23.9 C
Karachi
Monday, March 4, 2024

چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے نئے قانون کے نفاذ پر اعتراض اٹھا دیا

ضرور جانیے

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کو نئے قانون سے کوئی مسئلہ نہیں، آرٹیکل 184 (3) کے تحت نظرثانی درخواستوں کا دائرہ وسیع کیا گیا، لیکن مسئلہ اس قانون کے نافذ ہونے کے طریقہ کار میں ہے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پنجاب اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لیے 14 مئی کی تاریخ مقرر کرنے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ (نظرثانی فیصلے اور احکامات) ایکٹ 2023 اور الیکشن کمیشن کے نظرثانی کے خلاف اپیلوں کی سماعت کی۔

آئینی ترمیم

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حکومت کوئی بھی ایسا قانون بنا سکتی ہے جو سپریم کورٹ کے فیصلوں کی صورت میں موثر علاج فراہم کرے لیکن مسئلہ قانون بنانے کے طریقہ کار کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلیاں آئینی ترمیم کے ذریعے ہونی چاہئیں نہ کہ عام قانون کے ذریعے۔

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے قانون کا دفاع کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے نظرثانی کے دائرہ اختیار میں وقتا فوقتا توسیع پر روشنی ڈالی۔

بنچ کے رکن جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ قانون بنا کر حکومت نے آرٹیکل 184 (3) کے تحت کیے جانے والے فیصلوں کے لیے ایک خصوصی کلاس بنائی ہے۔

عدالت آئین کے آرٹیکل 185 کے تحت ہائی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کا فیصلہ کرسکتی ہے لیکن نظرثانی کا دائرہ آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت سپریم کورٹ کے فیصلوں پر اپیلوں تک بڑھا دیا گیا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے اس بات کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا کہ سپریم کورٹ کے نظرثانی کے دائرہ کار میں توسیع کیسے اور کیوں کی گئی۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ اگر آئین کے آرٹیکل 184 (1) کے تحت کوئی کیس عدالت میں آتا ہے تو نظرثانی کی گنجائش کیا ہوگی۔

پسندیدہ مضامین

پاکستانچیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے نئے قانون کے نفاذ پر اعتراض...