27.6 C
Karachi
Tuesday, April 23, 2024

“بس دو قدم پہ جنت”

ضرور جانیے

جب ھم کسی سیڑھی کے ذریعے اوپر کی طرف چڑھنا چاھتے ھیں تو غور کیجئے کہ پہلے ھم اپنا سیدھا قدم اٹھاتے ھیں اور پہلے زینے پہ رکھتے ھیں پھر اپنے الٹے پاؤں کو کھینچ کر لاتے ھیں اور سیدھے پاؤں کے برابر رکھ کر اب اس زینے پہ پورے کھڑے ھوجاتے ھیں

اسی طرح دائیں اور بائیں پاؤں کی مدد سے اوپر کی منزل تک چڑھ کر پہنچ جاتے ہیں یہ مثال ھے جنت کی منزل پانے کی
کہ پہلے ایمان کے ذریعے نیک عمل کا
قدم اٹھانا ھوگا شرک و بدعات سے پرہیز اور توحید خالص اللہ تعالی کے لئے اختیار کرنے کے بعد نماز کی پابندی زکوة رمضان كے روزے حج اچھے اخلاق تمام صلہ رحمی کے حقوق کی ادائیگی قرآن پاک کی تلاوت اسکا سمجھنا اور عمل کرنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت میں انکی سنتوں پہ عمل کرنا یہ تو پہلا قدم ھے *
پھر * دوسرا قدم نفس پہ جبر کرکے ہر حرام کام سے اپنے قدموں کو گویا کھینچ کر نکالنا اور گناھوں سے پوری کوشش کرکے بچنا اس طرح ان دو قدموں یعنی نیکی اور عبادت کا قدم
اور حرام اور گناھوں سے بچنے کا قدم سے ان شاءاللہ جنت کی منزل تک پہنچنا اللہ کے فضل سے آسان ھوجائے گا
لیکن ان دو قدموں * میں سے ایک بھی چھوٹ گیا یا کمزور ھوگیا تو جنت کی منزل پانا بھت مشکل ھوجائے گا.

اب فیصلہ ھمارے اختیار میں ھے کہ پگھلتی برف کی طرح تیزی سے گزرتی اس زندگی کو جلدی سے اپنے کنٹرول میں لاکر دو قدم کا عزم کرلیں پھر اللہ تو عزم کرنے والوں کی ضرور مدد فرماتے ھیں.

شرط یہ ھے کہ دل کے خلوص سے دونوں قدم اٹھانے کا عزم ھو تو ھمارے مشفق رب کا وعدہ ھے کہ تم ایک بالشت بڑھاؤ گے میری طرف تو میں ایک ہاتھ بڑهاؤنگا اور تم ایک ہاتھ بڑھاؤ گے تو میں دو ہاتھ بڑھاؤنگا اور تم چل کر آؤگے تو میں دوڑ کر تمھارا استقبال کرونگا
تو آئیے اتنے شفیق رب کی طرف دو قدم بڑھائیں اور پھر ان شاءاللہ جنت کی منزل بھت قریب ھوگی

بقلم اھلیہ ڈاکٹر عثمان انور

پسندیدہ مضامین

اسلام"بس دو قدم پہ جنت"