29.9 C
Karachi
Sunday, May 19, 2024

اسلام آباد کی عدالت نے تحریک انصاف کے سربراہ کے خلاف توشہ خانہ کیس قابل سماعت قرار دے دیا

ضرور جانیے

اسلام آباد-اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے چیئرمین تحریک انصاف کے خلاف توشہ خانہ کیس کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے کیس کو قابل سماعت قرار دے دیا۔

ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے تحریک انصاف کے وکیل گوہر خان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کرنے کی استدعا مسترد کردی۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 12 جولائی تک ملتوی کردی۔

آج کی سماعت کے دوران جج نے سابق وزیراعظم کے مرکزی وکیل خواجہ حارث کی عدم پیشی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے اس کیس میں مثالی نرمی کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے توشہ خانہ کیس کے قابل سماعت ہونے کا فیصلہ کرنے کے لیے 7 دن کی مہلت دیے جانے کے بعد خواجہ حارث کو دلائل جمع کرانے کے لیے طلب کیا گیا تھا۔

اس سے قبل گوہر خان نے پی ٹی آئی سربراہ کی حاضری سے استثنیٰ اور کیس 10 جولائی تک ملتوی کرنے کے لیے دو درخواستیں دائر کی تھیں۔

استثنیٰ کی درخواستیں

تاہم الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے وکیل سعد حسن نے ان درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی سربراہ نے متعدد بار استثنیٰ کی درخواستیں دائر کی ہیں۔

ایک موقع پر جج نے ریمارکس دیے کہ خواجہ حارث گزشتہ تین روز میں ایک بار بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے فیصلہ محفوظ کرلیا جس کا اعلان آج بعد میں متوقع ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے 4 جولائی کو ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا تھا جس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین کی توشہ خانہ کیس کی قبولیت کو چیلنج کرنے والی درخواست مسترد کردی گئی تھی۔

ٹرائل کورٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف سابق وزیراعظم نواز شریف کی درخواست پر دلائل سننے کے بعد 23 جون کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ چیف جسٹس نے معاملہ ٹرائل کورٹ کو واپس بھیج تے ہوئے پی ٹی آئی کے دلائل دوبارہ سننے کا حکم دے دیا۔ انہوں نے توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر فیصلہ کرنے کے لیے ٹرائل کورٹ کو 7 دن کی مہلت دی۔

یہ درخواست 10 مئی کو تحریک انصاف کے سربراہ پر فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد دائر کی گئی تھی جس کے دو روز بعد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں فوجداری کارروائی روک دی تھی۔

اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے 5 مئی کو اعلان کیا تھا کہ توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف 10 مئی کو فرد جرم عائد کی جائے گی۔

سماعت کے دوران سابق وزیراعظم کے وکیل نے دو درخواستوں پر دلائل دیے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن کی درخواست ناقابل سماعت ہے اور سیشن کورٹ کو اس معاملے کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں ہے۔

تاہم جج نے دونوں درخواستیں مسترد کرتے ہوئے پی ٹی آئی سربراہ کو فرد جرم عائد کرنے کے لیے ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

گیسٹ ہاؤس

10 مئی کو جج ہمایوں دلاور نے ایچ 11 میں پولیس لائنز ہیڈ کوارٹر کے گیسٹ ہاؤس میں ہونے والی عدالتی کارروائی کے دوران ان پر فرد جرم عائد کی تھی۔

سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر کمشنر آفس نے پولیس لائنز کو عدالت کا درجہ دیا تھا۔ جب عدالت نے توشہ خانہ کیس میں ان پر فرد جرم عائد کی تو انہوں نے جرم کے ارتکاب سے انکار کرتے ہوئے دستاویزات پر دستخط کرنے سے انکار کردیا۔

کیس

گزشتہ سال حکمران اتحاد سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی نے ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا تھا جس میں ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے توشہ خانہ سے اپنے اثاثوں کے گوشواروں میں رکھے گئے تحائف کی تفصیلات شیئر نہیں کیں اور الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے گزشتہ سال اکتوبر میں یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ پی ٹی آئی کے سربراہ نے تحائف کے حوالے سے جھوٹے بیانات دیے تھے۔

بعد ازاں الیکشن واچ ڈاگ نے انہیں بے ایمان اور بدعنوان ہونے کی وجہ سے نااہل قرار دے دیا اور تحائف کے بارے میں حکام کو مبینہ طور پر گمراہ کرنے پر پی ٹی آئی کے سربراہ کے خلاف فوجداری کارروائی کے لیے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت سے رجوع کیا۔

پسندیدہ مضامین

پاکستاناسلام آباد کی عدالت نے تحریک انصاف کے سربراہ کے خلاف توشہ...