25.9 C
Karachi
Friday, April 19, 2024

سانحہ اے پی ایس کو 9 برس مکمل، زخم آج بھی تازہ

ضرور جانیے

پشاور میں آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) کے سانحے کو 9 سال گزر چکے ہیں، اہل خانہ کے زخم اب بھی تازہ ہیں لیکن حوصلے بلند ہیں۔

16 دسمبر 2014 پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا جب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے 6 دہشت گردوں نے اے پی ایس پر بزدلانہ حملہ کیا جس میں 132 طلباء اور 17 عملے کے ارکان ہلاک ہوئے۔ دہشت گردوں کو افغانستان میں تربیت دی گئی تھی۔ دہشت گرد افغانستان سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی لائے تھے۔

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے سانحہ آرمی پبلک سکول کی نویں برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ آج سے 9 سال قبل دہشت گردوں نے آرمی پبلک سکول پشاور پر حملہ کیا تھا۔ آج بھی جب میں وہ دن یاد کرتا ہوں تو میری آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔

انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ 9 سال قبل دشمن نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے مستقبل، ہمارے چمن کے چھوٹے پودوں کو کچل کر اس قوم کے حوصلے پست کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ عزم کو تقویت ملی، پوری قوم کی ہمدردیاں ان والدین کے ساتھ ہیں جن کے بچوں نے اس سانحے میں سب سے بڑی قربانی دی۔

انہوں نے کہا کہ مجھ سمیت پوری قوم اپنے پھولوں سے بچوں کی اس عظیم قربانی کو یاد کرتی ہے اور انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہے، پرنسپل آرمی پبلک سکول شہید طاہرہ قاضی اور دیگر غیر شادی شدہ اساتذہ اپنے طلباء کو بچانے کے لیے ان درندوں کے سامنے پیش پیش ہیں۔ پلائی نے دیوار کی طرح کھڑے ہو کر اپنی جان قربان کی، آج کا دن بھی ان عظیم شہیدوں کی عظیم قربانی کو یاد کرنے کا دن ہے۔

انسانی تاریخ

نگران وزیراعظم نے کہا کہ انسانی تاریخ میں ایسی قربانیوں کی بہت کم مثالیں ملتی ہیں۔ پاکستانی قوم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت لی ہے۔ طاہرہ قاضی اور شہید اعتزاز حسن جیسے نڈر لوگوں کو دوسروں کو بچانے کے لیے اپنی جان وں کی بھی پرواہ نہیں کرنی چاہیے، بزدل دہشت گرد اس قوم کو کبھی شکست نہیں دے سکتے۔

انہوں نے کہا کہ پوری قوم کو اپنے عظیم شہداء اور ان کے اہل خانہ پر فخر ہے، سانحہ آرمی پبلک سکول کی یاد سے پوری قوم غمگین ضرور ہے لیکن وہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور اس عفریت کے خلاف متحد ہے، پاکستانی قوم، پولیس، رینجرز اور پاک فوج سمیت سیکیورٹی فورسز کے تمام جوان، وہ اس وقت تک اپنی سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں جب تک کہ وہ ان تمام شرپسندوں کو جہنم میں نہیں بھیج دیتے جو ملک کا امن تباہ کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ قوم ان لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے دھوکے بازوں کو تلاش کیا اور ان کا خاتمہ کیا۔ دہشت گردوں اور پاکستان کے امن کے دشمنوں کو میرا واضح پیغام یہ ہے کہ پاکستانی قوم متحد ہے۔

نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی

نگران وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات و پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے سانحہ اے پی ایس کے شہدا کی 9 ویں برسی پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ سانحہ اے پی ایس کو 9 سال گزر چکے ہیں لیکن متاثرین کا غم آج بھی تازہ ہے۔ یہ دن آرمی پبلک اسکول کے شہداء کی عظیم قربانیوں کی ہمیشہ یاد دلاتا رہے گا۔

مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ بزدل شرپسندوں نے قوم کے مستقبل پر حملہ کیا، چھوٹے بچوں کو شہید کیا۔ اس واقعے کے بعد تمام سیاسی جماعتیں اور ادارے دہشت گردی کے خلاف متحد ہوئے، بیس نکاتی قومی ایکشن پلان بنایا گیا اور دہشت گردوں کو شکست دی گئی۔

