23.9 C
Karachi
Tuesday, February 27, 2024

ای سی سی نے پیٹرول، ڈیزل پر ڈیلرز اور او ایم سیز کے مارجن میں اضافے کی منظوری دے دی

ضرور جانیے

اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پیٹرولیم ڈیلرز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کے مارجن میں 15 ستمبر سے 4 ہفتوں میں اضافے کی منظوری دے دی۔

ای سی سی نے وزارت توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کی سمری پیش کیے جانے کے بعد 15 ستمبر سے پیٹرولیم ڈیلرز اور او ایم سی مارجن میں 4 پندرہ اقساط میں اضافے کی منظوری دی۔

ای سی سی نے پیٹرولیم ڈیلرز کے ایم ایس اور ایچ ایس ڈی پر مارجن میں 1.64 روپے فی لیٹر اضافے کا فیصلہ کیا جس کا اطلاق 15 ستمبر سے ہوگا۔ اسی طرح 15 ستمبر 2023 سے ایم ایس اور ایچ ایس ڈی پر او ایم سیز مارجن میں 1.87 روپے فی لیٹر اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تفصیلی غور و خوض کے بعد ای سی سی نے فیصلہ کیا کہ کارکردگی اور ٹائم لائنز کو یقینی بنانے کے لیے ان مارجنز کا تعین آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے او ایم سی اور ڈیلرز کے لیے پی ایس او کی آپریٹنگ لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے اوگرا کی جانب سے تیار کیے جانے والے منظم میکانزم کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز

ای سی سی اجلاس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی جانب سے 22 ارب 90 کروڑ روپے کی فراہمی اور ایف بی آر کو ماہانہ ایک ارب 30 کروڑ روپے کی ادائیگی موخر کرنے کے مطالبے کو بھی مسترد کردیا گیا۔

وزارت خزانہ کی جانب سے رات ساڑھے 11 بجے کے قریب پریس ریلیز جاری کی گئی جس میں پی آئی اے کی جانب سے گزشتہ مالی سال 23-2022 کے لیے 22 ارب 90 کروڑ روپے جاری کرنے کی درخواست کے حوالے سے کچھ نہیں کہا گیا جو جاری نہیں کیا جا سکا۔

اجلاس کے دوران وزارت ہوا بازی نے پی آئی اے سی ایل کے لیے مالی معاونت اور اس کی تنظیم نو سے متعلق سمری پیش کی۔

سیکرٹری ایوی ایشن نے چیئرمین کو پی آئی اے کے مالی بوجھ، واجبات اور ادارے کی تنظیم نو کی ضرورت پر تفصیلی بریفنگ دی۔

ای سی سی نے تنظیم نو کے منصوبے کی ٹائم لائنز اور اخراجات پر تبادلہ خیال اور جائزہ لیا۔ تفصیلی تبادلہ خیال اور غور و خوض کے بعد پی آئی اے کی تنظیم نو کے منصوبے کے جائزے کے لیے علیحدہ کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

ای سی سی نے ایف بی آر کو ماہانہ 1.3 ارب روپے کی ادائیگی موخر کرنے کی درخواست بھی مسترد کردی جو پی آئی اے ایف بی آر کو ایف ای ڈی کی مد میں ادا کرتی ہے اور 0.7 ارب روپے ماہانہ جو پی آئی اے سی اے اے کو ایمبارک چارجز کی مد میں ادا کرتی ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ فنانس ڈویژن اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان پی آئی اے کو درپیش مالی چیلنجز سے نمٹنے میں تعاون کریں گے کیونکہ ایئرلائنز کی تنظیم نو کے لیے ٹھوس منصوبے کو حتمی شکل دے کر کمیٹی کے اطمینان کے لیے پیش کر دیا گیا ہے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے مالی سال 2023-24ء کے دوران دفاعی خدمات کے مختلف منظور شدہ منصوبوں اور سبسڈیز اور متفرق اخراجات کے لیے 40 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی بھی منظوری دی۔ تاہم یہ رقم فوری طور پر جاری نہیں کی جائے گی بلکہ کیس ٹو کیس کی بنیاد پر جاری کی جائے گی کیونکہ اس کا بجٹ پہلے ہی رواں مالی سال کے لیے رکھا جا چکا ہے۔

پسندیدہ مضامین

کاروبارای سی سی نے پیٹرول، ڈیزل پر ڈیلرز اور او ایم سیز...