23.9 C
Karachi
Tuesday, February 27, 2024

مایوس نہ ھوئیے کیونکہ مایوسی کفر ھے

ضرور جانیے

ہر وقت پریشانی ڈپریشن نے اس کے مزاج کو انتہائی چڑچڑا کردیا تھا ہر وقت دماغ ایک مایوسی کی کیفیت میں مبتلا رہتا تھا موبائل پہ ویڈیو گیم اور چیٹنگ پھر تھک کر سو جانا
بس یہی زندگی رہ گئ تھی پڑھنے کا تو بالکل دل نھی چاہتا تھا امی ابو بھی اب کہہ کہہ کر تھک چکے تھے بس دماغ کی سوئیں یہیں اٹک گئ تھی کہ مجھے دنیا میں وہ آسائشیں کیوں نھی ملیں جو دوسروں کو ملی ہیں
کیا میرے ساتھ ہی یہ مشکلات آنی تھیں ؟دنیا کے اور لوگ بھی تو سکون کی زندگی کاٹ رھے ھیں آخر میری زندگی میں سکون کیوں نھی ھے ہر وقت اس سوچ نے دل کو توڑ کر رکھ دیا تھا
اب نہ کھانے کا مزہ تھا نہ پینے کا بس زندگی بے کار سی لگنے لگی تھی دل چاہتا تھا کہ موت آئے اور بس گہری نیند سوجاؤں یونہی مایوسی کی کیفیت میں زندگی گزر رھی تھی ایک دن رات کو اچانک پیٹ میں درد اٹھا یہاں تک کہ امی ابو کو اسے ہسپتال لے جانا پڑا
خالد درد سے بری طرح تڑپ رہا تھا پھر الٹیاں بھی شروع ھوگیئں نہ جانے کیا ھوگیا تھا
اتنے میں ڈاکٹر صاحب نے چیک اپ کرکے بتایا کہ بدہضمی کا درد ھے ابھی ایک ڈرپ لگائیں گے اینٹی بائیوٹک وغیرہ کے ساتھ ان شاءاللہ بھت جلد آرام آجائے گا
چنانچہ کچھ دیر بعد ہی درد میں کچھ کمی آنی شروع ھوئ تو اسے سکون محسوس ھوا اتنی دیر میں ابو کے آفس جانے کا وقت ھونے لگا
ادھر امی نے کہا کہ میں تمھارے لئے کچھ بناکر لاتی ھوں تم کچھ دیر انتظار کرو
ڈاکٹر صاحب جاننے والے تھے لہذا کوئ فکر نہ ھوئ اور امی ابو چلے گئے
اتنے میں ایک لڑکا اسی کی عمر کا انتہائی شدید درد میں مبتلا آیا جس کی چیخوں سے ہسپتال گونج گیا
اس کا دل بھت پریشان ھوا
اسے برابر والے بیڈ پر لٹایا گیا اور ڈاکٹر صاحب نے معائنہ شروع کیا
اس لڑکے کا حلیہ بھت ہی خستہ تھا پھٹے ھوئے پرانے کپڑے اور چہرے پہ فاقوں کے اثرات
جب اس لڑکے کو انجکشن ڈرپ وغیرہ دے دی گئ تو غنودگی میں چلا گیا اتنی دیر میں ڈاکٹر صاحب خالد کے پاس آئے اور پوچھا اب آپ کی طبیعت کیسی ھے اس نے کہا اللہ کا شکر اب بہتر محسوس کررھا ھوں
تنہائ اور موقعہ غنیمت جان کر اس نے پوچھا ڈاکٹر صاحب یہ برابر والا لڑکا کون ھے اور اسے کیا ھوا ھے؟
ڈاکٹر صاحب نے کہا
بیٹا خالد یہ ایک غریب کوڑا چننے والا ھے
جس کا دنیا میں کوئ نھی سوائے ایک بوڑھی ماں کے
بیچارہ روز مزدوری کرتا ھے اور چند پیسوں سے انتہائی گئ گزری خوراک کھاتا ھے آئے دن اسے ڈائریا اور فوڈ پوائزن ھوتا رہتا ھے تم دیکھو اس کے حلیہ سے ہی اندازہ ھورھا ھے
خالد نے ایک دم ڈاکٹر صاحب سے سوال کیا
ڈاکٹر صاحب اس کو مایوسی نھی ھوتی کہ یہ بھی کوئ زندگی ھے بس مر جانا چاہئے
ڈاکٹر صاحب خالد کی ذہنی کیفیت سے آگاہ تھے
بولے بیٹا یہ لڑکا ھمیشہ خوش نظر آتا ھے کیونکہ اس کی ماں نے اسے یہ تربیت دی ھے کہ اللہ کی تقدیر پہ ھمیشہ راضی رھو اور کبھی کسی بات پر اللہ سے شکوہ نہ کرو اگر کوئ نعمت نہ بھی ھو تو ان نعمتوں کو دیکھو اور ان کی قدر کرو جو آپکے پاس موجود ھیں اور دنیا میں اپنے آپ کو علم اور محنت سے منواؤ
اور علم اور محنت یہ دو چیزیں کبھی نہ چھوڑو کیونکہ ان دو چیزوں کو ساتھی بنالیا تو تم زندگی میں کبھی ناکام نھی ھوسکتے
جو لوگ اپنا وقت ضائع کرتے ہیں انہیں زندگی بھی ضائع کردیتی ھے
اور پھر دنیا میں انکی نہ کوئ عزت ھوتی ھے نہ ان سے کوئ محبت کرتا ھے