واپس آنے کی اجازت

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پارلیمنٹ اور سرکاری اداروں کی رائے لیے بغیر ماضی قریب کی ایک حکومت نے دہشت گردوں کو واپس آنے کی اجازت دے دی جس کی وجہ سے ہمیں ملک میں دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا ہے۔ دنیا بھر میں دہشت گردوں کی خوشنودی کی وجہ سے دہشت گردی کبھی ختم نہیں ہوئی۔ پاکستان کے عوام اپنے ریاستی اداروں کی طاقت سے دہشت گردی کی اس نئی لہر کو شکست دیں گے اور یہی آج کا پیغام ہے۔

نگراں وزیر نے مزید کہا کہ ہمارا عزم پختہ ہے اور ہمارا جذبہ سچا ہے، دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ جاری ہے، ہم نے دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے طویل سفر طے کیا ہے، تمام ریاستی ادارے وطن اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہیں۔ سول اور ملٹری قیادت ایک پیج پر ہونے کی وجہ سے پاکستان دیرپا امن اور ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے۔

مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ میری دعا ہے کہ اللہ تعالی آرمی پبلک اسکول کے شہداء کے درجات بلند فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ میں پاک فوج کے ان شہدا کو بھی خراج عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے ملک میں امن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

شہباز شریف

سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کے 9 سال مکمل ہونے پر شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج سے 9 سال قبل 16 دسمبر 2014 کا دن ہم کبھی نہیں بھول سکتے۔ جس دن ہمارے معصوم بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم شہدا، ان کے والدین اور اہل خانہ کو سلام پیش کرتے ہیں، ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں، آج پوری قوم دہشت گردی کے خلاف ایک بیانیے پر جمع ہوئی ہے، 9 سال قبل وزیراعظم نواز شریف نے دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن جنگ کا آغاز کیا گیا، ضرب عضب اور ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کا صفایا کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ آج ہم سیکورٹی فورسز کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو دہشت گردی کے خاتمے کے لئے بہادری اور بہادری سے لڑ رہے ہیں۔ زندہ نہ ہونا، وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ دہشت گرد کسی کے دوست نہیں ہوتے۔

لیگی رہنما نے کہا کہ دہشت گردی مذمت کرنے سے نہیں بلکہ پاکستان کے دشمنوں کی مرمت سے ختم ہوگی۔

افسوس کہ دہشت گردوں کو واپس لاکر قوم کی زندگی وں سے کھیلا گیا ہے، ملک کا امن تباہ کر دیا گیا ہے، معیشت کی بنیادیں ہلا دی گئی ہیں، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے آج وزیراعظم نواز شریف کی طرح آہنی عزم اور فیصلہ کن کارروائی کی ضرورت ہے۔ اللہ شہدا کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

بلاول بھٹو زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کی برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں اے پی ایس کے معصوم شہدا اور ان کے شہید اساتذہ کو خراج عقیدت پیش کیا اور شہدا کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کیا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کا دن ہماری قومی تاریخ کا ایک ہولناک دن ہے، اس ہولناک خونریزی کی یادیں آج بھی ہر پاکستانی کے ذہن میں تازہ ہیں، ہم نہ تو شہداء کو بھولیں گے اور نہ ہی اس سانحے کو۔ ہم دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہداء کے اہل خانہ کے غم کو مجھ سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا کیونکہ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا بیٹا ہوں۔ پاکستان پیپلز پارٹی ملک سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کو پھر کبھی سانحہ اے پی ایس جیسے لمحات سے نہیں گزرنا پڑے گا، ہمیں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنی ہے اور ہم یہ جنگ ضرور جیتیں گے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے مزید کہا کہ آصف علی زرداری کی قیادت میں حکومت نے سوات میں دہشت گردی کو شکست دی ہے۔ بعد ازاں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے دہشت گردی کا خاتمہ کر دیا

پسندیدہ مضامین

پاکستانسانحہ اے پی ایس کو 9 برس مکمل، زخم آج بھی تازہ