25.9 C
Karachi
Friday, April 19, 2024

کراچی: غیر قانونی طور پر تعمیر کی جانیوالی عمارتوں کو گیس، بجلی اور پانی کے کنکشن نہ دینے کا حکم

ضرور جانیے

سندھ ہائی کورٹ نے کراچی میں غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی عمارتوں کو گیس، بجلی اور پانی کے کنکشن فراہم نہ کرنے کا حکم دے دیا۔

سندھ ہائی کورٹ میں غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ عمارتوں کو بجلی، پانی اور گیس کنکشن دینے سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔

دوران سماعت عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کے الیکٹرک، سوئی گیس اور واٹر کارپوریشن کے سی ای اوز کہاں ہیں؟ جس پر کے الیکٹرک کے وکیل کا کہنا تھا کہ مونس علوی گزشتہ روز عمرہ کی ادائیگی کے لیے گئے تھے، گھروں کی تعمیر کے وقت عارضی کنکشن دیا جاتا ہے جو ایک سال تک چلتا ہے۔

کے الیکٹرک کے وکیل نے مزید کہا کہ ہم کارروائی کرنے جاتے ہیں لیکن لیاری جیسے علاقوں میں ٹیم پر حملہ ہوتا ہے، اب بلڈنگ پلان کی منظوری کے بغیر کسی بھی عمارت کو کنکشن نہیں دیا جائے گا۔

معافی

دریں اثنا سی ای او واٹر کارپوریشن صلاح الدین احمد نے عدالت سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں ایسا نہیں ہوگا، کسی بھی غیر قانونی عمارت سے کوئی کنکشن نہیں دیا جائے گا۔

عدالت میں وکیل ایس بی سی اے نے موقف اختیار کیا کہ آگرہ تاج کالونی میں 9 منزلہ غیر قانونی عمارت تعمیر کرنے والے بلڈر کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

جسٹس ندیم اختر نے سوئی گیس، واٹر کارپوریشن کے سی ای اوز کو تحریری بیان جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں منظور شدہ بلڈنگ پلان کے بغیر کسی بھی عمارت کو کوئی کنکشن نہیں دیا جائے گا۔

عدالت نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو آگرہ تاج کالونی میں غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی 9 منزلہ عمارت کو 6 ہفتوں میں منہدم کرنے کی مہلت دیتے ہوئے مزید سماعت فروری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کرتے ہوئے عدالتی حکم پر فوری عملدرآمد کا حکم دے دیا۔ نے

پسندیدہ مضامین

پاکستانکراچی: غیر قانونی طور پر تعمیر کی جانیوالی عمارتوں کو گیس، بجلی...