15.9 C
Karachi
Friday, February 23, 2024

ماں کا وجود

ضرور جانیے

جو تو نے بزم سجائ تھی اب وہ سونی ھے
اے میری ماں تیرے دم سے تھیں رونقیں گھر کی

تیرا وجود سراپائے رحم وشفقت تھا
تھیں تیرے دم سے مقدس وہ ساعتیں گھر کی

تو دکھ کو جھیل کر خوشیاں بکھیر دیتی تھی
صبر سے تو نے بڑھا دیں تھیں عظمتیں گھر کی

میں بھول پاؤں نہ معصوم سا تیرا چہرہ
تیرے وجود سے باقی تھیں راحتیں گھر کی

نہ خالی پیٹ کوئ مہمان جاسکے گھر سے
انہیں اصولوں سےقائم تھیں برکتیں گھر کی

کبھی شکن نہ تھا ماتھے پہ گھر کے کاموں سے
خوشی سے جھیلتی تھی سب صعوبتیں گھر کی

کبھی نہ دیکھا کہ سودا سلف کی کال پڑے
سلیقہ سے تھیں فراہم ضرورتیں گھر کی

کبھی خیال نہ رکھتی تھی اپنی خواہش کا
دل و دماغ میں رہتی تھیں حاجتیں گھر کی

کسی محل میں رہیں ساری نعمتیں ھوں مگر
تمام خوشیوں سے افضل محبتیں گھر کی

نہیں حلال کوئ شکوہ ایسی ہستی پر
جسے نصیب ھوماں باپ اور سعادتیں گھر کی

کبھی نہ ماؤں کو تم بوجھ کی طرح سمجھو
یہ مائیں ہی تو ھوتی ھیں جنتیں گھر کی

اے میری ماں تیری روح کو سکون ملے
فرشتے جب بھی تجھے دیں شہادتیں گھر کی

اے میری ماں تو ھو جنت کے بالا خانوں میں
ھماری نیکیاں پہنچیں بشارتیں گھر کی

کلام اھلیہ ڈاکٹر عثمان انور

پسندیدہ مضامین

شاعریماں کا وجود