29.9 C
Karachi
Saturday, February 24, 2024

اسلام آباد ہائی کورٹ: عدت کے موقع پر نکاح کیس خارج کرنے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

ضرور جانیے

اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی نکاح سے متعلق کیس خارج کرنے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے عید کے موقع پر عمران خان اور بشری بی بی کے درمیان شادی کیس خارج کرنے کی درخواستوں کی سماعت کی جس میں عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجا نے دلائل دیے۔

سماعت کے دوران سلمان اکرم راجہ نے درخواست گزار اور گواہوں کے بیانات پڑھ کر سنائے اور کہا کہ درخواست گزاروں کی توہین کے لیے مقدمہ دائر کیا گیا، سیاسی مقاصد اور اسکینڈل بنانے کے لیے نوٹس ز جاری کیے گئے۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اس معاملے پر پہلی شکایت کب درج کی گئی؟ سلمان اکرم کا کہنا تھا کہ شادی کے 5 سال 11 ماہ بعد نومبر 2023 میں شکایت درج کرائی گئی تھی۔

عدالت نے کہا کہ خاور مانیکا کا کیس ہے کہ انہوں نے 14 نومبر کو بشریٰ بی بی کو طلاق دے دی۔ اگر شادی یکم جنوری کو ہوئی ہے تو اس کے درمیان 48 دن ہیں۔

اس موقع پر خاور مانیکا کے وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ شریعت کے مطابق عید کا دورانیہ 90 دن ہے۔ اگر پہلی شادی جائز تھی تو دوسری شادی کیوں ہوئی؟ گواہوں نے ٹرائل کورٹ میں گواہی دی کہ شادی میں دیگر لوگ بھی موجود تھے۔

عدالت نے کہا کہ اگر کل ٹرائل ہونا ہے تو یہ کیسے ثابت ہوگا؟ یہ کیسے ثابت ہوگا کہ یہ 39 دن ہے یا 90 دن؟ اس پر مانیکا کے وکیل نے کہا کہ شوہر اور استغاثہ اسے ثابت کریں گے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ پہلا یا آخری شوہر کون سا ہے؟ رضوان عباسی نے کہا کہ جس کے ساتھ وہ 28 سال رہے وہ بتائے گا، عدالت نے کہا کہ فرض کریں آپ نے ثابت کر دیا ہے تو اس میں کیا جرم ہوگا؟ رضوان عباسی کا کہنا تھا کہ اگر شادی کو غیر قانونی قرار دیا گیا تو یہ خلاف قانون ہوگا، اپریل 2017 میں خاورمانیکا نے زبانی طلاق دے دی۔

بعد ازاں عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

پسندیدہ مضامین

پاکستاناسلام آباد ہائی کورٹ: عدت کے موقع پر نکاح کیس خارج کرنے کی...