29.9 C
Karachi
Sunday, May 19, 2024

ٹیکس وصولیوں کا ہدف 9.2 ٹریلین روپے مقرر کیا گیا ہے، چیئرمین ایف بی آر

ضرور جانیے

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے بجٹ پیش کیے جانے کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین عاصم احمد نے وضاحت کی ہے کہ ان کے ادارے کے لیے ٹیکس وصولی کا ہدف 200 ارب روپے اضافے کے بعد 9200 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔

مجوزہ بجٹ میں محصولات کے اہداف کی وضاحت کرتے ہوئے احمد نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں 200 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگائے گئے ہیں۔

چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ 175 ارب روپے کے براہ راست اور 25 ارب روپے کے بالواسطہ ٹیکس تجویز کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ غیر ملکی ادائیگیوں کے لئے ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کے استعمال پر ود ہولڈنگ ٹیکس میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

انکم ٹیکس

چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ انکم ٹیکس کی مد میں اضافی 170 ارب روپے وصول ہوں گے، سیلز ٹیکس میں 22 ارب روپے کے ٹیکس اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ ترسیلات زر کے ذریعے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر 2 فیصد ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترسیلات زر کارڈ کے زمرے میں نیا ڈائمنڈ کارڈ لانچ کیا جا رہا ہے۔

چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ سالانہ 50 ہزار ڈالر سے زائد کی ترسیلات زر بھیجنے والوں کو ڈائمنڈ کارڈ جاری کیے جائیں گے۔

حکومت نے تجویز دی ہے کہ غیر ملکی ادائیگیوں پر ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ پر نان فائلرز پر 10 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کیا جائے گا جبکہ فائلرز پر 5 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

حکومت نے بینکوں سے نقد رقم نکالنے پر نان فائلرز پر 0.6 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس بحال کرنے کی بھی تجویز دی ہے۔

احمد نے یہ بھی کہا کہ بجٹ میں غیر ملکی گھریلو ملازمین پر سالانہ 200،000 روپے کا ایڈوانس ایڈجسٹمنٹ ٹیکس بھی تجویز کیا گیا ہے۔ برانڈڈ ٹیکسٹائل، لیدر ریٹیلرز پر پی او ایس ٹیکس 12 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ جبکہ کھیلوں کے سامان کے خوردہ فروشوں پر پی او ایس ٹیکس 12 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

درآمد کی حد

انہوں نے مزید کہا کہ دستاویز میں حکومت نے 1300 سی سی سے زائد کی ایشیائی گاڑیوں کی درآمد کی حد ختم کرنے کی تجویز دی ہے۔

دریں اثنا پریس کانفرنس میں موجود ایف بی آر کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ حکومت نے فی پنکھے پر 2 ہزار روپے ٹیکس بھی عائد کیا ہے۔ جبکہ پرانے بلبوں کے استعمال پر بھی 20 فیصد ڈیوٹی لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔

ایف بی آر کی ممبر پالیسی نے بتایا کہ آئی ٹی سیکٹر کی برآمدات حکومت کی ترجیح ات میں شامل ہیں اور اس کے مطابق آئی ٹی سروسز پر جنرل سیلز ٹیکس 15 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کردیا گیا ہے۔

عہدیدار نے یہ بھی بتایا کہ تعمیراتی شعبے میں ٹیکس کی شرح میں کمی کی گئی ہے۔

نوجوانوں کو کاروبار کے مواقع فراہم کریں گے۔ 30 سال سے کم عمر کے نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے کے لئے ٹیکس چھوٹ دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ زراعت کے شعبے میں ٹیکس چھوٹ دی جا رہی ہے۔

پسندیدہ مضامین

کاروبارٹیکس وصولیوں کا ہدف 9.2 ٹریلین روپے مقرر کیا گیا ہے، چیئرمین...