25.9 C
Karachi
Friday, April 19, 2024

ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات میں جولائی میں 11 فیصد کمی

ضرور جانیے

اسلام آباد-رواں مالی سال کے پہلے ماہ کے دوران ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات میں 11.44 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جس کی وجہ پیداواری لاگت میں اضافہ، لیکویڈیٹی کی کمی اور عالمی طلب میں کمی ہے۔

ادارہ برائے شماریات پاکستان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں ٹیکسٹائل اور کپڑوں کی برآمدات کی مالیت کم ہو کر 1.31 ارب ڈالر رہ گئی جو گزشتہ سال کے اسی مہینے میں 1.48 ارب ڈالر تھی۔

ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات مالی سال 23 میں سال بہ سال 14.63 فیصد کم ہو کر 16.50 ارب ڈالر رہ گئیں۔ مالی سال 23 میں پاکستان کی مجموعی تجارتی برآمدات 12.71 فیصد کمی کے ساتھ 27 ارب 54 کروڑ ڈالر رہیں جو گزشتہ مالی سال میں 31 ارب 78 کروڑ ڈالر تھیں۔

ٹیکسٹائل ایکسپورٹ سیکٹر کو رواں مالی سال کے آغاز سے ہی منفی نمو کے پریشان کن رجحان کا سامنا کرنا پڑا۔

پی بی ایس کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی کے دوران ریڈی میڈ گارمنٹس کی برآمدات میں 9.80 فیصد کمی ہوئی تاہم مقدار میں 101.94 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ نیٹ ویئر کی قیمت میں 16.13 فیصد کمی ہوئی لیکن مقدار میں 26.01 فیصد اضافہ ہوا، بیڈ ویئر کی قیمت میں 14.60 فیصد اور مقدار میں 9.93 فیصد کا منفی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

سوتی کپڑوں کی برآمدات

تاہم تولیہ کی برآمدات میں قیمت کے لحاظ سے 2.93 فیصد اور مقدار کے لحاظ سے 0.31 فیصد کی معمولی کمی واقع ہوئی جبکہ سوتی کپڑوں کی برآمدات میں قیمت کے لحاظ سے 22.56 فیصد اور مقدار کے لحاظ سے 16.32 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

بنیادی اجناس میں کاٹن یارن کی برآمدات میں 35.96 فیصد اضافہ ہوا جبکہ کپاس کے علاوہ دھاگے کی برآمدات میں 2.31 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ جولائی 2023 ء میں تولیے کو چھوڑ کر تیار کردہ اشیاء کی برآمدات میں 7.54 فیصد جبکہ خیموں، کینوس اور ترپالوں کی برآمدات میں ایک سال قبل کے مقابلے میں 9.02 فیصد اضافہ ہوا۔

جولائی مالی سال 24 میں ٹیکسٹائل مشینری کی درآمد میں 63.54 فیصد کمی واقع ہوئی جو اس بات کی علامت ہے کہ توسیع یا جدید کاری کے منصوبے ترجیح ات میں شامل نہیں تھے۔

مزید برآں جولائی مالی سال 24ء کے دوران خام کپاس کی درآمد ات میں بھی ایک سال قبل کے مقابلے میں 61.16 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ تاہم مصنوعی فائبر کی درآمد میں 24.99 فیصد، مصنوعی ریشم دھاگے کی درآمد میں 90.72 فیصد اور پرانے کپڑوں کی درآمد میں 106.39 فیصد اضافہ ہوا۔

پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں کمی

جولائی میں پیٹرولیم گروپ کی درآمدات میں سال بہ سال 44.89 فیصد کی کمی واقع ہوئی جس کی وجہ معاشی سست روی ہے جس کی وجہ سے غیر معمولی افراط زر کے درمیان کھپت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ پیٹرولیم مصنوعات کی مقامی پیداوار اور برآمدات میں بھی کمی کا رجحان دیکھا گیا۔ جولائی میں پیٹرولیم گروپ کی مجموعی درآمدی مالیت کم ہو کر 0.791 ارب ڈالر رہ گئی جو مالی سال 2023 کے اسی مہینے میں 1.43 ارب ڈالر تھی۔

پی بی ایس کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں قدر کے لحاظ سے 51.02 فیصد اور مقدار میں 21.29 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ خام تیل کی درآمد ات میں مقدار کے لحاظ سے 88.47 فیصد جبکہ قیمت میں 87.60 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

اسی طرح جولائی مالی سال 24ء کے دوران مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمدات میں سال بہ سال کی بنیاد پر 47.32 فیصد اضافہ ہوا۔ دوسری جانب رواں ماہ کے دوران ایل پی جی کی درآمدات میں 1.96 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

مشینری کی آمد

جولائی 2022 ء میں مشینری کی درآمدات 21.36 فیصد کم ہو کر 493.46 ملین ڈالر رہ گئیں جو جولائی 2022 ء میں 627.5 ملین ڈالر تھیں جس کی بنیادی وجہ دفتری مشینری اور موبائل فونز کے علاوہ تقریبا تمام اقسام کی مشینری میں کمی ہے۔

جولائی میں موبائل فونز کی درآمدات میں 75.59 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا۔ ٹیکسٹائل، بجلی کی پیداوار، زراعت اور برقی آلات کی مشینری کی درآمدات میں کمی واقع ہوئی۔

ٹرانسپورٹ سیکٹر کی درآمدات جولائی میں 32.18 فیصد کم ہو کر 140.17 ملین ڈالر رہ گئیں جو گزشتہ سال کے اسی مہینے میں 206.69 ملین ڈالر تھیں۔ سی بی یو (مکمل طور پر بلٹ اپ یونٹس) کے ساتھ ساتھ سی کے ڈی میں بھی گاڑیوں کی کم مقامی پیداوار کی وجہ سے کمی دیکھی گئی کیونکہ حکومت نے لیٹر آف کریڈٹ کھولنے پر پابندی عائد کردی ہے۔

پسندیدہ مضامین

کاروبارٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات میں جولائی میں 11 فیصد کمی