29.9 C
Karachi
Saturday, February 24, 2024

سورة الواقعة

ضرور جانیے

آئیے کچھ دیر” سورة الواقعة ” پہ غور کریں کیونکہ قرآن پاک میں غور کرنا سب سے افضل عبادت ھے

سورة الواقعة میں اللہ تعالی نے حشر میں جو جماعتوں کا نقشہ کھینچا تو بیان فرمایا کہ
“وکنتم ازواجا ثلاثة” فاصحاب الميمنة ما اصحاب الميمنة” واصحاب المشئمةمااصحاب المشئمة” والسابقون السابقون اؤلئك المقربون”

کہ تم 3 قسموں پہ گوجاؤگے دائیں طرف والے بائیں طرف والے اور مقربین بندے جو سب سے آگے بڑھے ھوئے ھو نگے

مفسرین کرام کے مطابق سابقون سے مراد وہ مقربین بندے ھیں جن میں سب سے پہلے انبیاء کرام علیہم السلام اس کے بعد تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین .اور تیسرے نمبر پر تمام اللہ تعالی کے مخلص اولیآء کرام جن میں تابعین کرام اور تبع تابعین کرام سر فہرست ہیں
اسی لئے فرمایا کہ ایک بڑی جماعت پہلے لوگوں میں سے ھوگی.

اور تھوڑے آخر کے زمانے سے بھی بھت اعلی درجہ کے مقربین اولیآء کرام ھوں گے اور چونکہ یہ تقوی اور ہر نیکی میں(بھت آگے بڑھنے) سبقت لے جانے والے تھے اسی لئے انہیں “سابقون ” کا لقب بھی عطا کیا گیا.اور یہ اللہ تعالی کے سب سے پسندیدہ بندے ھیں جو آج کے دور میں بھی ھونگے اسی لئے فرمایا کہ کچھ یا قلیل بعد والوں میں سے بھی ھونگے
کاش کہ ھمیں دنیاوآخرت میں ان مقربین حضرات کی صحبت میسر آجائے آمین ثم آمین

پھر اصحاب المشئمة يا اصحاب الشمال بائیں طرف والے ان میں بالاتفاق تمام کفار منافقین مشرکین اور ملحدین وغیرہ شامل ہیں .جو جہنم میں ھمیشہ ھمیشہ کے لئے ڈال دیئے جائیں گے
(اللہ محفوظ فرمائیں آمین )

تیسرے نمبر پہ ایک بڑی جماعت پچھلے اور اگلے لوگوں میں سے ھوگی جو “”اصحاب یمین””دائیں طرف والے ھونگے.ان کی پھر دو قسمیں ھونگی ایک توان میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے کے انکے خاندان والے اور اسکے بعد کے تمام وہ متقی نیک لوگ جن کی زندگی اللہ کے دین کی اشاعت اور اللہ کو راضی کرنے گناہوں سے بچنے کی محنت میں بسر ھوئ اور انجام بالخیر ھوا اور ان شاءاللہ یہ حضرات بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش کی برکت سے بلا حساب وکتاب جنت کے داخلے کے مستحق ھونگے

فرق صرف یہ ھے مقربین اور ان دائیں طرف والوں کے مغفور بندوں کے جنت کے رتبوں یا درجوں میں فرق ھوگا.جبکہ اصحاب یمین یعنی دائیں طرف والوں کی دوسری قسم میں وہ لوگ شامل ھونگے جو دنیا میں مستقل گناھوں کے مرتکب ھونگے اور ڈھٹائی سے گناہ کرتے ھونگے کبھی توبہ بھی کریں تو فورا توڑ دیتے ھیں

ان حضرات کے لئے ” خطرناک “بات یہ ھے کہ خدانخواستہ اگر ان کی تقدیر غالب آگئ اور مسلسل گناھوں کی کثرت سے مرتے وقت کلمہ کی توفیق چھین لی گئ تو کہیں اصحاب شمال یا بائیں طرف والوں میں شامل نہ کردیجئے جائیں( اللہ اپنے فضل سے کلمہ والی موت ہر مسلمان کو عطا فرمائیں آمین )

ان اصحاب یمین میں گناہ گار مسلمان ھونگے انہیں پہلے جھنم میں جانا ھوگا اپنے ان گناھوں کے سبب جنہیں بھت ہلکا سمجھ بیٹھے تھے .اور پھر گناھوں کی سزا بھگتنے کے بعد یا درمیان میں سفارش حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یا نیک لوگوں کی کام آگئ تو جھنم سے نکال کر کلمہ کی بدولت ھمیشہ کہ لئے جنت میں ڈال دیا جائے اس وقت کافر آرزو کریں گے.