دیکھو یہ اتنا ھمت والا لڑکا ھے کہ ماں کے علاوہ کسی کا پیار نھی ملا باپ بھی سر پہ نھی لیکن یہ صبح کوڑا چننے جاتا ھے اور شام کو محلے کے ایک ٹیچر کے پاس پڑھتا ھے کچھ دن پہلے مجھے خوشخبری سنانے آیا تھا کہ میٹرک میں پاس ھوگیا اچھے نمبروں سے اور اب میں آگے پڑھوں گا
ڈاکٹر بننے کا خواب ھے اس کا
اچھا ڈاکٹر صاحب
خالد نے حیرانی سے کہا
ہاں بیٹا یہ زندگی بھت تھوڑی سی ھے اور ھمیں یہاں موقعہ ملا ھے کہ کیسے اپنے رب کو بھی راضی کریں اور اس دنیا میں بھی علم اور محنت سے اپنا مقام بنائیں
چلو آپ آرام کرو آپ کی والدہ آتی ہی ھونگی
ڈاکٹر صاحب کے جانے کے بعد اس کے دماغ میں گویا ہلچل مچ گئی ھو
میں نے سوچا ہی نھی کہ میرے پاس کتنی نعمتیں ھیں
پیارے ابو امی کس محبت سے رات اپنی نیند خراب کرکے مجھے یہاں لائے اور اتنے پیسے خرچ کرکے اب میرا علاج کرارھے ہیں
اور ایک یہ لڑکا بیچارہ درد میں خود اکیلا چل کر ہسپتال آیا اور ڈاکٹر صاحب نے ترس کھاکر بغیر فیس کے اس کا علاج شروع کردیا کیونکہ اس کے پاس نہ پیسے ہیں نہ کوئ اس پہ پیسے خرچ کرنے والا اس کا کوئ پیارا ھے
واقعی والدین اور بہن بھائی کا وجود بھی کتنی بڑی نعمت ھے اللہ تعالی کی !!!
میری امی تو میرے لئے سوپ وغیرہ لینے گئ ھیں اس بیچارے کا تو کوئ بھی نھی میں اس لڑکے کی مدد کروں گا اور اس سے دوستی کروں گا یہ کتنا ھمت والا ھے اس سے ھمت اور تقدیر پہ راضی ھونا سیکھوں گا
بس اسے یوں لگا جیسے ذھن کے سارے بوجھ اتر گئے ھوں
اور وہ سوچنے لگا کہ اصل بنیاد یہ ھے کہ آپ مایوس تب ھوتے ھیں جب اللہ کے ناشکرے ھوجاتے ھیں ان کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چھوڑ دیتے ھیں اسی لئے تو اللہ تعالی نے مایوسی کو کفر قرار دیا ھے اگر ھم اپنے ارد گرد دیکھیں تو کتنے لوگ ھم سے زیادہ مشقت اور پریشانیوں کا شکار ھیں لیکن اللہ تعالی کا بھروسہ اور محنت اور لگن یہ بھت بڑی صفات ہیں جن کی وجہ سے زندگی کا حوصلہ اور اس زندگی میں لطف پیدا ھوتا ھے
بس آج سے میں کبھی مایوس نھی ھونگا اور اللہ کی ایک ایک نعمت پہ شکر ادا کرونگا اور مجھے بھی اب آگے بڑھنا ھوگا میں پڑھونگا اور علم اور محنت سے اپنے اللہ اور والدین کو راضی کرونگا اور جو وقت فالتو ضائع کردیا اس پر اللہ سے خوب استغفار کروں گا اللہ تعالی ضرور معاف فرماکر میری مدد فرمائیں گے ان شاءاللہ
اور مجھے یاد آیا ایک بار ابو نے یہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سنائی تھی کہ دنیا کی نعمتوں میں اپنے سے نیچے والے کو دیکھو اور اپنے سے اوپر کو نہ دیکھو اس طرح تم اللہ کی نعمتوں کو حقیر نہ جانوگے اور اس کا شکر ادا کرسکوگے

سچ ھے اللہ کا کوئ کام حکمت سے خالی نہیں ھوتا بس ھمارے چھوٹے ذہن اس حکمت کو سمجھ نہیں پاتے یوں رات میں اٹھنے والا پیٹ کا درد اور ہسپتال میں آنا اس کے لئے کتنی بڑی رحمت بن گیا جس سے اس کی زندگی میں انقلاب برپا ھوگیا
حقیقت میں اللہ اپنے بندوں سے بے پناہ محبت کرتے ھیں یہ بندے ھی ھیں جو رب کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا بھول جاتے ہیں
اللہ ھمیں اپنی ہر ہر نعمت پر شکر کی توفیق عطا فرمائیں آمین ثم آمین

تحریر اھلیہ ڈاکٹر عثمان انور

پسندیدہ مضامین

اردوسٹوریزمایوس نہ ھوئیے کیونکہ مایوسی کفر ھے