30.9 C
Karachi
Thursday, June 13, 2024

زیادہ سونے والے بچوں میں سیکھنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے

ضرور جانیے

برطانوی محققین کی ایک ٹیم نے کہا ہے کہ جن بچوں میں الفاظ سیکھنے اور علمی صلاحیتوں میں کمی ہوتی ہے وہ زیادہ سوتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حال ہی میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو بچے نیند کے دوران معلومات کو مستحکم کرنے میں زیادہ موثر ہوتے ہیں وہ کم سوتے ہیں جبکہ الفاظ سیکھنے اور علمی صلاحیتوں میں کمی والے بچے زیادہ سوتے ہیں۔

یونیورسٹی آف ایسٹ انگلیا کی جانب سے کی گئی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق جو بچے بہت زیادہ سوتے ہیں ان میں الفاظ کا ذخیرہ کم ہوتا ہے اور ان کی علمی صلاحیتیں کمزور ہوتی ہیں۔ یہ مسئلہ ان والدین کے لئے ایک عام تشویش ہے جو اکثر اپنے بچوں کی نیند کے بارے میں فکر مند ہوتے ہیں۔

تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ اگرچہ زیادہ نیند کا تعلق کم علمی صلاحیت سے ہے لیکن ایسے بچوں میں نیند کا دورانیہ کم کرنے سے دماغی نشوونما بہتر نہیں ہوگی۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو جتنا چاہیں سونے دیں۔

تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر تھیوڈورا گالیگا کا کہنا تھا کہ والدین اپنے بچوں کی نیند کے حوالے سے فکرمند ہوتے ہیں۔ والدین کو تشویش ہوتی ہے کہ ان کے بچوں کو ان کی عمر کے مطابق مناسب نیند نہیں مل رہی ہے یا وہ بہت زیادہ سو رہے ہیں، لیکن ہماری تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ بچے کی نیند کا دورانیہ ان کی انفرادی علمی ضروریات کی عکاسی کرتا ہے۔ کچھ بچے نیند کے دوران معلومات کو مستحکم کرنے میں زیادہ موثر ہوتے ہیں ، جبکہ علمی خسارے والے بچے زیادہ بار سوتے ہیں۔

پسندیدہ مضامین

بچےزیادہ سونے والے بچوں میں سیکھنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے