23.9 C
Karachi
Monday, March 4, 2024

مسلم لیگ (ق) کے رہنما کو مستقبل قریب میں انتخابات نظر نہیں آتے

ضرور جانیے

گجرات-مسلم لیگ (ق) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر چوہدری وجاہت حسین نے کہا ہے کہ گجرات اور پنجاب کے دیگر علاقوں میں مسلم لیگ (ق) اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے بارے میں بات کرنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ انہیں مستقبل قریب میں انتخابات کی توقع نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عام انتخابات میں جانے سے پہلے قومی سیاست میں بہت سی چیزوں کو حل کرنا ہوگا، خاص طور پر معیشت کو بہتر بنانا جو ملک کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ق) پنجاب اور پاکستان کے دیگر حصوں میں اپنا دائرہ کار وسیع کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے کیونکہ متعدد سابق اور موجودہ قانون ساز جو یا تو پی ٹی آئی چھوڑ چکے ہیں یا آنے والے دنوں میں پارٹی چھوڑنے کا اعلان کرسکتے ہیں وہ پارٹی میں شمولیت کے لیے مسلم لیگ (ق) کی قیادت کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ گجرات سے مسلم لیگ (ق) کے دو سابق ایم پی ایز عبداللہ یوسف اور خالد اصغر غورل نے بھی گزشتہ ماہ دوبارہ پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے حلقہ این اے 68 جلال پور جٹاں ٹانڈا سے تعلق رکھنے والے سابق یونین کونسل نمائندگان، پارٹی عہدیداروں اور حامیوں کے اعزاز میں استقبالیہ دیا۔

قانون ساز اسمبلی

اس موقع پر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن اور آزاد جموں و کشمیر کے سابق وزیر چوہدری اکبر ابراہیم اور وجاہت کے بیٹے چوہدری موسیٰ الٰہی بھی موجود تھے۔

وجاہت کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے موضوع پر بات کرنا قبل از وقت ہوگا

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے تعلقات منقطع کرکے مسلم لیگ (ق) میں دوبارہ شمولیت اختیار کرنے کے بعد وجاہت اور موسیٰ پہلی بار اتوار کو اپنے آبائی شہر پہنچے کیونکہ ان کے بڑے بیٹے ایم این اے حسین الٰہی نے بھی حال ہی میں اپنے والد کی پیروی کرتے ہوئے مسلم لیگ (ق) میں دوبارہ شمولیت کا اعلان کیا ہے۔ تاہم ایم این اے گزشتہ چند ماہ سے بیرون ملک مقیم ہیں۔

وجاہت حسین نے صحافیوں کو بتایا کہ مسلم لیگ (ق) کے پاس گجرات کی تمام قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر کھڑے ہونے کے لئے بہت اچھے امیدوار ہیں اور جہاں تک آئندہ انتخابات میں کسی دوسری جماعت کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنے کا سوال ہے تو چوہدری شجاعت حسین کا فیصلہ قابل احترام ہوگا کیونکہ وہ اسٹیک ہولڈرز سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ مسلم لیگ (ق) مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت وفاقی حکومت کے ساتھ اتحادی شراکت دار رہی ہے لہذا پارٹی سربراہ ضلع گجرات کے انتظامی اور سیاسی معاملات چلانے میں اتحادی وں کے ساتھ مفاہمت پر یقین رکھتے ہیں۔

شجاعت حسین کی قیادت

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی عابد رضا کوٹلہ نے ضلع گجرات میں شجاعت حسین کے بیٹوں کے غلبے پر اپنے پارٹی فورمز پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور اب چوہدریوں کی خاندانی سیاست چلانے میں اہم کردار ادا کرنے والے وجاہت حسین ضلع میں مرکزی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ شجاعت حسین کی قیادت والی مسلم لیگ (ق) اب تک مرکز میں پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت والی حکومتوں کا حصہ رہی ہے اور پارٹی رہنماؤں کا خیال ہے کہ ان کی جماعت کے پاس اب بھی مستقبل کی کسی بھی مخلوط حکومت کا حصہ بننے کا موقع ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں وجاہت حسین نے کہا کہ ان کی اور پارٹی کے دیگر اور خاندانی عمائدین کی خواہش ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کی مسلم لیگ (ق) میں دوبارہ حمایت حاصل کی جائے کیونکہ خاندان اور پارٹی میں اتحاد سے مستقبل کی سیاست میں بہتر نتائج برآمد ہوں گے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ مسلم لیگ (ق) کے دھڑے کا پی ٹی آئی میں انضمام ایک غلطی تھی کیونکہ مسلم لیگ کا لقب رکھنا ان کی شناخت تھی جسے کھویا نہیں جانا چاہیے تھا۔ تاہم انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ انہوں نے کبھی پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار نہیں کی۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا موسیٰ الٰہی آئندہ انتخابات میں این اے 71 (سارہ عالمگیر کوٹلہ) سے الیکشن لڑیں گے، انہوں نے کہا کہ سیاسی محاذوں پر وضاحت بہت سی چیزوں کا فیصلہ کرے گی لیکن وہ اور ان کا بیٹا اس حلقے میں حامیوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان پر اور موسیٰ کے خلاف جھوٹے اور من گھڑت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

پسندیدہ مضامین

سیاستمسلم لیگ (ق) کے رہنما کو مستقبل قریب میں انتخابات نظر نہیں...