25.9 C
Karachi
Friday, April 19, 2024

صنم جاوید کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہ مل سکی

ضرور جانیے

لاہور: تحریک انصاف کی کارکن صنم جاوید کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہ مل سکی۔ الیکشن ٹریبونل نے صنم جاوید خان کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے ریٹرننگ افسر کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

اپیلٹ ٹریبونل کے جج جسٹس طارق ندیم نے صنم جاوید کی اپیلوں پر فیصلہ سنایا۔ الیکشن ٹریبونل نے این اے 119، 120 اور پی پی 150 سے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف صنم جاوید کی اپیل مسترد کردی۔

اعتراض میں کہا گیا ہے کہ صنم جاوید نے 21 دسمبر کو دستخط کیے تھے جبکہ 22 دسمبر کو ریٹرننگ افسر کے سامنے پیش کیا تھا۔ انہوں نے کاغذات نامزدگی میں ایک مشترکہ اکاؤنٹ دکھایا تھا جبکہ کاغذات میں ایک ہی اکاؤنٹ دکھایا جانا چاہئے۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف کی کارکن صنم جاوید نے این اے 119، 120 اور پی پی 150 سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔

سینیٹر دلاور خان نے سینیٹ میں انتخابات ملتوی کرنے کی قرارداد پیش کی۔ جس کے متن میں کہا گیا تھا کہ ملک میں سیکیورٹی کی صورتحال بہت خراب ہے، مولانا فضل الرحمان اور محسن داوڑ پر حملہ کیا گیا، ملک کے مختلف حصوں میں جنوری اور فروری میں موسم سرما اپنے عروج پر ہے۔

قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے، فروری میں ہونے والے انتخابات ملتوی کیے جائیں، الیکشن کمیشن انتخابات کو مناسب وقت کے لیے ملتوی کرے۔ قرارداد کثرت رائے سے منظور کی گئی۔

سینیٹ کے اجلاس میں 14 ارکان موجود تھے۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر افنان اللہ نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ 2013 اور 2018 میں سخت حالات میں انتخابات ہوئے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سینیٹرز نے بھی قرارداد کی مخالفت کی۔ ثمینہ ممتاز زہری نے انتخابات ملتوی کرنے کی قرارداد کی شدید مخالفت کی اور کہا کہ اچانک قرارداد پیش کی گئی۔

پسندیدہ مضامین

پاکستانصنم جاوید کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہ مل سکی