سورہ الحجر آیت 2 ریما یود الذين کفروا لو کانوا مسلمین ” “کہ کافر آرزو کریں گے کہ کاش ھم بھی (کلمہ گو) مسلمان ھوتے”
كتني عجيب بات ھے کہ اللہ تعالی سورہ البقرة میں آیت 175 میں شکوہ فرمارھے ھیں
“کہ تمھیں کیا ھوگیا کہ “آگ” پہ صبر کر بیٹھے ھو؟؟؟

خصوصا ھم گنہگار مسلمان غور کریں کہ کہ جب ھم کسی ملک میں رہائش کے لئے جانا چاھتے ھیں تو پہلے اس کے قوانین معلوم کرتے ہیں اور ڈرتے ہیں کہ کہیں کسی قانون کو توڑ دینے سے سزا بھگتنے جیل نہ جانا پڑ جائے چاھے ایک دن یا چند گھنٹوں کے لئے ھی کیوں نہ ھو.تو کیا ھم نے سوچا کہ” جھنم “جس کی خوفناک سزائیں اللہ تعالی خوب بیان فرماچکے .ھمیں اس میں 2 منٹ جانے کی بھی ھمت کیسے ھوگی؟؟

اگر یہ بات عقل و شعور کو استعمال کرکے سوچ لی جائے تو آج گناہ چھوڑنا بھت آسان ھوجائے.لیکن ھم سوچتے ہی نہیں کہ عقیدہ آخرت مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ھونا
اور ہر ہر گناہ اور ثواب کا حساب کتاب ھونا برحق اور پکا ٹھکا ھے کوئ اس سے بھاگ نھی سکتا اور عقیدہ آخرت کی مضبوطی کے بغیر مسلمان ، مسلمان ھرگز نھی ھوسکتا .کیونکہ کافر اور مشرکین مکہ کا یہی تو سوال تھا کہ کیا مرنے کہ بعد ھم دوبارہ اٹھائے جائیں گے؟؟؟

لہذا گناہ کو ہلکا یا حلال سمجھ بیٹھنا دراصل یہی عقیدہ آخرت کی کمزوری ھے اور جس دل میں اللہ تعالی کی عظمت اور بڑائ ھوگی بھلا وہ کیسے گناہ کر پائے گا آج جھوٹ کینہ بغض دھوکہ فریب اخلاقی برائیاں اور “فحاشی و بے حیائی ” کا جو طوفان امڈ آیا ھے اور یہ میڈیا نے ھمیں بے حیائی کی زنجیروں میں جکڑے چلا جارھا ھےحتی کہ ھم بھول گئے کہ مسلمان ھونے کے باوجود اس خوفناک جھنم میں انہی گناھوں کے سبب کچھ وقت کے لئے جانا ھوگا
اس خوفناک غفلت سے نکلنے کے لئے 5 ضروری کام ھیں

نماز کی پابندی کرنا (خوب دھیان اور خشوع والی نماز)
قرآن پاک کی تلاوت کرنا روز چاھےایک پاؤ حصہ ہی کیوں نہ ھو اور مسلسل زبان پہ استغفار تیسرا کلمہ اور درود شریف پڑھنا
روز اپنی موت کو یاد کرنا کہ نہ جانے کب اور کیسی آئے گی کیونکہ موت کی یاد سے گناہ چھوڑنا بھت آسان ھوجاتا ھے
4- کسی حق علماء اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنا ان سے جڑ جانا
تو جیسے مال گاڑی کا ڈبہ عام مسافر ٹرین سے جڑ جاتا ھے اور آخر کار انہی کہ ساتھ منزل پہ پہنچ جاتا ھے اس طرح نیک لوگوں کے ساتھ جڑ کر امید ھے ھم بھی انکی برکت سے جنت کی منزل میں داخل ھوسکیں
تمام گناہ چھوڑنے کا دل سے عزم کرنا اور فوری طور پہ چھوڑنے کی کوشش کرنا اور یہ دعا “ربنا آتنا فی الدنیا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار “
اس دعا کو معنی کے دھیان سے ہر وقت پڑھنا کہ اس کا مطلب دنیا اور آخرت کی بھلائی اور فلاح کا سوال

اور خصوصا “اللہ ھمیں ہر گناہ سے سچی توبہ کرکے بچنے کی توفیق عطا فرمائیں اور جہنم کی آگ سے مکمل محفوظ فرمائیں آمین “اور گناھوں سے بچنے اور اللہ سے ڈر کر چلنے کا نام ھی ” تقوی ” ھے .

اللہ تعالی نے سورة النازعات آیت 40 /41
میں فیصلہ فرمادیا ھے کہ جو اللہ کے سامنے ( سوال و جواب کے لئے حشر میں ) کھڑے ھونے سے ڈرے گا اور اپنے نفس کو(حرام ) خواہشات اور کاموں سے روکے گا بس اسی کا ٹھکانہ ھمیشہ ھمیشہ کی “جنت ” ھوگی ان شاءاللہ

لہذا یہ 👆 اھم ترین دعا ھے جو ہر مسلمان کو کثرت سے اپنے لئے کرنی چاھئے
تاکہ اللہ ھمیں اس خوفناک جھنم کے ایک لمحہ کے داخلہ سے بھی محفوظ فرمائیں اور بلا حساب وکتاب جنت میں داخل ھونا نصیب فرمائیں آمین ثم آمین

تحریر اھلیہ ڈاکٹر عثمان انور

پسندیدہ مضامین

اسلامسورة الواقعة