25.9 C
Karachi
Friday, April 19, 2024

وزیراعظم کا فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل پر عدالتی فیصلے کیخلاف اپیل میں جانیکا اعلان

ضرور جانیے

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ فوج عدالتوں کے فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی کیونکہ قانون میں تبدیلی کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں اس ملک کا شہری ہوں اور نگران وزیراعظم کی حیثیت سے میڈیا کے حوالے سے کوئی کردار ادا کروں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں خدمات میں آنے والے ورکنگ جرنلسٹس کے قوانین ہونے کا مسئلہ بھی اٹھایا۔

چیلنجنگ موضوعات

انہوں  نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ایسے تمام چیلنجنگ موضوعات ہیں جن کے بارے میں لوگوں کی رائے تو ہوتی ہے لیکن ان کا اظہار نہیں کرتے۔ مالکان، صحافیوں اور میڈیا کے بارے میں الفاظ کا مقصد کسی کو تکلیف پہنچانا نہیں تھا۔ اگر پریس کانفرنس کو دہرایا جائے تو الفاظ مختلف ہوسکتے ہیں۔ لیکن میں اس موضوع کو برقرار رکھوں گا

غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی واپسی کے حوالے سے نگران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ طورخم اور چمن بارڈر سے لاکھوں افراد جا چکے ہیں اور بہت سے لوگ جا رہے ہیں، حکومت کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے جن کے پاس کاغذات نہیں ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی، ہماری پشتون آبادی بہت بڑی ہے، ڈی این اے ٹیسٹنگ کی جانب بڑھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ نادرا کو ٹاسک دیا گیا ہے اور ان کی سربراہی میں کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔

انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ جہاں غیر قانونی افراد ہوسکتے ہیں وہاں تلاشی لی جا رہی ہے، ڈیڈ لائن کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے کارروائی کریں گے، چیک پوسٹیں قائم کی جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈیڈ لائن کے بعد اگر کوئی پایا گیا تو وہ اسے پکڑ یں گے اور ڈی پورٹ کریں گے۔

پاکستان کے نگران وزیراعظم نے کہا کہ ہم افغانستان سے تعلقات بالکل نہیں توڑنا چاہتے، ہم چاہتے ہیں کہ جو لوگ ہماری طرف ہیں وہ ہمیں افغانستان بھیجیں، میرے خیال میں ہمارے لوگ بھی وہاں غیر قانونی ہیں، اگر ہمارے لوگوں کی وہاں کوئی قانونی حیثیت ہے۔ مجھے بتاؤ.

پسندیدہ مضامین

پاکستانوزیراعظم کا فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل پر عدالتی فیصلے کیخلاف...