25.9 C
Karachi
Friday, April 19, 2024

نیٹ فلکس سے ہٹائی جانے والی فلم ’اناپورنی‘ کی ہیروئن نے معافی مانگ لی

ضرور جانیے

بھارتی اداکارہ نین تارا نے اپنی حالیہ تامل فلم ‘اناپورنی’ میں ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام پر معافی مانگ لی ہے۔

سوشل میڈیا اکاؤنٹ انسٹاگرام پر نین تارا نے ایک پوسٹ شیئر کی جس میں انہوں نے فلم میں اپنے کردار کے لیے معافی مانگی۔

اداکارہ نے لکھا کہ مثبت پیغام دینے کی ہماری مخلصانہ کوشش میں، ہم نے نادانستہ طور پر نقصان پہنچایا ہے۔ ہمیں توقع نہیں تھی کہ پہلے سینما گھروں میں دکھائی جانے والی سنسر شدہ فلم کو او ٹی ٹی پلیٹ فارم سے ہٹا دیا جائے گا۔

بھارتی اداکارہ کا مزید کہنا تھا کہ ‘میری ٹیم اور میں نے کبھی کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا ارادہ نہیں کیا اور ہم اس معاملے کی سنگینی کو سمجھتے ہیں۔ ایک ایسا شخص ہونا جو خدا پر مکمل یقین رکھتا ہے اور ملک بھر میں مندروں میں کثرت سے جاتا ہے۔ میں ان لوگوں سے معافی مانگتا ہوں جن کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔

نین تارا نے مزید کہا کہ ‘اناپورنا’ کے پیچھے مقصد ترقی اور حوصلہ افزائی کرنا تھا، نہ کہ پریشانی پیدا کرنا۔ گزشتہ دو دہائیوں میں فلم انڈسٹری میں میرا سفر ایک ہی ارادے سے چلایا گیا ہے اور وہ ہے مثبت سوچ پھیلانا اور ایک دوسرے سے سیکھنے کے عمل کو فروغ دینا۔

نیلیش کرشنا کی ہدایتکاری میں بننے والی اس فلم کی کہانی اناپورنی نامی ایک نوجوان خاتون کے گرد گھومتی ہے، جس کا کردار نین تارا نے ادا کیا ہے۔

کردار اپنے قدامت پسند برہمن خاندان اور پجاری والد کی مخالفت کا سامنا کرنے کے باوجود شیف بننے کا خواب دیکھتا ہے۔ اس حوالے سے نین تارا بھی گوشت کھانے لگتی ہیں اور انہیں نماز پڑھتے بھی دکھایا جاتا ہے جس پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔

یہ فلم دسمبر میں سینما گھروں میں ریلیز ہوئی تھی جسے ناظرین کی جانب سے ملے جلے جائزے ملے تھے۔

لیکن 29 دسمبر کو نیٹ فلکس پر اس کی ریلیز نے ایک نئی بحث کو جنم دیا۔ ہندو آئی ٹی سیل کے بانی اور ہندو کارکن رمیش سولنکی نے ممبئی میں فلم سے جڑے کئی لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے۔

ان افراد میں نین تارا، ساتھی اداکار جے، ہدایت کار کرشنا، پروڈیوسر زی اسٹوڈیوز اور نیٹ فلکس انڈیا کی سربراہ مونیکا شیرگل شامل ہیں۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق شکایت میں فلم پر بھارتی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

فلم پر ‘لو جہاد’ اور کردار فرحان کے قابل اعتراض مکالموں کو فروغ دینے کا بھی الزام لگایا گیا تھا۔

نیٹ فلکس نے 11 جنوری کو اس فلم کو اپنی لائبریری سے ہٹا دیا تھا۔ تاہم اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ ریمیک کے ساتھ کب ریلیز کی جائے گی۔

پسندیدہ مضامین

شوبزنیٹ فلکس سے ہٹائی جانے والی فلم ’اناپورنی‘ کی ہیروئن نے معافی...