30.9 C
Karachi
Tuesday, April 23, 2024

امریکی انٹیلی جنس نے چین کی کیوبا سے کئی سالوں تک جاسوسی کرنے کی تصدیق کر دی

ضرور جانیے

بائیڈن انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے ایک امریکی عہدیدار کے مطابق چین کم از کم 2019 سے کیوبا میں جاسوسی کا اڈہ چلا رہا ہے تاکہ انٹیلی جنس اکٹھا کرنے کی عالمی کوششوں کو بہتر بنایا جا سکے۔

امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی طویل عرصے سے کیوبا میں چین کی جاسوسی کی سرگرمیوں اور دنیا بھر میں اسی طرح کی کارروائیاں قائم کرنے کے اس کے وسیع تر عزائم سے آگاہ ہے۔ بائیڈن انتظامیہ نے چین کی بڑھتی ہوئی جاسوسی کی کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں، سفارتکاری اور دیگر نامعلوم اقدامات کے ذریعے پیش رفت کی ہے۔

چینی جاسوسی اڈے کی تصدیق وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے کہ چین اور کیوبا نے جزیرے پر ایک الیکٹرانک ایویسڈراپ اسٹیشن تعمیر کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس اور کیوبا کے حکام نے اس رپورٹ کو غلط قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

امریکی فضائی حدود

بائیڈن کی صدارت کے دوران امریکہ اور چین کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں، تائیوان کے دورے اور امریکہ کی جانب سے امریکی فضائی حدود میں داخل ہونے والے چینی جاسوس غبارے کو مار گرانے کے بعد تنازعات پیدا ہوئے تھے۔ ان کشیدگیوں کے باوجود وائٹ ہاؤس چین کے ساتھ اعلیٰ سطح ی رابطے دوبارہ شروع کرنے کا خواہاں ہے۔

بائیڈن انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ کیوبا سے چینی جاسوسی ایک جاری معاملہ ہے نہ کہ حالیہ پیش رفت۔ چین دنیا بھر میں انٹیلی جنس اکٹھا کرنے کے لیے مختلف مقامات کی تلاش کر رہا ہے جن میں کیوبا میں موجود تنصیبات بھی شامل ہیں اور 2019 میں اس جزیرے پر اپنی جاسوسی کی کارروائیوں کو اپ گریڈ کیا ہے۔

امریکہ اور چین نے تناؤ کو کم کرنے کے لئے محدود کوششیں کی ہیں ، وزیر خارجہ انٹونی بلنکن چین کے دورے اور دونوں ممالک کے عہدیداروں کے مابین سابقہ ملاقاتوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ تاہم چین نے امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کی جانب سے ملاقات کی درخواست مسترد کردی۔

کیوبا میں چین کی موجودگی انٹیلی جنس ریکارڈ میں درج ہے، حالانکہ کیوبا کی حکومت چینی جاسوسی اڈے کی موجودگی سے انکار کرتی ہے۔ کیوبا میں ایک مجوزہ اڈے کی اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب چین عالمی سطح پر اپنی سکیورٹی موجودگی کو بڑھانے کی وسیع تر کوشش کر رہا ہے۔

دورہ چین

امریکی عہدے داروں کا ماننا ہے کہ ان کی سفارتی کوششوں سے کیوبا میں چین کی سرگرمیاں سست پڑ گئی ہیں لیکن صورتحال بدستور تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ وزیر خارجہ بلنکن کے دورہ چین کو ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے لیکن امریکی عہدیدار نے اعتراف کیا کہ چین کے عزائم کو مکمل طور پر محدود نہیں کیا گیا ہے۔

چین اور کیوبا کی جانب سے تردید کے باوجود جاسوسی اڈے کی موجودگی کی تصدیق ہو چکی ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور اعلیٰ سطح ی رابطے بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ امریکہ کا ماننا ہے کہ اس کی سفارتی کوششوں نے کیوبا میں چین کی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالی ہے، لیکن خدشات بدستور موجود ہیں۔

پسندیدہ مضامین

انٹرنیشنلامریکی انٹیلی جنس نے چین کی کیوبا سے کئی سالوں تک جاسوسی...