15.9 C
Karachi
Friday, February 23, 2024

انتقام نہیں چاہتا لیکن میرے ساتھ جو ہوا اسکا حساب ہونا چاہیے، نواز شریف

ضرور جانیے

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ وہ انتقام نہیں چاہتے لیکن میرے ساتھ جو کچھ ہوا اس کا حساب ہونا چاہیے کیونکہ وہ قوم کو گالیاں دینے والوں کو معاف نہیں کر سکتے۔

لاہور میں پارٹی کے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ اللہ نے مجھے جھوٹے مقدمات سے بری کر دیا ہے. کیونکہ میرے خلاف مقدمات کی کوئی جان نہیں تھی اور یہ جعلی مقدمات ہماری حکومت کو ختم کرنے کے لیے بنائے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے کیا بگاڑا تھا اس بینچ کا جس نے مجھے سسلین مافیا کہا، کیا ججز کبھی سسیلین مافیا، گاڈ فادر جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ مجھے ایک فرد کے طور پر سزا دی گئی لیکن اصل سزا 25 کروڑ لوگوں کو ملی۔ آپ سب جعلی مقدمات کے کھوکھلے پن سے واقف ہوں گے، جب پاناما میں کچھ نہیں ملا تو اقامہ  نکال لیا، منتخب وزیراعظم کو اپنے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نااہل قرار دے دیا گیا۔

سازش

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں نے جنرل باجوہ، جنرل فیض یا جنرل راحیل کے خلاف کبھی سازش نہیں کی لیکن سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس سازش میں کون ملوث تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو میری بے گناہی کا یقین تھا، ایسا فیصلہ سنایا گیا جس نے دنیا میں مذاق بنا دیا، کیا دکھ کا کوئی علاج ہے؟

نواز شریف نے کہا کہ 8 فروری کو ملک کی سب سے بڑی عدالت بنائی جائے گی جس میں عوامی جے آئی ٹی بنائی جائے گی۔ مجھے انتقام لینے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، میرے ساتھ جو کچھ ہوا اس کا حساب ہونا چاہئے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے چار سال ڈالر پیگ کر رکھا، ہم نے آئی ایم ایف کو الوداع کہا، ہمارے دور میں آٹا، چینی، گوشت اور دیگر تمام اشیا سستی تھیں۔ میری دشمنی میں کی گئی کارروائی نے لوگوں کو نقصان پہنچایا ہے۔

پسندیدہ مضامین

پاکستانانتقام نہیں چاہتا لیکن میرے ساتھ جو ہوا اسکا حساب ہونا چاہیے،...