29.9 C
Karachi
Saturday, February 24, 2024

آئی ایم ایف نے ریٹیلرز، زراعت اور رئیل اسٹیٹ کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی تجاویز کو حتمی شکل دیدی

ضرور جانیے

اسلام آباد: آئی ایم ایف ٹیم نے ریٹیلرز، زراعت اور رئیل اسٹیٹ کو ٹیکس نیٹ میں لانے اور ایف بی آر کی مالی خودمختاری کے لیے تجاویز کو حتمی شکل دے دی۔

آئی ایم ایف کی ٹیکنیکل ٹیم نے پاکستان کے ٹیکس نظام کو بہتر بنانے کے لیے ایف بی آر سے شرائط کو حتمی شکل دے دی ہے۔

ان شرائط میں ایف بی آر کی مالی خودمختاری، ٹیکس افسران کی سالمیت، ریٹیلرز کو لانے کی حکمت عملی، زرعی آمدنی اور رئیل اسٹیٹ کو ٹیکس نیٹ میں لانا شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے ایف بی آر کو انکم ٹیکس ایکٹ 2001 میں بڑی تبدیلیاں کرنے، خدمات اور اشیا پر سیلز ٹیکس میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور ان کے ریٹرن کے لیے سنگل پورٹل بنانے کی سفارش کی ہے۔

سفارشات

مذاکرات میں تکنیکی ٹیم کی سفارشات کو حتمی شکل دی گئی تو یہ آئی ایم ایف کے نئے پروگرام کے لیے اسٹرکچرل بینچ مارک بن سکتی ہیں تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ ان میں سے کتنی سفارشات کو آئی ایم ایف کے مستقبل کے پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔

آئی ایم ایف کی ٹیکنیکل ٹیم دورہ مکمل کرنے کے بعد آج واپس آئے گی اور ایف بی آر کے سینئر حکام کے ساتھ اپنی 2 ہفتوں کی مشاورت کے نوٹ شیئر کرے گی۔

ایف بی آر کو حیرت ہوئی کہ میمو میں ٹیکس مشینری میں مکمل تبدیلی اور ایف بی آر کو سیاسی آقاؤں کے چنگل سے آزاد کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔

آئی ایم ایف کی مجوزہ خودمختاری کے تحت چیئرمین ایف بی آر اور سیکرٹری ریونیو ڈویژن پر سمری وزیراعظم ہاؤس بھیجنے کے لیے وزارت خزانہ کی منظوری لینے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔

ایف بی آر کی پالیسی ڈویژن اور کسٹمز اینڈ ان لینڈ ریونیو سروس دونوں کے لیے الگ الگ ہے۔

ایک عہدیدار نے بتایا کہ ایف بی آر کے کی آزادی کے لئے سفارشات پیش کی گئی ہیں اور اسے مکمل طور پر فعال کرنے کے لئے ایک انٹیگریٹی مینجمنٹ یونٹ (آئی ایم یو) تجویز کیا گیا ہے۔

پسندیدہ مضامین

کاروبارآئی ایم ایف نے ریٹیلرز، زراعت اور رئیل اسٹیٹ کو ٹیکس نیٹ...