15.9 C
Karachi
Friday, February 23, 2024

انتخابی نشان’بلا‘ نہ ملنے سے پی ٹی آئی کو مخصوص نشستوں پر بھی بڑا نقصان ہوگا

ضرور جانیے

الیکشن کمیشن سے منظوری نہ ملنے کی وجہ سے پی ٹی آئی ایوان بالا اور ایوان زیریں بشمول صوبائی اسمبلیوں میں خواتین اور اقلیتوں کی 227 مخصوص نشستوں سے محروم ہو جائے گی۔

اگر پی ٹی آئی کو عدلیہ سے ریلیف نہ ملا تو پی ٹی آئی کو عام انتخابات کے ساتھ ساتھ مخصوص نشستوں پر بھی بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا اور سینیٹ الیکشن میں انہیں اس الیکشن کی بنیاد پر کوئی نشست نہیں ملے گی۔

آئین کے مطابق مخصوص نشستیں صرف رجسٹرڈ جماعتوں اور ایک انتخابی نشان پر لڑنے والی جماعتوں کو الاٹ کی جاتی ہیں۔

موجودہ قومی اسمبلی کی 266 جنرل نشستوں میں سے 141 پنجاب، 61 سندھ، 45 خیبر پختونخوا، 16 بلوچستان اور 3 اسلام آباد سے ہیں۔

اس کوٹہ کے تحت آئین کے آرٹیکل 106 کے تحت پنجاب کی 297، سندھ کی 130، خیبر پختونخوا کی 115 اور بلوچستان کی 51 نشستیں صوبائی اسمبلی کی عام 593 نشستوں میں سے آئین میں متعین ہیں اور اس کے مطابق حلقہ بندیاں کی گئی ہیں۔

بلا کے انتخابی نشان کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا تفصیلی فیصلہ

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کو درخواست گزاروں کی جانب سے چیلنج کیا گیا، الیکشن کمیشن کے پولیٹیکل فنانس ونگ نے بھی انٹرا پارٹی انتخابات پر اعتراضات اٹھائے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے مبینہ نئے چیئرمین نے انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق دستاویزات جمع کرائی تھیں۔ اجازت نہیں دی گئی، پی ٹی آئی کے دفتر میں کاغذات نامزدگی نہیں تھے، امیدوار نے بیٹ کا انتخابی نشان حاصل کرنے کے لیے ایسا کیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پولیٹیکل فنانس ونگ نے پی ٹی آئی کو سوالنامہ دیا، پولیٹیکل فنانس ونگ نے نیاز اللہ نیازی کی بطور چیف الیکشن کمشنر تعیناتی پر اعتراض اٹھایا۔

الیکشن کمیشن کے فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی آئینی فورم نے عمر ایوب کو سیکریٹری جنرل مقرر نہیں کیا، عمر ایوب نیاز اللہ نیازی کو پارٹی کا چیف الیکشن کمشنر تعینات نہیں کیا جاسکتا، پی ٹی آئی کے چیف الیکشن کمشنر کو انتخابات کرانے کا کوئی اختیار نہیں۔ تھا

پسندیدہ مضامین

پاکستانانتخابی نشان’بلا‘ نہ ملنے سے پی ٹی آئی کو مخصوص نشستوں پر...