29.9 C
Karachi
Sunday, May 19, 2024

آئی ایم ایف کا ریونیو بڑھانے کے لیے رئیل اسٹیٹ اور زراعت پر ٹیکس لگانے پر زور

ضرور جانیے

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حال ہی میں پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر کے قرض ے کی منظوری دے دی ہے۔ دی نیوز نے پیر کے روز خبر دی کہ بیل آؤٹ قسط دوسرے جائزے کی شرائط کے ساتھ آتی ہے۔

اب واشنگٹن میں قائم قرض دہندہ نے حکومت سے رئیل اسٹیٹ اور زرعی شعبوں پر ٹیکس لگانے کا منصوبہ مانگا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ ملک کی آمدن بڑھانے کے لیے پراپرٹی اور زراعت کے شعبوں پر ٹیکس لگایا جائے۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کا ماننا ہے کہ پاکستان ان دونوں شعبوں سے آمدنی بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اگر فیڈرل بیورو آف ریونیو (ایف بی آر) کا منصوبہ آئی ایم ایف سے منظور ہوجاتا ہے تو منی بجٹ جاری کیا جائے گا۔ تاہم پراپرٹی سیکٹر اور زرعی شعبے پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ نئی حکومت کو کرنا ہوگا۔

مزید برآں ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں شعبوں پر ٹیکس لگانے کے لیے عالمی بینک سے مدد لی جائے گی۔

واضح رہے کہ چند روز قبل پاکستان کو آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر کی پہلی قسط موصول ہوئی تھی۔

اس حوالے سے آئی ایم ایف حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کو معاشی استحکام کے لیے معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کے ایم ڈی کو بھی یقین دلایا ہے کہ معاہدے پر من و عن عمل درآمد کیا جائے گا۔

پسندیدہ مضامین

کاروبارآئی ایم ایف کا ریونیو بڑھانے کے لیے رئیل اسٹیٹ اور زراعت...