15.9 C
Karachi
Thursday, February 22, 2024

سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن مستعفی

ضرور جانیے

اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان کے معزز جج جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے آج سپریم جوڈیشل کونسل میں شرکت سے معذرت کرلی تھی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف الزامات کو مسترد کردیا۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کے استعفے کے باوجود کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس اعجاز الحسن اکتوبر میں چیف جسٹس بننے والے تھے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت کو بھجوا دیا ہے۔

واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مس کنڈکٹ کی شکایات سامنے لانے والے سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا استعفیٰ منظور کرلیا ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 179 کے تحت وزیراعظم کے مشورے پر جسٹس مظاہر نقوی کا استعفیٰ قبول کرلیا۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو ارسال کردیا۔ صدر مملکت کو بھیجے گئے خط میں ان کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ آف پاکستان کا جج بننا اور خدمات انجام دینا اعزاز کی بات ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوامی معلومات اور کسی حد تک عوامی ریکارڈ کا معاملہ ہونے کی وجہ سے میرے لیے یہ ممکن نہیں کہ میں ایسے حالات میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کی حیثیت سے خدمات انجام دیتا رہوں۔ اپنے استعفے میں انہوں نے لکھا کہ ‘مناسب عمل’ کا خیال بھی اس فیصلے کو مجبور کرتا ہے اس لیے میں آج سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے عہدے سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان

جسٹس مظاہر علی نقوی نے اپنے استعفے میں کہا کہ میرے لیے بطور جج اپنے فرائض سرانجام دینا ممکن نہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس مظاہر نقوی کی سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکنے کی درخواست مسترد کردی تھی۔

جسٹس مظاہر نقوی کی آئینی درخواست کی سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی خصوصی بینچ نے کی، بینچ میں جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس مسرت ہلالی بھی شامل ہیں۔

جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے 30 نومبر کو جاری کیے گئے 2 شوکاز نوٹسز کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے انہیں کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی۔

واضح رہے کہ 15 دسمبر کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس مظاہر نقوی کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی فوری طور پر روکنے کی درخواست مسترد کردی تھی۔

پسندیدہ مضامین

پاکستانسپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن مستعفی