29.9 C
Karachi
Saturday, February 24, 2024

“ہمیں محتاط رہنا ہوگا کہ کہیں اداروں کے درمیان آئینی توازن خراب نہ ہو”، شوکت صدیقی کا فیصلہ محفوظ

ضرور جانیے

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف اپیل کی سماعت کی جس میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید، خواجہ حارث اور شوکت صدیقی نے شرکت کی۔ حامد خان عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ شوکت صدیقی کے الزامات کو قبول کر رہے ہیں یا مسترد کر رہے ہیں؟ اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ ہم تمام الزامات کو مسترد کر رہے ہیں۔

شوکت صدیقی کے وکیل حامد خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید الزامات کی تردید کر رہے ہیں۔ .

چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا انکوائری ہوئی؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب شوکت صدیقی نے تقریر کا اعتراف کیا تو کوئی انکوائری نہیں کی گئی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے جو حقائق بتائے ہیں ان کی تحقیقات نہیں کی گئیں، اب بتائیں آپ کیا تجویز کرتے ہیں، کیسے آگے بڑھنا ہے؟ شوکت صدیقی کے الزامات سچ نہ ہوئے تو کیا ہوگا؟ شوکت صدیقی کیا کہہ رہے ہیں، مخالف جماعتیں اس سے انکار کر رہی ہیں، یہ معلوم کرنے کے لیے کیا کیا جائے کہ کون سچا ہے اور کون نہیں؟ کیا انکوائری میں الزامات درست ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن کیا پھر بھی انہیں عوامی سطح پر ہٹایا جا سکتا ہے؟ ہمیں اس مسئلے کا حل بھی بتائیں۔

شوکت صدیقی کے وکیل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ سپریم جوڈیشل کونسل کا حکم کالعدم قرار دے، میرے موکل کی تقریر کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ حامد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ ماضی میں کمیشن تشکیل دیتی رہی ہے۔

جسٹس قاضی فائز نے سوال اٹھایا کہ انکوائری میں الزامات جھوٹے ثابت ہوئے تو کیا جج کو ہٹانے کا فیصلہ برقرار رہے گا؟ ہم نے جن لوگوں پر الزام لگایا گیا تھا وہ فریق بننے کے لئے کہا، اب سچ کی جانچ کون کرے گا؟ ہم اس مسئلے کا حل تلاش کر رہے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ یہاں آئینی اداروں کے احترام کا سوال ہے، ان حالات میں سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں حکم جاری کرنا چاہیے، جس طرح الزامات لگائے گئے، کیا یہ ایک جج کے لیے مناسب تھا، ہمیں حقائق کو نہیں بھولنا چاہیے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ تقریر کرنے پر کسی جج کو ہٹایا جائے تو آدھی عدلیہ گھر چلی جائے گی۔ بار کونسلوں کے اجلاسوں میں بہت سے جج تقاریر کرتے ہیں۔ مسئلہ تقریر کا نہیں بلکہ تقریر کا متن ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب آپ اپنی تقریر میں کسی کے خلاف الزامات لگاتے ہیں تو برطانیہ میں جج بھی انٹرویو دیتے ہیں، امریکا میں سپریم کورٹ کے جج ز بھی مباحثوں میں حصہ لیتے ہیں، اگر الزامات درست ہیں تو شوکت صدیقی کیا ہیں کیونکہ کیا جج کا طریقہ کار مناسب تھا؟ تقاریر بھی دو طرح کی ہوتی ہیں، جج پر تقریر کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہوتی۔

جسٹس قاضی فائز نے استفسار کیا کہ کیا عدالت خود اس معاملے کی تحقیقات کر سکتی ہے؟ کیا سپریم جوڈیشل کونسل کیس کو آئینی طور پر پیش کیا جا سکتا ہے؟ اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ کیس سپریم جوڈیشل کونسل کو واپس نہیں بھیجا جاسکتا، شوکت صدیقی ریٹائر ہو چکے ہیں اور انہیں بطور جج بحال نہیں کیا جا سکتا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ فریقین تسلیم کر رہے ہیں کہ مکمل انکوائری نہیں ہوئی، جج کے خلاف کارروائی میں شفاف ٹرائل کا حق کہاں جائے گا؟

دریں اثنا اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ شوکت صدیقی کو انکوائری کے بغیر ہٹانا مقررہ قانونی تقاضوں کے خلاف ہے، انکوائری کے بغیر کسی جج کو نہیں ہٹایا جاسکتا، یہ بنیادی حق کا معاملہ ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا شوکت صدیقی پر فرد جرم عائد کی گئی؟ حامد خان نے کہا کہ شوکاز نوٹس دیا گیا لیکن کوئی فرد جرم عائد نہیں کی گئی، کونسل میں سابق چیف جسٹس اسلام آباد انور کاسی کے خلاف بھی کارروائی جاری ہے۔

جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ شوکت صدیقی کے خلاف کارروائی 2 ماہ تک جاری رہی، جواب بھی جمع کرایا گیا، یہ کہنا درست نہیں کہ شوکت صدیقی کو صفائی کا موقع نہیں دیا گیا، انہوں نے دو جوابات بھی جمع کرائے تھے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ایک مضبوط آئینی ادارہ ہے، آپ انکوائری کمیشن بنانے کی بات کر رہے تھے؟ جوڈیشل کونسل کی موجودگی میں کمیشن بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ آرٹیکل 210 پڑھیں، سپریم جوڈیشل کے پاس وسیع آئینی اختیارات ہیں، ہر آئینی ادارے یا ادارے کو آزادانہ فیصلے کا حق حاصل ہے، سپریم کورٹ سپریم جوڈیشل کونسل سمیت کسی آئینی ادارے کی نگہبان نہیں، سپریم کورٹ صرف آئینی خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی کرتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ موجودہ کیس میں بہت محتاط رہنا پڑے تاکہ اداروں کے درمیان قائم آئینی توازن خراب نہ ہو، شوکت صدیقی کیس کے فیصلے کو 50 سال تک عدالتی مثال کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکے۔

بعد ازاں عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

پسندیدہ مضامین

پاکستان"ہمیں محتاط رہنا ہوگا کہ کہیں اداروں کے درمیان آئینی توازن خراب...