25.9 C
Karachi
Saturday, February 24, 2024

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت بڑھانا کیوں ضروری ھے

ضرور جانیے

ھم جانتے ھیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہر مسلمان کے ایمان کا نہ صرف جزء ھے بلکہ ہر مسلمان پر فرض ھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ محبت کرے
اور سورہ احزاب آیت 6 میں فرض قرار دیا گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت مؤمنين کے لئے ان کی جانوں سے بھی زیادہ ھونی چاھئے

اب سوال یہ ھے کہ یہ محبت کس طرح بڑھائ جائے اس کے بارے میں

5 بنیادی باتیں سلف صالحین نے ارشاد فرمائ ھیں کہ ان 5 اسباب کے تحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو دل میں بڑھایا جائے

محبت طبعی


انسان کو اپنے والدین سے طبعی اور فطری طور پہ سب سے زیادہ محبت ھوا کرتی ھے
لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا رتبہ روحانی والد کا ھے اسی لئے سورہ احزاب آیت نمبر6 میں فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت تمھیں تمھاری جانوں سے بھی زیادہ ھونی چاھئے
پھر حدیث شریف میں آیا
کہ تم میں سے کوئ مؤمن کامل نہی ھوسکتا جبتکہ میں اسے اس کے بیٹے اس کے والد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ھوجاؤں (بخاری ومسلم)
لہذا طبعی طور پر اس محبت کو خوب بڑھایا جائے گا

محبت عقلی


عقل سے سوچا جائے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ ھوتے تو آج ھم کہاں ھوتے کفر کی وادیوں میں بھٹک رھے ھوتے خدانخواستہ پھر جہاں دنیا کی زندگی شریعت مطھرہ کا انعام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے ھے وہیں آخرت میں جنت کا داخلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو راضی کئے بغیر ان کی سفارش کے بغیر ہرگز ممکن نہیں
اللہ تعالی نے سورة آل عمران آیت نمبر 31 میں فرمایا
کہ آپ فرمادیجئے کہ اے لوگو اگر تم اللہ سے محبت کرتے ھو تو میری (مکمل) اتباع یا پیروی کرو اللہ تم سے محبت فرمائیں گے اور تمھارے گناہ معاف فرمائیں گے اور وہ بھت معاف فرمانے والے مہربان ھیں

لہذا عقل کا تقاضہ ھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ محبت کی جائے

محبت احسانی


آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امت پہ ایک ایک احسان کو یاد کیا جائے

“کنتم خیر أمة “کا اعزاز ملنا

50 سے 5 نمازیں کروانا ایک نیکی پر دس اجر اور پھر 700 گنا اور صبر پر پہ بے حساب اجر کا وعدہ وغیرہ
ڈھیروں احسانات یاد کرکے محبت کا بڑھایا جائے کیونکہ انسان پر کسی کا احسان ھو تو اس سے خودبخود محبت ھوجاتی ھے

محبت جمالی


حضرت جابر ابن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ھے کہ ایک دن میں چاندنی رات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سرخ چادر اوڑھے ھوئے تھے میں کبھی آپ کو دیکھتا اور کبھی چاند کو پس واقعہ یہ ھے میرے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاند سے بھی زیادہ خوبصورت تھے
لہذا کسی کے جمال اور خوبصورتی کی وجہ سے اگر محبت کا کوئ سب سے زیادہ حقدار دنیا میں ھے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک ھے

محبت کمالی


دنیا میں اللہ تعالی کی وہ مخلوق جنہیں انسان کامل کہا جاتا ھے صرف اور صرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ ھے جن میں اللہ تعالی نے قریبا ڈیڑھ لاکھ انبیاء کرام علیہم السلام کی صفات جمع فرمائیں خلیل اللہ علیہ السلام کی انابت اور نرم دلی
ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام کی صبرواطاعت الہی کی صفت کلیم اللہ موسی علیہ السلام کی شوق الہی کی سبقت اور دین پہ مستعدی اور صبر واستقلال,عیسی مسیح اللہ علیہ السلام کی تابعداری معجزات اور دنیا سے زھد کی صفت ,یوسف علیہ السلام کا بھائیوں کی تکلیف پہ صبر اور جمال کی صفت غرض ہر نبی اکرم علیھم السلام کی صفات اللہ تعالی نے اپنے حبیب میں جمع فرماکر انہیں ایسا انسان کامل بنادیا کہ نہ ان سے پہلے ایسا انسان کامل گزرا اور نہ انکے بعد کبھی دنیا میں کوئ انسان کامل ھوسکتا ھے.

لہذا کمال اوصاف کی بنیاد پر اگر کائنات میں کوئ انسان قابل محبت ھے تو وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ ھے
ان سب باتوں کو بار بار ذھن میں لاکر اپنے نبی سے محبت کو بڑھایا جائے اور اس کے لئے درود شریف کی کثرت سنتوں پر عمل اور اخلاق نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہ عمل کی کوشش کی جائے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

اخلاق

“”قیامت کے دن تم میں میرے سب سے نزیک وہ ھوگا جس کے اخلاق سب سے اچھے ھونگے””(ترمذی)

اور بہترین اخلاق کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا بہترین ثبوت اور ضروری عمل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محنت کو اپنی محنت بنالیا جائے یعنی تبلیغ و دعوت کا کام کہ دنیا میں سب بندےاللہ سے جڑ جائیں اور اس امت کو اللہ تعالی اپنے کرم سے
” کنتم خیر أمة اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنهون عن المنكر وتؤمنون بالله “
(سورة آل عمران آیت 110)

کے اعزاز کو عمل سے ثابت کرنے کی توفیق عطا فرمادیں کہ جس کا مطلب ھے کہ
(اے مومنوں ) تم بہترین امت ھو جسے لوگوں کی ھدایت اور نفع رسانی کے لئے نکالا گیا ھے تم ہر خیر اور اچھائ کا حکم دیتے ھو اور برائ کی باتوں سے لوگوں کو روکتے ھو اور اللہ پہ یقین رکھتے ھو
اللہ تعالی ھمیں اس اعلی اعزاز کی حفاظت کرنے اور اچھی بات پھیلانے اور ہر بری بات سے خود بھی بچنے اور دوسروں کو بھی محبت سے روکنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین ثم آمین

تحریر اھلیہ ڈاکٹر عثمان انور

پسندیدہ مضامین

اسلامحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت بڑھانا کیوں ضروری ھے