29.9 C
Karachi
Thursday, June 13, 2024

عافیت اللہ تعالی کی عظیم الشان نعمت

ضرور جانیے

اگر اللہ تعالی کی بڑائ پر ایک لمحہ غور کریں تو کائنات کا یہ نظام کتنا حیران کن ہے کہ روزانہ سورج اپنے وقت پہ طلوع ھوتا ھے اور عین مقررہ وقت پر غروب ھوجاتا ھے
سورج کے غروب ہوتے ھی آسمان پہ چند ستارے جھلملاتے نظر آنے لگتے ہیں اور اس کے بعد چاند کی تاریخ کے حساب سے چاند کا گھٹتا اور بڑھتا وجود ہر ذی شعور اور صاحب عقل کو دعوت فکر دے رہا ھے کہ ھم غور کریں جبکہ سلف صالحین نے اللہ کی بڑائ پہ غور کرنے کے اس عمل کو (جس سے اللہ تعالی کی محبت اور عظمت دل میں بڑھ جائے اور مؤمن كے دل میں اللہ تعالی کی فرمانبرداری کا جذبہ بیدار ھو جائے)

ستر برس کی عبادت سے افضل قرار دیا ھے

یہی وجہ ھے کہ سلف صالحین کے یہاں غوروفکر کے لئے بھی باقاعدگی کے ساتھ روزانہ کچھ وقت مختص ھوا کرتا تھا جس میں بیٹھ کر وہ اللہ تعالی کی عظمت اور صناعی کے عظیم المرتبت کارناموں پہ غور کیا کرتے تھے اور یہی وہ عمل تھا جس کی وجہ سے عبادت کا شوق اور چستی روز بروز ترقی پاتا تھا

مثلا اگر “”عافیت “” کو لے کر غور کر لیا جائےکہ “”عافیت “” کیا ھے؟؟تو ھم دیکھتے ھیں کہ ھم روز اللہ کے فضل وکرم سے کھانا کھاتے ہیں

اور وہ الحمدللہ سانس کی نالی میں نھی جاتا اللہ تعالی نے ایک خاص ڈھکن سانس کی نالی پہ لگا دیا ھے کہ جو نوالہ نگلتے وقت انتہائی الرٹ رہتا ھے اور ایک دم بند ھوجاتا ھے اور یوں وہ نوالہ پھسل کر غذا کی نالی سے ھوتا ھوا منہ اور غذا کی نالی میں پیدا ھونے والے خاص لعاب کی مدد دے معدہ میں پہنچ جاتا ھے اور پھر آگے معدہ کو حکم ھوتا ھے اس کی دیواریں نوالہ پہنچتے ھی خاص مواد یا لعاب خارج کرتی ھیں جن کی مدد سے یہ نوالہ معدہ میں پس کر آخر کار کچھ جگر اور کچھ آگے بڑی آنت کی طرف چلا جاتا ھے گویا ایک طرف غیر ضروری مادوں سے فضلہ تیار ھوتا ھے

تو دوسری طرف طاقتور اور صالح غذا سے خون کی تیاری اور صفائ کا عمل جاری رہتا ھے
اور اسی طرح کا عمل ھمارے 2 گردے بھی روز انجام دے رھے ھوتے ھیں اور یہ کتنی عجیب بات ھے کہ اللہ تعالی نے دل معدہ اور جگر جیسے بڑے اعضاء جسم میں ایک ایک بنائے لیکن گردے “دو” بنائےجن کا کام خون سے غیر ضروری اور فاسد مادوں کو علیحدہ کرکے پیشاب کی صورت میں خارج کرنا ھےاور اس عمل کی اھمیت ھم کسی گردے کے مریض اور ڈائلائسسز کے مریض سے پوچھیں

اور جن مریضوں کا ایک گردہ خراب ھوجائے اور وہ دوسرے گردے کی مدد سے زندگی گزارتے ھیں یا کسی مریض کو کوئ صحت مند قریبی رشتہ دار اپنا گردہ دے دے (ڈونیٹ کردے) تو اس وقت اندازہ ھوتا ھے کہ اللہ تعالی کا کوئ کام حکمت سے خالی نہیں اسی لئے اللہ تعالی نے انسانی جسم میں دو گردے بنائے

کائنات کا نظام

بات “عافیت ” کی ھورھی تھی کہ کائنات کا نظام اپنی عادت کے مطابق چلتا رھے اور ھماری زندگی میں روز اپنے عادت کے کام اور علم و ترقی کے مراحل حسن و خوبی سے طے ھوتے رھیں تو یہ بھت بڑی نعمت ھے جس کا نام عافیت ھے اور اللہ تعالی جس کو عافیت کی نعمت عطا فرمائیں اس سے بڑی کوئ نعمت نھی اس کا اندازہ خصوصا آجکل فلسطینی مسلمانوں کے حال کو دیکھ کر باآسانی لگایا جاسکتا ھے جن میں سے اکثریت کے پیارے زندگی کی بازی ہار کر شھادت اور جنت کا سرٹیفکیٹ لے چکے ہیں

اور جو بچے ھیں وہ کھلے آسمان کے نیچے کھانے پینے تک سے محتاج بیٹھے ھیں (اگرچہ انکی یہ جدوجہد اور قربانیاں ایک بھت عظیم مقصد کے لئے ھیں جس سے ھم سب بخوبی واقف ھیں اور ھر مسلمان ان کی کامیابی کے لئے دعاگو بھی ھے) لہذا ھم غور کریں تو زندگی میں سب سے بڑی نعمت “” عافیت “” ھے

اور اس میں صحت امن و امان معاشی استحکام معاشرتی خوشحالی یا آسودگی گھروں میں آپس میں سلوک اتفاق کا ماحول تھوڑے رزق پہ قناعت کی صفت اور سب سے زیادہ بڑی نعمت اور رحمت اللہ تعالی کی توحید کا عقیدہ اور اللہ تعالی پہ مکمل بھروسہ اور اس کے بعد پانچ وقت کی پابندی کی نماز کی توفیق اور حلال کمائ کی فکر اور حرام اور گناھوں سے بچنے کی لگن اور کوشش یہ سب نعمتیں جسے نصیب ھوگئیں وہ دراصل دنیا کا سب سے امیر ترین اور خوش نصیب انسان ھے

چاھے وہ کسی چھوٹی سی جھونپڑی میں ہی کیوں نہ ھو آج ھم سب کو اس بات کا تذکرہ ہر روز گھروں میں کرنے کی ضرورت ھے جسے اللہ تعالی کی رضا میں راضی رہنے کی صفت نصیب ھوگئ وہ بھت خوش نصیب ھے اسے کبھی کوئ غم نہ ھوگا نہ ڈپریشن ھوگا.

تھوڑے رزق پہ راضی ھوجاتا

اور اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا
کہ جو اللہ تعالی کی طرف سے ملنے والے تھوڑے رزق پہ راضی ھوجاتا ھے تو اللہ اس سے تھوڑے عمل پہ راضی ھوجاتے ہیں ( حدیث مشکوة المصابيح 5263)

لہذا جب ھم اللہ تعالی کی بڑائ پہ غور کرتے ہیں تو انکی دی ھوئ ہر نعمت کی قدر محسوس ھونے لگتی ھے اور پھر ھم سوچنے لگتے ہیں کہ ھمیں زندگی صحت رزق عزت خوشی عافیت یہ سب نعمتیں دینا اللہ تعالی پہ فرض تو نھی یہ تو انکی مہربانی ھے کہ وہ ھمیں مستقل نعمتیں عطا فرما رھے ھیں .

اور انہیں ھماری عبادت اور نماز کی بھی ضرورت نھی یہ تو ھماری خوش نصیبی ھوگی کہ ھمارے اندر یہ احساس پیدا ھو کہ اتنی نعمتیں عطا فرمانے والے رب کا حق ھے کہ ھم ان کی عبادت بہت محبت سے کریں اور وہ ھم سے اتنی محبت کرتے ھیں تو ھمارا بھی فرض ھے کہ انکا ذکر کثرت سے کریں کیونکہ ان کا وعدہ ھے کہ
سورہ ابراھیم :7 “”لئن شكرتم لأزيدنكم ولئن كفرتم ان عذابي لشديد””
کہ اگر تم شکر ادا کروگے تو میں تمھاری نعمتوں کو بڑھا دونگا اور اگر ناشکری (کفر) کروگے تو میرا عذاب (پکڑ) بھت شدید(سخت) ھے

اللہ تعالی ھمیں ھمیشہ اپنی بڑائ پہ غور کرنے اور نعمتوں کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین ثم آمین

تحریر اھلیہ ڈاکٹر عثمان انور

پسندیدہ مضامین

اسلامعافیت اللہ تعالی کی عظیم الشان نعمت