15.9 C
Karachi
Friday, February 23, 2024

ایجنسیوں کے لوگوں پر مقدمے چلیں گے تو جبری گمشدگیاں ختم ہو جائیں گی: جسٹس محسن کیانی

ضرور جانیے

لاپتہ بلوچ طالب علموں کے کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ جس دن سائیکل  الٹی چلے گی  اس دن ایجنسیوں کے لوگوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

لاپتہ بلوچ طالب علموں کے کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ایجنسیوں کے لوگوں پر مقدمہ چلایا جائے تو جبری گمشدگیاں ختم ہوجائیں گی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ جبری گمشدگیاں اس لیے ہوتی ہیں کیونکہ ریاستی ادارے عدالتوں کی اطاعت نہیں کرتے، ایجنسیوں کا اپنا میکانزم ہوگا لیکن انہیں فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

معزز جج نے ریمارکس دیے کہ اب جبری گمشدگی ہوئی تو اس کے ذمہ دار وزیراعظم، وزیر دفاع، وزیر داخلہ، سیکریٹری دفاع اور سیکریٹری داخلہ ہوں گے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ جب دہشت گردوں پر انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے تو بلوچ انتہا پسندوں پر مقدمہ کیوں نہیں چلایا جا سکتا؟ وفاق ایک ہفتے کے اندر حلف نامہ جمع کرائے کہ مزید جبری گمشدگیاں نہیں ہوں گی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 13 فروری تک ملتوی کردی۔

پسندیدہ مضامین

پاکستانایجنسیوں کے لوگوں پر مقدمے چلیں گے تو جبری گمشدگیاں ختم ہو...