15.9 C
Karachi
Thursday, February 22, 2024

عمران خان کے وکیل نے اٹک میں جیل کی صورتحال سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کو آگاہ کر دیا

ضرور جانیے

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے وکیل شیر افضل مروت نے اٹک جیل کی خراب صورتحال کی شکایت کی ہے جہاں سابق وزیراعظم کو رکھا گیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں اڈیالہ جیل منتقلی سے متعلق اپنے موکل کی درخواست کی سماعت کے دوران مروت نے جیل کی غیر معیاری شرائط پر اعتراض کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جہاں پی ٹی آئی چیئرمین کو رکھا گیا ہے وہاں کیڑوں کا حملہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سابق وزیر اعظم سونے سے قاصر ہیں کیونکہ جس جگہ عمران خان کو رکھا گیا ہے اس کی کوئی چھت نہیں ہے۔

وکیل نے یہ بھی بتایا کہ اٹک جیل میں بی کلاس کی سہولت کا مکمل فقدان ہے۔

حکام کے اس بیانیے پر کہ عمران خان کو سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے اٹک جیل میں رکھا جا رہا ہے، مروت نے کہا کہ ‘سب جانتے ہیں کہ اڈیالہ جیل اٹک جیل سے زیادہ محفوظ ہے۔’

عمران خان کو راولپنڈی منتقل کرنے کی درخواست

عدالت سے سابق وزیراعظم عمران خان کو راولپنڈی منتقل کرنے کی درخواست کرتے ہوئے مروت نے کہا کہ یہ ہمارا حق ہے کہ عمران خان کے لیے بی کلاس کی سہولت دستیاب ہو اور انہیں اڈیالہ منتقل کیا جائے۔

سابق وزیر اعظم کو گزشتہ ماہ توشہ خانہ کیس میں مجرم قرار دیے جانے کے بعد پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے 2 ستمبر کو چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا معطل کرنے کے فیصلے کے باوجود سابق وزیراعظم اب بھی سلاخوں کے پیچھے ہیں کیونکہ انہیں 19 اگست کو ‘سائفر کیس’ میں دوبارہ گرفتار کیا گیا تھا۔

پی ٹی آئی نے اپنے چیئرمین کے لیے بار بار ‘اے کلاس’ سہولیات کا مطالبہ کیا ہے اور اس معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کی سماجی و سیاسی حیثیت، اس کی تعلیم اور بہتر طرز زندگی کے عادی ہونے کو مدنظر رکھتے ہوئے درخواست گزار پاکستان جیل قوانین کے قاعدہ 243 اور قاعدہ 248 کے تحت اے کلاس سہولیات کا حقدار ہے۔

پسندیدہ مضامین

پاکستانعمران خان کے وکیل نے اٹک میں جیل کی صورتحال سے متعلق...