15.9 C
Karachi
Friday, February 23, 2024

سردی کی سوغاتیں اللہ تعالی کا خوبصورت تحفہ

ضرور جانیے

سردی کی لہر آتے ہی خوبصورت کینو اور مالٹے امرود انار ادھر سبزیوں میں گاجر مولی مٹر پالک بروکولی ڈرائے فروٹ میں مونگ پھلی اخروٹ بادام کاجو پستہ اور چلغوزے وغیرہ الحمدللہ ھم سب اللہ تعالی کی دی ہوئی ان نعمتوں سے خوب فائدے اٹھاتے ہیں اور گورنمنٹ کتنا بھی آبادی زیادہ ھونے کا شور مچائے

لیکن اللہ کی یہ نعمتیں ہر ایک بندے تک اس کی تقدیر کے بقدر کم یا زیادہ مستقل پہنچتی رھتی ھیں میں سوچتی ھوں کہ اللہ تعالی کے یہاں پاکستانی بجلی اور گیس کمپنیز کی طرح اگر لوڈ شیڈنگ کا نظام ھوتا تو یہ زندگی کتنی مشکل ھوجاتی

لیکن وہ شفیق رب ھمارے اداروں کی طرح غریب عوام پر زندگی کبھی بھی تنگ نہیں فرماتے بلکہ انکے یہاں تو کچھ قوانین مقرر کردیئے گئے ھیں مثلا
سورہ سبا آیت 39
میں ارشاد فرمایا کہ” تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ھو تو اس کی جگہ اور دے دیتا ھے اور وہ تمام رزق دینے والوں سے بہتر رزاق ھے”
اسی لئے ھم دیکھتے ھیں کہ ہر سال ھم اللہ کی دی ھوئ موسم کے مطابق سبزیاں اور پھل اور ہر نعمت استعمال کرتے ھیں اور ماشاءاللہ پھر بھی وہ نعمتیں ختم نہیں ھوتیں اور وہ پھر اگلے سال نئ آجاتی ھیں
سوائے اس کے کہ
ایک وعدہ یہ فرمایا کہ
سورہ روم آیت 41
“”خشکی اور تری میں فساد ظاھر ھوگیا ان برائیوں کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض کاموں کا مزہ چکھائے تاکہ وہ بعض آجائیں “”

اللہ تعالی کی نافرمانی

کہ اگر کسی بندے پہ کوئ مصیبت آتی ھے تو محض اللہ تعالی کی نافرمانی اور زمین میں اپنے گناہوں کے ذریعے فساد پھیلانے کے سبب سے آتی ھے
اور اس میں بھی فرمایا کہ بعض گناہوں پہ پکڑ لیتے ھیں اور سورہ شوری میں آیت 30 میں فرمایا کہ

“”تم پہ جو مصیبت آتی ھے تمھارے گناھوں کے سبب سے آتی ھے اور بھت کچھ تو وہ معاف فرما دیتا ھے””
کیونکہ اگر وہ ھمارے سارے گناھوں پہ پکڑ لیتے تو زمین پہ کچھ نہ بچتا اور قیامت آجاتی لیکن وہ موقعہ دیتے ھے کہ میرے بندے شاید توبہ کرلیں لیکن اگر وہ باز نہ آئے تو آخرت میں ان سے خوب حساب کتاب لیا جائے گا اور تزکیہ کے طور پر ہر مسلمان کو اس کے گناھوں پر سزا بھی ھوگی بجز اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت اور ان کی سفارش کام آجائے اور جہنم سے اللہ کے فضل سے بچ جائے
یہی بات سورہ فاطر کی آیت

سورہ فاطر


45 میں ارشاد فرمائ ھے
کاش کہ ھم غور کریں کہ ھمارے رب کے ایک ایک حکم میں کسقدر حکمتیں پوشیدہ ھیں اور یہ زمین و آسمان اور یہ سارا نظام کائنات اور ھمارے لئے مسخر کردہ تمام نعمتیں دعوت فکر دے رہی ھیں کہ غور کرو اپنے رب کی شفقتوں پر اور شکر کرو اس کی نعمتوں پر اور اس کے حکموں پر عمل کرو کہ شکر کا بہترین طریقہ اللہ تعالی کا فرمانبردار بن جانا ھے جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا بہترین طریقہ ان کی سنتوں اور طریقہ پہ عمل کرنا ھے
جیسا کہ داؤود عليہ السلام کو مخاطب فرمایا سورہ سبا آیت 13
“”اے آل داؤد عمل سے شکر ادا کرو”””
اور عمل سے شکر کا مطلب اللہ کی نافرمانی کے کاموں مثلا
جھوٹ غیبت حسد کینہ بغض دھوکہ فریب تکبر بڑے بڑے گناھوں فحاشی بے حیائی کے کاموں دوسروں کا حق مارنا دل دکھانا ظلم وغیرہ سے رکنا
اورنیکی کے کاموں مثلا
نماز روزہ صدقہ خیرات اخلاق حسنہ قرآن پاک کی تلاوت اور ذکر کی کثرت امر بالمعروف نھی عن المنکر پر پابندی سے عمل کرنا ھے خصوصا اسی سردی کے خوبصورت موسم اور اس موسم کی نعمتوں کا بہترین شکرانہ گرم لحاف سے صبح صبح اٹھ کر فجر کی نماز ادا کرنا ھے

مجنوں یا بے ہوش


کیونکہ نماز وہ عبادت ھے جس میں کسی صورت معافی نہیں سوائے چند بڑی مجبوریوں کے مثلا مجنوں یا بے ہوش ھوجانا یا ایسا مرض کے اشاروں تک سے نماز کے قابل نہ رھے
اور قیامت میں سب سے پہلے ایمان کے بعد نماز کا سوال ھوگا جس کی نماز اچھی نکلی اس کا سارا دین قبول ھوجائے گا اور جس کی نماز اچھی اور پابندی کی نہ ھوئ تو بخشش کا بڑا مسئلہ بن جائے گا خدانخواستہ
اللہ تعالی اپنے فضل وکرم سے عقل و شعور کو استعمال کرنے اور عمل سے ہر نعمت کا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین ثم آمین

تحریر اھلیہ ڈاکٹر عثمان انور

پسندیدہ مضامین

اسلامسردی کی سوغاتیں اللہ تعالی کا خوبصورت تحفہ