23.9 C
Karachi
Monday, March 4, 2024

حکومت نے کراچی والوں پر ڈیڑھ روپے فی یونٹ بجلی سرچارج عائد کر دیا

ضرور جانیے

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے کراچی میں بجلی کی تقسیم کار کمپنی کے الیکٹرک کو آئندہ 12 ماہ میں اپنے صارفین سے ایک روپے 52 پیسے فی یونٹ سرچارج وصول کرنے کی اجازت دے دی۔

یہ فیصلہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ای سی سی کے اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس کے دوران وزارت توانائی (پاور ڈویژن) نے کے الیکٹرک کی سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے سمری پیش کی اور بتایا کہ قومی بجلی پالیسی 2021 کے مطابق حکومت کے الیکٹرک اور سرکاری ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے لیے یکساں کنزیومر اینڈ ٹیرف برقرار رکھ سکتی ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں یکساں ٹیرف برقرار رکھنے کے لیے کے الیکٹرک کے لاگو یونیفارم ویری ایبل چارجز میں ترمیم کی ضرورت ہے۔

ای سی سی نے 76 ارب روپے کے دستیاب بجٹ کو مختلف مدوں میں بقایا جات کی ادائیگی کے طور پر جاری کرنے اور استعمال کرنے کی بھی اجازت دی۔

سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان

ای سی سی نے نظر ثانی شدہ سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان پر عملدرآمد اور سرکاری پاور پلانٹس کو 20.726 ارب روپے کے استعمال سے متعلق وزارت توانائی (پاور ڈویژن) کی ایک اور سمری پر غور کیا۔

کمیٹی نے مشاورت کے بعد پاور ڈویژن کو جون 2023 کے دوران 4 ارب روپے ماہانہ استعمال کرنے کی حد میں نرمی دیتے ہوئے آئندہ پانچ ماہ کے لیے اسائنمنٹ اکاؤنٹ سے ایک بار مکمل رقم استعمال کرنے کا اختیار دیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ جولائی سے نومبر 2023 کے عرصے کے لیے آئی پی پیز کو مزید ادائیگی کی ذمہ داری نہیں ہوگی۔

اجلاس میں پاور ڈویژن کی ایک اور سمری پر غور کیا گیا جس میں آزاد جموں و کشمیر کی وصولیوں کے عوض نظر ثانی شدہ سی ڈی ایم پی کے تحت منظور شدہ 56 ارب روپے جاری کرنے کی سفارش کی گئی۔

ای سی سی نے مختلف سمریوں کی منظوری کے علاوہ مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کے لیے 1914.83 ملین روپے کی تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹس کی بھی منظوری دی۔

ای سی سی نے وزارت تجارت کی ایک اور سمری کی بھی منظوری دی جس میں امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 کی متعلقہ شق میں ترمیم کی گئی ہے تاکہ سرکاری اداروں کو فارماسیوٹیکل خام مال درآمد کرنے کی اجازت دی جاسکے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے مختلف ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس (ٹی ایس جی) کی منظوری دی جس میں 567.120 ملین روپے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی وزارت کے ترقیاتی اخراجات اور 40 ملین روپے وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت برائے کیڈٹ کالج حسن ابدال کے حق میں 40 ملین روپے شامل ہیں۔

وفاقی ٹیکس محتسب

کمیٹی نے ای آر ای اخراجات کے لئے وفاقی ٹیکس محتسب کے حق میں ٹی ایس جی کی مد میں 14.022 ملین روپے کی منظوری دی۔ پاکستان رینجرز کی جانب سے ہیلی کاپٹر کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے وزارت داخلہ کے حق میں 19.236 ملین روپے مختص کیے گئے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کے حق میں ٹی ایس جی کی مد میں 6.279 ملین روپے اور انٹیلی جنس بیورو کے حق میں 150 ملین روپے ٹی ایس جی کے طور پر دیئے گئے ہیں۔

ای سی سی نے گلگت بلتستان کونسل اور اس کے محکموں کے حق میں 147.913 ملین روپے ٹی ایس جی کی منظوری دی۔ ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے حق میں 50 کروڑ روپے جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی عمارت اسلام آباد کی مرمت و بحالی کے لیے وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس اور مختلف شہروں میں ججز کی رہائش گاہوں، ریسٹ ہاؤسز اور ذیلی دفاتر کے حق میں 47 کروڑ 26 لاکھ روپے مختص کیے گئے۔

پسندیدہ مضامین

کاروبارحکومت نے کراچی والوں پر ڈیڑھ روپے فی یونٹ بجلی سرچارج عائد...