15.9 C
Karachi
Thursday, February 22, 2024

سورة الحجرات اور بہترین اخلاقی تربیت

ضرور جانیے

یوں تو پوری سورت معاشرے کی اخلاقی اور روحانی تربیت کے قواعد پر مشتمل ھے
لیکن 11/ 12 نمبر کی آیات میں خصوصی توجہ دلائی گئی
اکثر لوگ دوسروں کا مذاق اڑانے
دوسروں کو حقارت سے کوئ لقب دے کے پکارنے
اور انکو طعنہ دینے
بدگمانی اور غیبت کے گناہ میں مبتلا ھیں
قرآن نے ان کو “فسق “یعنی کبیرہ گناہ کہا ھے
کیا ھم سورہ الحجرات کی تلاوت کرتے ھیں؟؟؟
اس پہ ایمان رکھتے ہیں؟؟؟
پھر کیسے دوسروں کو طعنہ دیتے
انکا مذاق اڑاتے ھیں؟؟
انکے برے برے نام رکھتے ہیں؟؟
غیبت کرتے ہیں؟؟
گویا ھم عمل سے سورہ الحجرات
کا انکار کرتے ھیں
خدارا قرآن پہ پورا ایمان لائے اور اس کے حکموں کو مانئے
تلاوت کے معنی ایسا پڑھنا ھے جس پہ عمل بھی ھو تب پورا اجر مرتب ھوگا ان شاءاللہ
جو کسی مسلمان کو حقیر سمجھتا ھے اس کے عیبوں کی نشاندہی اس کا مذاق اڑانا
یہ اتنے بڑے گناہ ھیں کہ حشر کے میدان میں ایسے شخص کو سب کے سامنے رسوا اور ذلیل کیا جائے گا
مسلمان کی بے عزتی کرنے والے کی نمازیں روزے نفلی عبادتیں کچھ کام نھی آئیں گی
اس دعوت کو عام کریں کہ اپنی زبان اور ھاتھ کی ایذاء سے دوسرے مسلمان کو محفوظ رکھنے والے کو هي مسلمان کہا گیا ھے ورنہ دوسروں کو زبان یا ھاتھ سے تکلیف پہنچانے دوسروں کا حق مارنے والا قیامت کے سب سے مفلس ھوگا
اس کی سب نیکیاں لے کر اس شخص کو دے دی جائیں گی جس کو تکلیف پہنچائ یا اس کا حق مارا ھوگا
پھر جب نیکیاں ختم ھوجائیں گی تو اس مظلوم کے گناہ لے کر اس ظالم کے اعمال نامہ میں ڈال دئیے جائیں گے تاکہ اس کی دی گئ تکلیف کا ازالہ ھوجائے اس لئے حدیث شریف میں ایسے شخص کو سب سے مفلس کہا جس کی نیکیاں دوسروں کو تکلیف پہنچانے اور انکا حق مارنے سے بٹ جائیں گی
خدارا دوسروں کو تکلیف پہنچانے سے حتی الامکان بچئے یہ بھت خسارے کا سودا ھے
ھر مسلمان کی عزت کیجئے اور سب کو اچھے ناموں سے پکارئے
اس کا عملی نمونہ گھر کے افراد کے ساتھ پیش کیجئے کیونکہ

“”حدیث شریف میں سب سے اچھے اخلاق والا اس کو کہا گیا جو اپنے اھل خانہ کے ساتھ اچھا رویہ رکھے””

“”اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشخبری سنائی( مفھوم ھے) کہ تم میں اچھے اخلاق والا میرے اتنا قریب ھوگا جیسے دو انگلیاں “””

اور اچھے اخلاق کا مطلب دوسروں کو انکی غلطیوں پہ معاف کرنا اور احسان کا معاملہ کرنا ھے
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
نے 3 باتوں کو اصول بنانے کا حکم فرمایا
جس نے ان پر عمل کیا اس کا کسی سے کوئ جھگڑا رہ ھی نھی سکتا اور وہ یقینا بہترین اخلاق والا کہلائے گا
اور وہ تین باتیں یہ ھیں فرمایا:

1-جو تم سے توڑے اس سے جوڑو
2-جو تم سے روکے اسے دو
3-اور جو تم پہ ظلم کرے اسے معاف کردو
خصوصا صلہ رحمی کے رشتوں میں ھمیشہ درگزر اور جوڑ کر رکھنے والا اللہ کو اتنا پسند ھے

کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ تین کام اگر میں کرلوں تو مجھے کیا ملے گا
فرمایا کہ تجھ سے آسان حساب لیا جائے گا اور تجھے اللہ تعالی اپنی رحمت سے جنت میں داخل فرمائیں گے(المستدرک للحاکم 3912)

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے ھوئے سنا کہ اللہ تعالی فرماتے ھیں کہ میں ” اللہ ھوں میں رحمان ھوں اور رحم (رشتہ ناطہ) ھے کہ جس کا نام میں نے اپنے نام “رحمن” سے نکالا ھے لہذا جو اس” رحم “(رشتہ داری) کو جوڑے گا تو میں بھی اس کو اپنی (رحمت خاص) کے ساتھ جوڑوں گا
اور جو شخص اسے(رشتہ داری)یا (رحم ) کو کاٹے گا تو میں بھی اس کو اپنی رحمت خاص سے کاٹوں گا
(ابوداؤد 1694)

اللہ تعالی ھم سب کو اچھے اخلاق عطا فرمائیں رشتوں کو جوڑنے اور درگزر کی توفیق عطا فرمائیں اور سورة الحجرات پہ اور پورے قرآن پاک پہ دل سے ایمان اور خلوص سے عمل عطا فرمائیں آمین

تحریر اھلیہ ڈاکٹر عثمان انور

پسندیدہ مضامین

اسلامسورة الحجرات اور بہترین اخلاقی تربیت