15.9 C
Karachi
Friday, February 23, 2024

ایرانی وزیر خارجہ کو پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر وزارت خارجہ طلب کر لیا گیا

ضرور جانیے

اسلام آباد: پاکستان نے ایران کی جانب سے فضائی حدود کی خلاف ورزی کی شدید مذمت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران نے بغیر کسی اشتعال انگیزی کے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔

ایران کا حملہ پاکستان کی خودمختاری کے خلاف اور ناقابل قبول ہے۔ ایرانی حملے میں 2 بچے ہلاک اور 3 لڑکیاں زخمی ہوگئی ہیں۔ خودمختاری کی یہ خلاف ورزی مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خودمختاری کی یہ خلاف ورزی مکمل طور پر ناقابل قبول ہے اور اس کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں جس کی ذمہ داری مکمل طور پر ایران برداشت کرے گا۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے ہمیشہ کہا ہے کہ دہشت گردی خطے کے تمام ممالک کے لیے مشترکہ خطرہ ہے جس کے لیے مربوط کارروائی کی ضرورت ہے۔ اعتماد کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے.

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ایران کی جانب سے اپنی فضائی حدود کی بلا اشتعال خلاف ورزی اور پاکستانی علاقے پر حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی فضائی حدود میں ایرانی حملے کے نتیجے میں دو معصوم بچے جاں بحق اور تین بچیاں زخمی ہوئیں۔

دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان رابطے کے متعدد ذرائع موجود ہونے کے باوجود یہ غیر قانونی عمل ہوا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان پہلے ہی تہران میں ایرانی وزارت خارجہ کے متعلقہ سینئر عہدیدار سے شدید احتجاج کر چکا ہے۔

اس کے علاوہ ایرانی وزیر خارجہ کو بھی وزارت خارجہ طلب کر کے پاکستان کی خودمختاری کی اس کھلی خلاف ورزی کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلوچستان میں میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے تھے۔

ایران کے سرکاری ٹی وی نور نیوز کی خبر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں جیش العدل تنظیم کے دو ٹھکانوں پر ایرانی سکیورٹی فورسز نے میزائل اور ڈرون حملے کیے۔

پسندیدہ مضامین

پاکستانایرانی وزیر خارجہ کو پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر وزارت...