29.9 C
Karachi
Saturday, February 24, 2024

نیا سال کیسے منائیں

ضرور جانیے

نوید بہت جلدی جلدی خوشی خوشی تیاریاں کرررھا تھا جیسے کہیں جا رھا ھوآخر اس سے رہا نہ گیا پوچھ ہی بیٹھی بیٹا کہاں کی تیاری ھے خیریت ھے؟؟؟

اس نے جواب دیا امی جان آپ کو تو پتہ ھے کل 31 دسمبر ھے” نیو ایئر” پہ ذرا یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ رات باھر کچھ انجوائے کرنے کا پروگرام ھے اسی کے لئے تیاریاں کرنے جارھا ھوں

وہ سن کر حیران ھوگئ دل کے اندر جیسے کچھ ٹوٹ گیا ھو اس کا اپنا بیٹا ایسے سوچے گا اس نے تصور بھی نہ کیا تھا لیکن زمانے کے اثرات نے نوجوان نسل کو ہر طرف سے گھیر لیا بھت دکھ کے ساتھ سوچتی ھوئ وہ اس کے پاس آئ اور بولی بیٹا کچھ دیر بیٹھو میری بات سنواور دل میں دعا کرنے لگی یارب میری بات میں اثر ڈال دینا

جی کہئے امی جان

بیٹا پہلی بات :: تو یہ کہ ھم مسلمان ھیں اور ھمارا سال محرم کی پہلی تاریخ سے شروع ھوتا ھے لہذا اس شمسی سال کی اھمیت صرف اتنی ھے کہ دنیا کے ساتھ چلنے کے لئے ھمیں تاریخ یاد رکھنا ضروری ھوتا ھے ,وگرنہ ھمارے دین کی ہر چیز قمری سال سے وابستہ ھے حتی کہ ھماری موت کا اور بچے کی پیدائش کا نظام بھی قمری اور اسلامی تاریخ کے مطابق چلتا ھے اور اسی کے مطابق ھماری تمام عبادات رمضان حج اشھر الحج وغیرہ میں نیک اعمال کے ثواب لکھے جاتے ہیں

دوسری بات

اللہ تعالی نے شریعت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ھمارے لئے مقتدی بنایا ھے لہذا جو کام انہوں نے نھی کیا وہ سخت بدعت کی بات ھوگی اور ضروری سمجھ کر کرنا سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ھے اور سخت گناہ ھے
تو کیوں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کبھی نئے سال کی ابتدا پر کوئ خوشی یا تقریب نھی منائ تو ھمارے لئے بھی یہ سب سنت کے خلاف ھے

تیسری بات :: مسلمان کے لئے اللہ تعالی نے اس دنیا کو قید خانے سے تشبیہ دی ھے
حديث شریف میں آیا “”کہ دنیا مؤمن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لئے جنت ھے”””

یہ اس لئے فرمایا ہے کہ مؤمن کو اس دنیا میں اپنی آخرت کی تیاری کی فکر ھوتی ھے اور اسے یقین ھے کہ ہر عمل کا حساب ھوگا اس لئے وہ پر وقت گناھوں سے بچنا چاہتا ھے کہ اللہ کے یہاں جاکر کیا جواب دونگا اور جس طرح قیدی کو قید خانے میں جیل کے قوانین کے مطابق چلنا پڑتا ھے اپنی مرضی نھی چلاسکتا اسی طرح مؤمن کو دنیا میں اللہ تعالی کے احکامات اور شریعت کی پابندی کے ساتھ زندگی گزارنی ھوتی ھے

اور جیسے قیدی قید کاٹ کر آزاد ھوجاتا ھے ایسے ھی مؤمن بھی یہ چند دنوں کی سختیاں کاٹ کر انتہائی خوبصورت جنت کے انعام کے ساتھ آزاد ھوجائے گا ایسی جنت جس میں اسے ھمیشہ ھمیشہ رہنا ھوگا اور وہاں اس کی ہر خواہش صرف دل میں سوچنے سے ہی پوری ھوجائے گی

