15.9 C
Karachi
Friday, February 23, 2024

بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب کے باعث ایمرجنسی نافذ

ضرور جانیے

کوئٹہ/ لاہور: بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں مسلسل بارشوں کے باعث حکام نے ایک درجن کے قریب اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے جبکہ محکمہ موسمیات کی جانب سے آئندہ تین روز کے دوران ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا انتباہ جاری کیا گیا ہے۔

پشین کے علاقے میں ایک اور ہلاکت کی اطلاع ملی ہے جبکہ کئی دیہات سیلاب کی زد میں آگئے ہیں جس سے سیکڑوں افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔

جمعہ کے روز ضلع بولان میں ایک بار پھر سیلابی ریلے میں پنجڑا پل کے قریب تعمیر کیا گیا کاز وے بہہ گیا جس کی وجہ سے صوبے کا سندھ سے رابطہ بحال نہیں ہوسکا۔

زیارت، قلعہ سیف اللہ، ہرنائی، سنجاوی، قلعہ عبداللہ، خاران، پنجگور، پشین اور ژوب ان اضلاع میں شامل ہیں جہاں ہنگامی حالت کا اعلان کیا گیا ہے۔

موسلا دھار بارش

حکام کا کہنا ہے کہ صوبے کے شمالی، وسطی اور مشرقی اضلاع میں مسلسل موسلا دھار بارش ہو رہی ہے۔

وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے جان و مال کے نقصان کا نوٹس لیتے ہوئے امدادی کارروائیوں کے لیے 15 کروڑ روپے فوری جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

عہدیداروں نے بتایا کہ پنجگور اور خاران میں صورتحال خراب ہوتی جارہی ہے کیونکہ مون سون کی موسلا دھار بارشوں نے اہم قصبوں اور دیہاتوں میں پانی بھر دیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما جنرل (ر) قادر بلوچ نے کہا کہ خاران شہر کا مغربی حصہ مکمل تباہی کی تصویر پیش کر رہا ہے اور کوئی بھی گھر اس میں رہنے کے قابل نہیں ہے۔

تمام ڈیم اپنی گنجائش کے مطابق مکمل طور پر بھر چکے ہیں اور سیلابکا پانی اسپل ویز سے بہہ رہا ہے۔

ڈپٹی کمشنر پنجگور کا کہنا تھا کہ ہمارے تمام ڈیم خطرے میں ہیں، اگر بارش جاری رہی تو ڈیمز کو نقصان پہنچے گا، سیلاب کی وجہ سے رابطہ سڑکیں بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں کیونکہ علاقے کے موسمی دریاؤں میں بھاری سیلابی پانی بہہ رہا ہے۔

لینڈ سلائیڈنگ

کوہلو اور دیگر علاقوں کا لینڈ سلائیڈنگ کے باعث رابطہ منقطع ہوگیا جبکہ قلعہ سیف اللہ میں بھی صورتحال سنگین ہوگئی جہاں علاقے کو دیگر اضلاع سے ملانے والی سڑکیں بہہ گئیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ مکران کے علاقے کیچ میں میرانی ڈیم بھی بھر گیا ہے اور اضافی پانی چھوڑنے کے لیے اسپل ویز کھول دیے گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ حب ڈیم میں پانی کی سطح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے کیونکہ اس کے کیچمنٹ علاقوں میں مسلسل بارشوں کی وجہ سے زیادہ پانی ڈیم تک پہنچ رہا ہے۔ حب ٹاؤن اور کراچی کے درمیان سڑک رابطہ بحال نہ ہوسکا کیونکہ ڈیم سے چھوڑے گئے سیلابی پانی نے عارضی کاز وے کی تعمیر میں رکاوٹ پیدا کردی۔

پانی کی سطح میں اضافہ

دوسری جانب محکمہ موسمیات نے آئندہ تین روز یعنی 27 سے 30 جولائی تک ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا انتباہ جاری کیا ہے۔

پاکستان کے مختلف علاقوں میں مون سون بارشوں کی وجہ سے بڑے دریاؤں میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہوا ہے جس سے مختلف علاقوں میں سیلاب کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے دریائے سندھ، چناب، راوی اور ستلج میں نچلے سے درمیانے درجے کے سیلاب کی اطلاع دی ہے۔

دریائے سندھ میں تربیلا، کالاباغ اور چشمہ میں نچلے درجے کا سیلاب دیکھا گیا جبکہ تونسہ میں معتدل سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ اور اخراج 4 لاکھ 39 ہزار 908 کیوسک تک پہنچ گیا۔

اسی طرح دریائے ستلج میں سلیمانکی کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب آ رہا ہے اور اوپر اور نیچے کی جانب 84 ہزار 430 کیوسک پانی ریکارڈ کیا گیا ہے۔

دریائے چناب میں مرالہ میں پانی کی سطح ایک لاکھ 27 ہزار 466 کیوسک اور نشیبی علاقوں میں ایک لاکھ 10 ہزار 466 کیوسک تک پہنچ گئی۔

محفوظ مقامات

ندی کے پانی کی سطح میں اضافے کے نتیجے میں کئی علاقے زیر آب آ گئے ہیں، جس سے گھروں اور فصلوں کو نقصان پہنچا ہے، جس کی وجہ سے رہائشی اپنے مویشیوں کے ساتھ محفوظ مقامات پر منتقل ہونے پر مجبور ہیں۔

خاص طور پر تشویش کی بات ننکانہ صاحب ہے، جہاں سیلاب ی پانی نے تباہی مچادی، متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا اور زمینی راستوں پر سیلاب کی وجہ سے رہائشی پھنس گئے۔

دریائے راوی میں بالوکی کے علاقے میں نچلی سطح کا سیلاب دیکھا گیا، بالوکی ہیڈ واٹر میں 58 ہزار 830 کیوسک اور بالوکی ہیڈ واٹر میں 42 ہزار 30 کیوسک پانی کا اخراج ریکارڈ کیا گیا۔

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عمران قریشی نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دریائے بیاس اور ستلج پر بھارتی ڈیم بھی اپنی گنجائش کے قریب ہیں۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر ان بھارتی ڈیموں میں پانی کی سطح میں اضافہ جاری رہا تو اس سے پاکستان میں مزید پانی چھوڑا جا سکتا ہے۔

پسندیدہ مضامین

پاکستانبلوچستان میں بارشوں اور سیلاب کے باعث ایمرجنسی نافذ