25.9 C
Karachi
Saturday, February 24, 2024

پولنگ روم میں کوئی سیکیورٹی اہلکار نہیں ہوگا، ضرورت پڑنے پر رینجرز جائے گی، وزیر داخلہ سندھ

ضرور جانیے

کراچی: نگراں وزیر داخلہ سندھ بریگیڈیئر (ر) حارث نواز نے کہا ہے کہ کوئی سیکیورٹی اہلکار پولنگ روم میں داخل نہیں ہوگا اور اگر ضرورت پڑی تو رینجرز اہلکار اندر جائیں گے۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نگراں وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ الیکشن کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، ہم ان کی حمایت کر رہے ہیں، انتخابات میں اسلحے کی نمائش پر پابندی ہوگی، پولنگ اسٹیشنز کے باہر پولیس بھی تعینات رہے گی جب کہ خواتین کے پولنگ بوتھز کو لیڈی ہیلتھ فراہم کی جائے گی۔ زائرین انتخابی ڈیوٹی سرانجام دیں گے۔

وزیر داخلہ سندھ کا کہنا تھا کہ فول پروف سسٹم بنایا جائے تاکہ الیکشن میں کوئی مشکل پیش نہ آئے، حکومت نے پولیس، رینجرز اور اسکولوں کے لیے پیسے جاری کیے ہیں، کسی بھی محکمے میں فنڈز کی کمی نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلحہ پولنگ اسٹیشن کے باہر ہوگا، رینجرز اور پولیس پولنگ اسٹیشن کے باہر ہوں گے، صرف پولنگ عملہ اندر ہوگا، ضرورت پڑی تو رینجرز آئے گی۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ 5954 نارمل پولنگ اسٹیشنز ہیں، حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز 12 ہزار سے زائد ہیں، سیکیورٹی پر ایک لاکھ 22 ہزار پولیس اہلکار ہوں گے، پاک فوج کے 1984 جوان سیکیورٹی پر ہوں گے جب کہ اینٹی کرپشن، محکمہ جنگلات، ایف سی اور لیڈی ہیلتھ ورکرز سے خدمات لی جائیں گی، نگران وزیراعلیٰ نے تمام اداروں کو بجٹ فراہم کیا ہے۔

بریگیڈیئر (ر) حارث نواز نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات ہوں، جو بھی ہارے وہ اخلاص کا مظاہرہ کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں سیکیورٹی خطرات لاحق ہیں، ہم نے امن و امان کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے ہیں، ہماری کوشش ہے کہ نجی سیکیورٹی اہلکاروں کو نہ بلایا جائے جب کہ جن پولنگ اسٹیشنز پر بجلی نہیں ہے وہ سولر اور کیمرے نصب کریں گے۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا۔

پسندیدہ مضامین

پاکستانپولنگ روم میں کوئی سیکیورٹی اہلکار نہیں ہوگا، ضرورت پڑنے پر رینجرز...