30.9 C
Karachi
Tuesday, April 23, 2024

آرمی ایکٹ ترمیمی بل کو صدر عارف علوی کی منظوری مل گئی

ضرور جانیے

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سرکاری رازداری (ترمیمی) بل 2023 اور پاکستان آرمی (ترمیمی) بل 2023 کی منظوری دے دی۔

سینیٹ اور قومی اسمبلی دونوں سے بلوں کی منظوری کے بعد، جس اقدام کو حکومتی اور حزب اختلاف دونوں بینچوں سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں نے تنقید کا نشانہ بنایا، انہیں حتمی منظوری کے لئے صدر کے سامنے پیش کیا گیا۔

قومی اسمبلی نے 31 جولائی کو پاکستان آرمی (ترمیمی) بل 2023 منظور کیا تھا جس کا مقصد قومی سلامتی یا مسلح افواج سے متعلق حساس معلومات افشا کرنے پر ممکنہ طور پر پانچ سال قید کی سزا دینا ہے۔ اس کے علاوہ 7 اگست کو قومی اسمبلی کی تحلیل سے چند روز قبل آفیشل سیکریٹس ایکٹ کو بھی منظوری دے دی گئی تھی۔

انسانی حقوق کے حامیوں اور سینیٹرز کے سخت اعتراضات کی وجہ سے پارلیمنٹ کی جانب سے متنازعہ شقوں کو ہٹائے جانے کے بعد بالآخر صدر نے بھی دونوں بلوں کی منظوری دے دی۔

آرمی ایکٹ کیا ہے؟

آرمی ایکٹ کسی بھی ایسے شخص کو پانچ سال تک قید بامشقت کی سزا کی راہ ہموار کرتا ہے جو سرکاری حیثیت میں حاصل کردہ معلومات کو افشا کرتا ہے جو پاکستان یا مسلح افواج کی سلامتی اور مفادات کے لئے نقصان دہ ہے یا ہوسکتا ہے۔

بل کی نئی شقوں اور اس کا اطلاق عام شہریوں پر ہونے کے حوالے سے میڈیا میں غلط فہمیاں سامنے آنے کے بعد وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا کہ ایسا نہیں ہوگا۔

اس میں ترامیم کا اطلاق پاک فوج کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران اور اہلکاروں پر ہوگا جن میں کمیشن دینے، سروس کی شرائط کا تعین کرنے، فلاحی سرگرمیاں انجام دینے، قومی ترقیاتی کاموں اور دیگر آپریشنل اور ادارہ جاتی امور کے لیے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اختیارات شامل ہوں گے۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر میاں رضا ربانی اور سینیٹر مشتاق احمد خان نے بل کی جلد بازی میں منظوری پر احتجاج کیا جبکہ 27 جولائی کو پارلیمنٹ کے ایوان بالا سے بل منظور ہونے کے بعد پیپلز پارٹی نے واک آؤٹ بھی کیا۔

آفیشل سیکریٹس ایکٹ کیا ہے؟

آفیشل سیکریٹس ایکٹ کے نظر ثانی شدہ ورژن میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو اس کی خلاف ورزی کے مشتبہ افراد کے خلاف تحقیقات کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

ترمیم شدہ بل میں اس ترمیم کو بھی شامل نہیں کیا گیا ہے جس میں کسی فرد کو غیر ملکی ایجنٹوں کے ساتھ ملوث ہونے پر دشمن قرار دیا گیا تھا۔

آفیشل سیکریٹس ایکٹ 1923 میں ایک اہم اندراج میں کہا گیا ہے کہ اس ایکٹ کے تحت “تفتیشی افسر ایف آئی اے کا ایک افسر ہوگا جو بی پی ایس -17 کے رینک سے کم یا اس کے برابر نہیں ہوگا اور اسے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے نامزد کرے گا۔ اگر ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو ضرورت محسوس ہو تو وہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے افسران پر مشتمل جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے سکتے ہیں۔

بل کے مطابق جے آئی ٹی 30 روز میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گی۔ سول جاسوسی سے متعلق کیس کی تحقیقات ایف آئی اے یا جے آئی ٹی کرے گی۔ تاہم سیکشن 12 کی شق بی میں ترمیم کے مطابق جرم کی سزا 14 سال سے کم کرکے 10 سال کردی گئی ہے۔

پسندیدہ مضامین

پاکستانآرمی ایکٹ ترمیمی بل کو صدر عارف علوی کی منظوری مل گئی