17.9 C
Karachi
Wednesday, November 29, 2023

ندامت کے آنسوں

ضرور جانیے

کبھی یہ سوچ کر بیٹھو کہ کچھ آنسوں بہانے ہیں
بہت عرصہ ھوا اس دل پہ محنت ھو نہیں پائ


بہت عرصہ ھوا سوچا نہیں کہ زندگی کیا ھے
کدھر سے آئے تھے جانا کدھر ھے کہاں کو چل پڑے ھیں ھم؟


بہت عرصہ ھوا بھولے ھوئے کہ ھم بھی انساں ھیں
دلوں پہ سختیوں کی سرد مہری کی فضا قائم


کسی کا غم کبھی محسوس ہی ھوتا نہیں ھم کو
بہائم کی طرح بس کھانے پینے کی فضا قائم


میں سب پہ فوقیت لے لوں یہی سودا جنوں میں ھے
کبھی سوچا نہیں رب نے ھمیں کیا دے کہ بھیجا تھا


شریعت اور میزان عدل سنت طریقے پر
خلافت کا لیا تھا عہد ھم سب بھول بیٹھے ہیں


طریقے غیر کے اپناکے تقوی بھول بیٹھے ھیں
دلوں کی سختیاں اس درجہ اعلی کو پہنچی ہیں


کوئ کٹ جائے مرجائے ھمیں غم ہی نہیں ھوتا
جو اپنی موت کو بھولے تو سب کچھ بھول بیٹھے ھم


ذرا لمحہ میں آکر جو اچک لے جائے گئ ھم کو
کوئ زاد سفر تیار کرنے کا نہیں سوچا


کیا خالی ہاتھ ہی سوجائیں گے ھم قبر میں جاکر
چلو اک لمحہ بیٹھو اور سوچو کیا بنے گا پھر


نہ کوئ کام آئے گا نہ کوئ ھمسفر ھوگا
اندھیرے اور تنہائ کے منظر قبر کی تنگی


خدارا چوٹ مارو نفس پہ اور جاگ جاؤ بس
بہت دنیا میں اپنے وقت کو ضائع کیا ھم نے


خدا کے ذکر سے غفلت نے سب برباد کرڈالا
بہائم کی طرح اب زندگی اکل وشرب میں ھے


فریب نفس سے محسوس ہوتا ھے طرب میں ھے
قیامت یاد کرکے پھر سے توبہ کا عزم کرلو


بہت مشفق تمھارا رب ھے سب کو معاف کرتا ھے
ذرا آنسو بہالو بس ندامت دل سے کر بیٹھو


جو ان کے قرب کی لذت کو کھو بیٹھے ھو دنیا میں
ذرا آنسو بہالو ذکر سے قرآں سے جڑ جاؤ


بہت لمبا سا اک سجدہ کرو اور دل کی کہہ ڈالو
کہو لبیک یا ربی میں حاضر ھوں میں حاضر ھوں


میں مجرم ھوں میں خاطی ھوں مگر میں آپ ہی کا ھوں
مجھے اپنا پسندیدہ بنالے اے میرے مولا


منور اپنے جلوؤں سے میرے دل کی فضا کردے
میرے آنسوں پسند کرلے میرے آنسوں پسند کرلے


آمین ثم آمین

بقلم اھلیہ ڈاکٹر عثمان انور

پسندیدہ مضامین

شاعریندامت کے آنسوں