15.9 C
Karachi
Friday, February 23, 2024

ملک بھر میں عاشورہ کے موقع پر سیکیورٹی ہائی الرٹ

ضرور جانیے

ملک بھر میں محرم الحرام کے دسویں دن عاشورہ کے موقع پر ملک بھر میں سوگواروں نے شہدائے کربلا کے دوران حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہل خانہ کی عظیم قربانی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جلوسوں میں شرکت کی۔

یہ دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے نواسے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ، ان کے خاندان اور مخلص ساتھیوں کی غیر متزلزل استقامت کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے مخالفت اور ظلم کے باوجود بہادری سے اسلام کا دفاع کیا۔

اس تاریخی دن کی مناسبت سے بڑے شہروں اور قصبوں میں جلوس نکالے جا رہے ہیں، جہاں علماء اور خطیب خطبات دے رہے ہیں اور سانحہ کربلا کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈال رہے ہیں۔

کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے اور جلوسوں کے دوران سوگواروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ملک بھر میں سیکورٹی کے وسیع انتظامات کیے گئے ہیں۔

دریں اثنا وزارت داخلہ کی جانب سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو 9 اور 10 محرم الحرام کو نہ صرف موبائل سروس معطل کرنے کی ہدایت کے بعد کئی شہروں میں موبائل سگنلز بدستور بند ہیں۔

صدر عارف علوی کا اتحاد پر زور

یوم عاشور کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ہم وطنوں پر زور دیا کہ وہ اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہمدردی، رواداری اور مشاورت کو فروغ دیں تاکہ متحد قوم بن سکیں اور پاکستان کی ترقی کے لیے کام کرسکیں۔

صدر مملکت نے اسلام کے بنیادی اصولوں کی ترویج اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی تعلیمات کو اپنانے کے عزم کی تجدید کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی زندگیوں میں ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کی تقلید کرنے کی کوشش کرنے پر زور دیا۔

صدر مملکت نے مزید کہا کہ نواسہ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے حق و باطل کی جنگ اور اسلامی اقدار کے تحفظ کے لئے کربلا میں عظیم قربانی دی۔ یہ جنگ اسلام کی سربلندی کی جدوجہد تھی جس کی خصوصیت اصولی موقف اور غیر متزلزل بہادری تھی۔

صدر مملکت نے کہا کہ جابر حکمران یزید کے خلاف حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا موقف اقتدار یا انتقام کے لئے نہیں تھا بلکہ یہ انصاف، اسلامی اقدار کے تحفظ اور اسلامی معاشرے کو بدعنوانی اور جبر سے بچانے کے لئے اصولی موقف تھا۔

جرات مندانہ اقدام

انہوں نے کہا کہ یہ جرات مندانہ اقدام ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں ظلم اور ظلم کے آگے نہیں جھکنا چاہیے اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے، چاہے اس کی قیمت کتنی ہی کیوں نہ چکانی پڑے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کے طرز عمل نے ہمیں وفاداری، راستبازی اور حق و انصاف کے لیے جدوجہد کرنے والوں کی حمایت کی اہمیت سکھائی۔

انہوں نے مزید کہا کہ کربلا کی جنگ نے مسلمانوں کو بے غرضی اور عظیم مقصد کے لئے قربانی کا درس دیا۔

“کم طاقت اور تعداد ہونے کے باوجود حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اسلام کے اصولوں اور اقدار کو ترک کرنے سے انکار کر دیا۔

صدر نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ مختلف مکاتب فکر کے درمیان مکالمے اور افہام و تفہیم کی اہمیت کو یاد رکھیں۔

آئیے ہم حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی قربانی کی نمائندگی کرنے والی اقدار کو برقرار رکھنے کے لئے متحد ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت امام حسینؓ کی قربانیوں سے سبق سیکھنے اور ہمت، استقامت اور جرأت کے ساتھ آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

غیر متزلزل ایمان، پرہیزگاری اور انصاف کے لیے جدوجہد کا سبق’

دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حضرت امام حسینؓ کی قربانی نے غیر متزلزل ایمان، تقویٰ اور انصاف کی جدوجہد کا قیمتی سبق دیا اور مسلمانوں کو یاد دلایا کہ ظلم و جبر کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا ان کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔

اس موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ 10 محرم الحرام کا عاشورہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے انتہائی تاریخی اور روحانی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظیم جدوجہد، قربانی اور شہادت کا دن ہے، اس دن حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں اور اہل خانہ کے ساتھ ظلم و جبر اور ناانصافی کے خلاف کربلا کی جنگ میں بہادری سے کھڑے ہوئے اور راہ راست کے لیے جام شہادت نوش کیا۔

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا لازوال پیغام آج تک گونجتا ہے اور یہ تعلیم دیتا ہے کہ ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں انصاف، ہمدردی اور ثابت قدمی کے اصولوں پر قائم رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی قربانی کسی خاص وقت یا مقام تک محدود نہیں تھی بلکہ یہ تمام سرحدوں سے بالاتر ہو کر مسلمانوں اور آنے والی نسلوں اور براعظموں کے لئے ایک پیغام تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ عظیم قربانی اس بات کا اعادہ ہے کہ ہر شخص کو انصاف، مساوات اور انسانی وقار کے لیے غیر متزلزل عزم کے ساتھ جدوجہد کرنی چاہیے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی قربانی نے یہ سبق دیا کہ حق و انصاف کی راہ پر چلتے ہوئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی دائمی کامیابی اور برکتوں کے حصول کا راستہ ہے۔

سبق

ہمیں قوم کو درپیش چیلنجوں اور مشکلات پر قابو پانے کے لئے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی قربانی سے سبق سیکھنا چاہئے۔

اور پوری امت مسلمہ۔ یاد رکھیں کہ سچائی اور کامیابی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ثابت قدمی، قربانی اور عزم کے ذریعے ہی دور کیا جاسکتا ہے۔

وزیراعظم نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی روزمرہ زندگی میں امام حسین ؓ اور ان کے پیروکاروں کی عظیم مثال کی پیروی کریں۔

پسندیدہ مضامین

پاکستانملک بھر میں عاشورہ کے موقع پر سیکیورٹی ہائی الرٹ