29.9 C
Karachi
Saturday, February 24, 2024

کسٹم والے خود پیسے لے کر گاڑیاں اسمگل کراتے اور بعد میں خود ہی پکڑواتے ہیں، چیف جسٹس

ضرور جانیے

سپریم کورٹ نے اسمگلنگ ٹرکوں کی ضبطی کے حوالے سے خیبر پختونخوا کسٹمز کی اپیل مسترد کردی جب کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ کسٹم حکام گاڑیاں اسمگل کرنے کے لیے پہلے پیسے لیتے ہیں اور بعد میں خود ضبط کرتے ہیں، پشاورمیں جاکردیکھیں۔ گاڑیاں کیسے اسمگل کی جاتی ہیں؟

چیف جسٹس قاضی فائزہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے خیبرپختونخوا کسٹم حکام کی جانب سے اسمگلنگ ٹرک کی ضبطی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔عدالت نے غیر ضروری وقت ضائع کرنے پر وکیل کی سرزنش بھی کی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پشاور بارڈر سے 400 کلومیٹر کے فاصلے پر کسٹم حکام کے علم میں آئے بغیر گاڑی پکڑی گئی، کسٹم حکام پہلے پیسے لے کر گاڑیاں اسمگل کرتے ہیں اور پھر خود قبضے میں لے لیتے ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ محکمہ کسٹمز کے خلاف انکوائری کیوں نہ کی جائے، ٹرک 1996 میں تیار کیا گیا اور 2016 میں ضبط کیا گیا، 22 سال کہاں چلا، اسمگلنگ کہاں ہوتی ہے، یہ ٹرک ہے، ماچس باکس نہیں۔ کسٹم حکام کو یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ کس راستے سے آیا تھا۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے مزید کہا کہ پشاور جاکر دیکھیں کہ گاڑیاں کیسے اسمگل کی جاتی ہیں، کسٹم کلکٹر کو کیوں نہ بلایا جائے، پاکستان میں یہ کیا ہو رہا ہے، کسٹم حکام نے غیر ضروری قانونی چارہ جوئی شروع کی اور معاملہ سپریم کورٹ پہنچا اور پھر عدالتوں کا وقت ضائع کیا۔ ایسے غیر ضروری مقدمات کی وجہ سے عدالتوں میں اصل مقدمات کی سماعت نہیں ہو سکتی، مستقبل میں کسٹم حکام کو ایسے غیر ضروری مقدمات دائر کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ 2008 میں کسٹم حکام نے پشاور سے ماڈل 1996 کا ایک ٹرک قبضے میں لے کر قبضہ کر لیا تھا۔

پسندیدہ مضامین

پاکستانکسٹم والے خود پیسے لے کر گاڑیاں اسمگل کراتے اور بعد میں...