جبکہ دوسری طرف کافر کو کل کے سوالات کا نہ یقین ھے نہ تیاری کی کوئ فکر اس لئے وہ اپنی من مانی کی زندگی گزار رہا ھےاور خوب مزے اڑا رھا ھے بظاہر اس کے لئے یہ دنیا اس کی جنت ھے جس کے بعد مرنے کے بعد اسے ایک خوفناک جہنم میں ھمیشہ ھمیشہ کے لئے ڈال دیا جائے گا

چوتھی بات :: سال ختم ھونے پہ موت سے اور قریب ھوگئے.لہذا بیٹے یہ سال جب مکمل ھوتا ھے نا تو مسلمان کے لئے بھت فکر کی بات ھے خوشی منانے کی نھی فکر یہ ھے کہ ھم موت سے ایک سال اور قریب ھوگئے ھیں اور اعمال ابھی انتہائی کمزور ہیں

پانچویں بات :: سال ختم ہونے پر اعمال کا جائزہ لینا

لہذا عقل مند وہ ھے جو سال ختم ھونے پر اپنا جائزہ لے کہ اس سال میری ایمان کی کیفیت میں کمی ھوئ یا زیادتی
نمازیں اس سال کیسی رھیں
اس سال قرآن پاک کتنا پڑھا
اس سال دوسروں کے کتنا کام آئے
اس سال دین کی تبلیغ کی کیا محنت کی
اس سال کسی رشتے دار کا دل تو نھی دکھا ھم سے اور صلہ رحمی کتنی ھوسکی
اس سال اللہ تعالی کی مناجات اور قربت اور ذکر کرنے کی توفیق میں کمی ھوئ یا اضافہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں پہلے سے اضافہ ہوا یا نھی

وغیرہ وغیرہ

چھٹی بات :: ایک جائزہ تو ھم نے دینی اور روحانی ترقی کا لینا ھے اور دوسرا جائزہ اپنے وطن سے متعلق ھے بیٹا
کہ ھم نے اپنے وطن کے لئے کیا کیا؟؟
اس وطن کے جو حالات ہیں اس میں قطرہ قطرہ دریا بنتا ھے کی مثال بنئے اور جس سے جو اچھا کام ھوسکتا ھے اس وطن کے لئے کیجئے اور ہر سال جائزہ لیجئے کی کیا ھم نے کوئ اچھا کام اپنے وطن کے لئے کیا
خصوصا پڑھنے والے بچے بھت جذبے سے اچھا پڑھیں کہ اپنے وطن کی کوئ نہ کوئ خدمت انجام دیں گے
ان شاء اللہ

ساتویں بات:: جو سب سے اھم بات ھے بیٹا
کہ اس وقت عالم اسلام پہ جو آفت آئ ھوئ ھے 3 ماہ ھونے والے ہیں اور ھم اپنی آنکھوں سے ظلم و بربریت کا وہ نظارہ دیکھ رھے ھیں جو کبھی ھماری آنکھوں نے اس سے پہلے نہ دیکھا تھا اور اس پہ اگر ھم عملی طور پر وہاں جاکر کچھ نھی کرسکتے تو کم از کم ہر مقام پر اپنے فلسطینی مظلوم بہن بھائیوں کو یہ پیغام تو دے سکتے ہیں کہ ھم آپکے غم میں شریک ہیں
مسلمان کو مسلمان کے غم اور دکھ کا احساس کرنا واجب ھے بیٹا
حدیث شریف کی رو سے مسلمان ایک جسم کی مانند ھیں جسم کے ایک حصے کو تکلیف ھو تو دوسرا ضرور متاثر ھوتا ھے
لہذا یوں تو دنیا کے کسی بھی حصے میں مسلمان تکلیف میں ھوں تو دوسرے مسلمانوں کو ان کا احساس کرنا چاھئے لیکن فلسطین کا معاملہ اس لئے بھی ھمارے لئے ریڑھ کی ہڈی کی مانند اھم ھے کہ اس سے مسجد اقصی کی آزادی وابستہ ھے اور یہ انبیاء کرام علیہم السلام کی سرزمین ھے جو آج ناپاک یہودیوں کے قبضے میں ھے اور وہ وہاں ظلم ڈھارھے ھیں
آج ھم فیس بک پر ان معصوم بچوں اور مظلوم لوگوں کی کٹی بھٹی اور مسخ شدہ لاشیں روز دیکھ رھے ھیں تو کیا اور ھمارے دل اتنے بھی نرم نہیں ھوتے کہ ھم اپنی خواہشات پہ کنٹرول کرلیں
اور یہ سوچ لیں کہ 2023 وہ خوفناک سال ھے جس میں صرف ظلما شہید ھونے والوں کی تعداد 20000 کے قریب ھوچکی ھے زخمی اور بے گھر افراد کی تعداد لاکھوں میں ھے ھم سوچیں ھم ان مسلمان بہن بھائیوں کی معصوم بچوں کی کوئ مدد کررھے ھیں؟؟یا انہیں دور سے ھلاک ھوتا دیکھ کر اپنی اپنی زندگیوں میں مگن ھیں؟؟اس سے بڑی دل کی سختی اور کیا ھوگی کہ ھم کچھ بھی نہ کریں

