجانا
وغیرہ وغیرہ جو قریبا سب نظر آرھی ھیں

اس کے علاوہ جو قیامت کی علامات کبری ارشاد فرمائیں جن کے ظاھر ھونے کے بعد فورا قیامت آجائے گی وہ مندرجہ ذیل ہیں

حضرت مہدی علیہ الرضوان کا ظاھر ھونا


حضرت مہدی علیہ الرضوان کا ظاھر ھونا اور بیت اللہ شریف کے سامنے رکن اور مقام کے درمیان لوگوں کا ان کے ہاتھ پر بیعت خلافت کرنا
دھواں ظاھر ھونا
دجال کا ظہور
دآبة الأرض کا نکلنا
سورج کا مغرب سے طلوع ھونا
نزول عیسی علیہ السلام
یاجوج ماجوج کا ظہور
مشرق و مغرب میں زمین کا دھنسنا
جزیرہ العرب میں زمین کا دھنسنا
ایک آگ جو یمن کی جانب سے نکلے گی اور لوگوں کو ہانک کر محشر میں جمع کرے گی

مندرجہ بالا علامات کے معلوم کرنے کے بعد ھم پھر شروع میں بیان کی گئی حدیث شریف کی طرف لوٹتے ھیں جہاں صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قیامت کب آئے گی کا سوال کرنے پر ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کیا ھوا؟؟ کہ تم نے اس کی کیا تیاری کررکھی ھے ؟؟
تو اصل کام اس بات سے خوف کرنا ھے کہ کیا ھم اللہ تعالی کی بارگاہ میں پیش ھونے کی ھمت رکھتے ھیں ؟؟
کیا ھمارے اعمال قیامت کے آنے کے متحمل ھوچکے ھیں ایمان مضبوط ھے؟؟
اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خاطر جان مال سب قربان کرنے کی سطح پر ایمان آچکا؟؟؟
کیا حقوق العباد اور حقوق اللہ کے تمام دفتر بھت اعلی تیار ھوچکے نمازیں اعلی درجے کے خشوع خضوع والی بن چکیں ؟؟؟

اللہ تعالی کی بارگاہ

کیا بے حیائی اور فحاشی کے اس موجودہ طوفان سے بچ کر ھم نے ہر گناہ سے اپنے آپ کو بچا لیا ھے کہ ھم اللہ تعالی کی بارگاہ میں “”متقی”” شمار کئے جاسکیں.
پوری دنیا میں اللہ کا دین قائم ھوجائے اس کی محنت مکمل کرچکے؟؟
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک سنت کا اتباع زندگی میں شامل ھوچکا ؟؟؟

اگر ھم ان سب سوالوں کے جواب میں ابھی 100 فیصد تیار نھی تو یہ بحث کہ مہدی علیہ الرضوان کب تشریف لائیں گے 2025 ھوگا کہ 2030 ھوگا اس بحث سے کیا فائدہ ھے یہ تو وہی بات ھے جو اللہ تعالی نے سورہ شوری میں ارشاد فرمائ آیت 18
“”اس کی جلدی تو وہی کرتے ہیں جو اس پر ایمان نھی رکھتے

اور جو اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ڈر رھے ھیں اور جانتے ھیں کہ وہ برحق ھے
خبردار بے شک جو لوگ قیامت کے بارے میں جھگڑا کرتے ھیں وہ پرلے درجے کی گمراہی میں ہیں “”

عقل و شعور

اللہ تعالی ہر مسلمان کو عقل و شعور عطا فرمائیں اور جتنا علم نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ذریعے ھم تک پہنچا اس پر یقین کامل کرکے عمل کی توفیق عطا فرمائیں اور فالتو بحث و مباحثہ سے بچ کر دین پر کامل عمل کی توفیق عطا فرمائیں تاکہ قیامت سے پہلے ھم قیامت کی تیاری کر سکیں.

جبکہ حدیث شریف میں فرمایا کہ “من مات فقد قامت قیامته”کہ جو مر گیا اس کی قیامت قائم ھوچکی. یعنی اصل میں قیامت اس مرحلے کا نام ھے جو بندے پہ موت کے وقت گزرے گا ہر شخص کو اس لحاظ سے اپنی قیامت یعنی موت کی تیاری کرنے کی ضرورت ھے وہ موت جس کی کوئ علامت بھی نھی بتائ گئ اور وہ اچانک ہی آجائے گی اتنا بھی بھروسہ نھی کہ یہ مضمون لکھنے والا قلم اپنا مضمون بھی پورا کرسکے گا یا نھی ؟

سورہ ق میں آیت 22 میں ارشاد فرمایا “”بے شک تو اس سے غفلت میں تھا تو ھم نے تجھ سے تیرا پردہ اٹھادیا تو آج تیری نگاہ تیز ھے “”

موت کا فرشتہ

گویا موت کا فرشتہ نظر آتے ھی سب حقیقت فورا واضح ھوجائے گی کہ کیا شریعتِ تھی اور مجھے مسلمان ھونے کے ناطے اس شریعت پر مکمل عمل کرنے کا ایک پرچہ دیا گیا تھا جسے حل کرکے آنا تھا

اور خدانخواستہ اگر میں حل نہ کرسکا تو موت کا فرشتہ نظر آتے ھی توبہ کے دروازے بند ھوجائیں گے اور سوالات کی بوچھاڑ ھوگی پھر وہ وقت کیا کسی قیامت سے کم ھوگا جب ھم تنہا اس قبر کے گڑھے میں منکر نکیر کے سوالات کے جوابات دے رھے ھونگے کوئ مدد کو آنے والا نہ ھوگا نہ وہ کہ جن کے خاطر اللہ کے حکموں کو توڑا اور نہ وہ نفس کہ جس کی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے نماز اور اللہ کے حکم پیچھے چھوڑے

اب قبر کا وہ گڑھا ھوگا جہاں سے بھاگ کے جانے کا بھی کوئ راستہ نہیں ھوگا وہاں کوئ واٹس آپ یا انٹرنیٹ کنکشن بھی نہ ھوگا کہ گھر والوں کو بتا تو دوں کہ مجھ پہ کیا بیت رھی ھے خدارا تم اعمال اچھے کرکے آجانا کہیں تمھیں بھی یہی سب نہ سہنا پڑے (خدانخواستہ )

اللہ اس دن کے آنے سے پہلے ھمیں جگا دیں اور اپنی اپنی قیامت(موت) کی تیاری کی توفیق عطا فرمائیں آمین ثم آمین

تحریر اھلیہ ڈاکٹر عثمان انور

پسندیدہ مضامین

اسلامقیامت کے وقوع کی بحث اور آج کا مسلمان