25.9 C
Karachi
Friday, April 19, 2024

پنجاب، ورکرز کی کم از کم اجرت 32 ہزار روپے کرنے کی منظوری دے دی گئی

ضرور جانیے

ملتان:پنجاب کی نگران کابینہ نے مزدوروں کی کم از کم اجرت 32 ہزار روپے کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ملتان میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں 39 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی کی زیر صدارت پنجاب کابینہ کا 25 واں اجلاس آج ملتان میں ہوگا۔

اجلاس جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں منصوبے سے متعلق اہم امور اور مختلف محکموں کے ایجنڈے پر تبادلہ خیال کیا گیا، صوبائی وزراء، مشیران، چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل اجلاس میں پولیس اور متعلقہ حکام نے شرکت کی، نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی نے فوری نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دے دیا۔

کابینہ اجلاس میں میٹرو بس اور اورنج لائن میں بزرگ شہریوں، معذور افراد اور طلباء کو مفت سہولت فراہم کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔

ملاقات

قبل ازیں چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدور نے نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی سے وزیراعلیٰ آفس میں ملاقات کی جس میں پنجاب میں صنعتوں کے فروغ کی تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

صنعتوں کے لئے ون ونڈو آپریشن کے لئے 6 بڑے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز سے سفارشات پیش کی جائیں گی۔

وزیراعلیٰ محسن نقوی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں صنعتوں کی ترقی کیلئے ہر ممکن سہولیات اور وسائل فراہم کریں گے۔

نئی صنعتوں کے قیام اور پرانی صنعتوں کو چلانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ 6 بڑے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز باہمی مشاورت سے جامع سفارشات پیش کریں گے۔

ون ونڈو آپریشن کو فعال بنانے کیلئے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی سفارشات کو مدنظر رکھا جائے گا۔ صوبائی محکمہ صنعت سے متعلق مسائل ایک ہی جگہ پر حل کئے جائیں گے۔

نئی صنعتوں اور پرانی صنعتوں کے قیام کیلئے تمام این او سیز ون ونڈو سینٹر سے جاری کئے جائیں گے۔ بجلی اور گیس سے متعلق مسائل کے لیے وفاقی محکموں کے لیے ون ونڈو سینٹر میں ڈیسک قائم کیے جائیں گے۔ سہولت دی جائے گی۔

پسندیدہ مضامین

پاکستانپنجاب، ورکرز کی کم از کم اجرت 32 ہزار روپے کرنے کی...