25.9 C
Karachi
Friday, April 19, 2024

شہباز شریف نواز شریف سے مشاورت کے لیے لندن پہنچ گئے

ضرور جانیے

لندن-سابق وزیراعظم شہباز شریف لندن پہنچ گئے ہیں جہاں مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہم اور پارٹی قائد نواز شریف کی وطن واپسی پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

رواں ماہ حکومت میں 16 ماہ کی مدت ختم ہونے کے بعد نواز شریف کا یہ پہلا دورہ برطانیہ ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کے ہمراہ ان کے صاحبزادے سلمان شہباز بھی ہیں۔

پارٹی ذرائع کے مطابق شہباز شریف لندن کے دورے کے دوران مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ پارٹی کے دیگر اہم رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کی جائیں گی، جو وہاں ان کے ساتھ شامل ہوں گے۔

کئی سابق وفاقی وزراء پارٹی قیادت کے درمیان مذکورہ ملاقاتوں میں شرکت کے لئے پہلے ہی برطانوی دارالحکومت میں موجود ہیں جس کے دوران نواز شریف کی واپسی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

قانونی ٹیم

مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کے مطابق پارٹی کی قانونی ٹیم بھی اجلاسوں میں شرکت کرے گی جس میں پارٹی سربراہ کی قانونی رکاوٹوں پر غور کیا جائے گا۔

9 اگست کو شہباز شریف نے کہا تھا کہ نواز شریف ستمبر میں پاکستان واپس آئیں گے اور وہ اس سلسلے میں اپنے بڑے بھائی سے تفصیلی مشاورت کے لیے لندن جائیں گے۔

انہوں نے کیپٹل ٹاک شو کے میزبان حامد میر کو انٹرویو دیتے ہوئے نواز شریف کی وطن واپسی کی صحیح تاریخ بتائے بغیر کہا کہ نواز شریف اگلے ماہ پاکستان واپس آئیں گے اور قانون کا سامنا کریں گے اور انتخابی مہم کی قیادت کریں گے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نواز شریف نہ ٹوپی پہنیں گے اور نہ ہی بالٹی پہنیں گے۔

نواز شریف نومبر 2019 میں احتساب عدالت کی جانب سے بدعنوانی کے مقدمات میں سزا سنائے جانے کے بعد علاج کے لیے لندن گئے تھے اور اس وقت سے وہ وہیں رہ رہے ہیں۔

2016 میں سپریم کورٹ کی جانب سے اثاثے چھپانے پر تاحیات نااہل قرار دیے جانے کے بعد نواز شریف نے وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

قومی احتساب بیورو

بعد ازاں پاناما پیپرز لیک کے بعد سامنے آنے والے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر العزیزیہ اور ایون فیلڈ اپارٹمنٹ ریفرنسز میں نواز شریف کو سزا سنائی گئی تھی۔

سزا کے خلاف ان کی اپیلیں فی الحال متعلقہ عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔

اس سے قبل جیو نیوز کے پروگرام ‘آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ’ میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے سپریم کورٹ کے رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس صورتحال میں کسی کو نواز شریف کی واپسی کا خطرہ مول نہیں لینا چاہیے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے رواں ماہ کے اوائل میں سپریم کورٹ (نظرثانی فیصلے اور احکامات) ایکٹ 2023 کو ‘غیر آئینی’ قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور جہانگیر ترین کی تاحیات نااہلی کو چیلنج کرنے کی کوشش کرنے والوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے نواز شریف اور جہانگیر ترین کو آئین کے آرٹیکل 62 کے تحت نااہل قرار دیا تھا۔ اگر فیصلہ درخواستوں کے حق میں ہوتا تو دونوں رہنماؤں کو قومی اسمبلی کی مدت مکمل ہونے کے بعد ملک میں ہونے والے عام انتخابات کے دوران اپنے سیاسی عزائم کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی نااہلی کو چیلنج کرنے کا موقع مل جاتا۔

پسندیدہ مضامین

پاکستانشہباز شریف نواز شریف سے مشاورت کے لیے لندن پہنچ گئے