25.9 C
Karachi
Friday, April 19, 2024

قاسم سوری ملک میں آئینی بحران کی وجہ بن گئے، ان کے خلاف سنگین غداری کی کارروائی کیوں نہ کی جائے، چیف جسٹس

ضرور جانیے

اسلام آباد: سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی نااہلی کے کیس میں چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیے کہ قاسم سوری نے تحریک عدم اعتماد پیش نہیں ہونے دی، وہ ملک میں آئینی بحران کی وجہ بنے تو انہوں نے اپنے خلاف سنگین غداری کیوں کی؟ کارروائی کی جانی چاہیے۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی نااہلی کیس کی سماعت کی جس میں قاسم سوری کی جانب سے نعیم بخاری نے دلائل دیے۔

سماعت کے دوران نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں قاسم سوری کی نااہلی اور ان کے حلقے میں دوبارہ انتخاب کا معاملہ اب غیر موثر ہو چکا ہے۔ ، انہوں نے قیام پر پوسٹ کا لطف اٹھایا ، انہیں مراعات اور فوائد واپس ملنا چاہئے۔

چیف جسٹس نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ کیا آپ اس سے متفق ہیں؟ نعیم بخاری نے جواب دیا کہ الیکشن ٹریبونل نے کہا تھا کہ قاسم سوری نے کوئی کرپٹ پریکٹس نہیں کی۔

چیف جسٹس نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ قاسم سوری نے استعفیٰ کب دیا؟ اس پر نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ قاسم سوری نے 16 اپریل 2022 کو استعفیٰ دے دیا تھا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جب انہوں نے اسمبلی تحلیل کی تو وہ ابھی ٹھہرے ہوئے تھے، ٹھیک ہے؟ قاسم سوری نے غیر قانونی طور پر اسمبلی توڑی، 5 رکنی بینچ کے فیصلے میں قاسم سوری کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت سنگین غداری کی کارروائی کی سفارش کی گئی۔ نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

جسٹس قاضی فائز نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کے اندر وہ ہاتھ گھس گئے ہیں جن کے حوالے سے کون سے مقدمات بنائے جانے ہیں اور جنہیں روکنا ہے وہ اب ختم ہوجائیں گے۔ سپریم کورٹ مددگار نہیں بنے گی، سپریم کورٹ کی تباہی میری، آپ اور عوام کی تباہی ہے، یہ صرف میرا ادارہ نہیں ہے۔

نعیم بخاری کی چیف جسٹس سے گفتگو ہوئی کہ آپ مجھ سے ناراض ہیں یا سسٹم سے؟ چیف جسٹس نے جواب دیا کہ ہم تسلیم کر رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کے اندر سے ہیرا پھیری ہوئی، قاسم سوری کو بھی اپنی غلطی تسلیم کرنی چاہیے، میں سسٹم سے ناراض ہوں، آپ سے نہیں اور میں تسلیم کر رہا ہوں کہ ہیرا پھیری ہوئی ہے، آپ بھی تسلیم کریں۔ وہ ہیرا پھیری کرتے رہے ہیں، کبھی اسٹیبلشمنٹ آتی ہے، کبھی کوئی اور، یہ سلسلہ جاری نہیں رہے گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ قاسم سوری نے تحریک عدم اعتماد پیش نہیں ہونے دی، ان کے اقدام کو سپریم کورٹ کے 5 ججز نے غلط قرار دیا، قاسم سوری ملک میں آئینی بحران کی وجہ بنے، انہوں نے ان کے خلاف آئینی خلاف ورزی کی کارروائی کا حکم کیوں نہیں دیا؟

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ قاسم سوری کو طلب کرکے آئین کی خلاف ورزی کا مطالبہ کریں گے۔

بعد ازاں عدالت نے قاسم سوری اور لشکری رئیسانی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے رجسٹرار کو آگاہ کیا کہ قاسم سوری کا کیس طے نہیں ہوا اور حکم امتناع جاری ہے۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کرتے ہوئے تین ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی۔

پسندیدہ مضامین

پاکستانقاسم سوری ملک میں آئینی بحران کی وجہ بن گئے، ان کے...