کم از کم یہ فضول پارٹیوں اور نیوایئر کے فنگشنز کے پیسے بچا کر ان مظلوموں کو بھیج دیں اور دور سے بیٹھ کر انکا غم کرکے انکے لئے دل سے دعائیں تو کر لیں یہ تو ھم کر ھی سکتے ھیں

کیا ایسے خوفناک سال کے اختتام پہ ھم نئے سال کی خوشیاں منائیں گے؟؟؟
اور فائرنگ کریں گے اور غل غپاڑہ کریں گے ؟؟؟اگر ھم نے ایسا کیا تو بیٹا خطرہ اس بات کا ھے کہ جو دوسرے مسلمان کے دکھ کو محسوس نھی کرتا اللہ تعالی اس پر بھی خدانخواستہ جلد ایسا وقت لے آتے ہیں کہ پھر اس کے دکھ کو محسوس کرنے والا کوئی نہیں ھوتا

اس لئے اپنے دوستوں کو بھی اس نیکی کی دعوت دو بیٹا کہ ھم اس سال ایسا کچھ نھی کریں گے بلکہ ھمیشہ کے لئے نئے سال کی خوشی منانا جو کافروں کا طریقہ ھے اسے چھوڑ کر اپنا جائزہ لینے کے لئے اپنی اپنی استعداد کے مطابق کچھ ایسی
مثبت اور تعمیری مجلسیں کریں گے جن میں ھم پچھلے سالوں کی کمی اور غلطیوں کی نشاندہی بھی کرسکیں

اور آئندہ کے لئے بہترین لائحہ عمل بھی تیار کرسکیں اور رھی دینی جائزے کی بات تو وہ اپنی اپنی تنہائی میں لینے کا اھتمام کریں کیونکہ ہر شخص کو خود بہتر علم ھے کہ اس کے اعمال کیسے ہیں اور انہیں اصلاح کی کتنی ضرورت ھے

واہ امی جان کیا بات ھے آپکی آپ نے تو میرا سارا موڈ ہی تبدیل کردیا واقعی آپ کی ہر بات سوفیصد درست ھے کتنی بے وقوفی کی بات ھے کہ عمر کا ایک سال گھٹنے اور کم ھونے پہ ھم نئے سال کی خوشیاں منائیں بس اللہ تعالی کا شکریہ عمل سے کرنا چاھئے اور اپنا جائزہ لے کر اعمال کی اصلاح میں لگ جانا چاھئے

بھت شکریہ امی جان آپنے بھت قیمتی نصیحتیں کیں جزاک اللہ خیرا

شکریہ بیٹا کہ تم نے نصیحت کو قبول کیا کیونکہ اچھی بات کو قبول بھی وہی کرتا ھے جو اصل میں خود اندر سے اچھا ھوتا ھے اچھا امی میں اپنے دوستوں تک اب یہ باتیں پہنچاتا ھوں آپ میری کامیابی کی دعا کیجئے گا.بالکل بیٹا اللہ تمھاری بات میں اثر ڈالیں اور تمھیں کامیابی عطا فرمائیں آمین ثم آمین

تحریر اھلیہ ڈاکٹر عثمان انور

پسندیدہ مضامین

بلاگزنیا سال کیسے منائیں