29.9 C
Karachi
Sunday, May 19, 2024

پراپرٹی کیس،عدالتی وقت ضائع کرنا وکیل کو مہنگا پڑ گیا

ضرور جانیے

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل پر 5 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا، جرمانے کی رقم اپنی پسند کے خیرات میں جمع کروائیں اور رسید جمع کرائیں، عدالت نے ہدایت کی۔

اسلام آباد-عدالتی وقت ضائع کرنے پر وکیل کو بھاری قیمت چکانی پڑی۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں جائیداد کیس کے حوالے سے سماعت ہوئی، چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل پر 5 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا، وکیل پر عدالتی وقت ضائع کرنے پر جرمانہ عائد کردیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وکیل نے متعلقہ دستاویزات کی جانب اشارہ کرنے کے بجائے عدالت کا وقت ضائع کیا، درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔

سپریم کورٹ

چیف جسٹس نے وکیل سے بات کی کہ عدالت کو اس عمل سے آپ پر اعتماد نہیں، جرمانے کی رقم اپنی پسند کے خیراتی ادارے میں جمع کروائیں اور رسید جمع کرائیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ میں زمین کے تنازع سے متعلق کیس میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سے دلچسپ گفتگو کی تھی۔

سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ پٹھان تو سب سے اچھے ہوتے ہیں، جتنا اخلاق آپ کو وہاں ملے گا ایسا کہیں اور نہیں۔ پٹھانوں کے بارے میں صرف ایک بات یہ ہے کہ وہ دشمنی کو لمبے عرصے تک جاری رکھتے ہیں۔ اس موقع پر وکیل کا کہنا تھا کہ ‘میرے خیال میں میں نے ایسی بات غلط جگہ پر کہی ہے۔’ وکیل کے اس جملے پر عدالت ہنس پڑی اور چیف جسٹس نے اپنے ساتھی ججز کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ بنچ میں اس معاملے پر اتفاق رائے ہو گ۔ چیف جسٹس کی سزا پر کمرہ عدالت ایک بار پھر ہنسی سے گونج اٹھی۔

سماعت کے دوران وکیل نے کرایہ داری معاہدے کی تاریخ کا حوالہ دینے کے لیے آدھی اردو اور آدھی انگریزی میں بات کی۔ تو مجھے اردو میں بتائیں یا مکمل انگریزی بولیں۔

پسندیدہ مضامین

پاکستانپراپرٹی کیس،عدالتی وقت ضائع کرنا وکیل کو مہنگا پڑ گیا