25.9 C
Karachi
Tuesday, February 27, 2024

ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جس سے الیکشن میں تاخیر ہو: سپریم کورٹ

ضرور جانیے

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے کاغذات نامزدگی کی منظوری سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ ہم ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جس سے انتخابات میں تاخیر ہو۔

سپریم کورٹ کے جسٹس جمال مندوخیل نے پی پی 224 سے امیدوار کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے لیے دائر اپیل کی سماعت کی جس میں اسپیشل سیکریٹری الیکشن کمیشن عدالت میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت عدالت نے کہا کہ درخواست گزار نے اپیل دائر کرنے میں 12 روز کی تاخیر کی، اگر اپیل بروقت دائر کی جاتی تو انتخابات کے لیے اجازت دی جاسکتی تھی، ہم ایسا حکم جاری نہیں کرنا چاہتے جس سے انتخابات میں تاخیر ہو۔

جسٹس جمال نے اسپیشل سیکرٹری سے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے شیڈول اتنا مختصر کیوں رکھا ہے؟ الیکشن کمیشن کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ اپیلیں بھی دائر کی جانی ہیں۔

اسپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن ظفر اقبال نے عدالت کو بتایا کہ اگر اس مرحلے پر کاغذات منظور ہوئے تو حلقے میں انتخابات تاخیر کا شکار ہوسکتے ہیں، بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا عمل مکمل ہوچکا ہے اور کئی اضلاع میں بیلٹ پیپرز کی ترسیل کا عمل جاری ہے۔

اسپیشل سیکریٹری نے عدالت کو بتایا کہ 859 حلقوں کے لیے مجموعی طور پر 26 کروڑ بیلٹ پیپرز چھاپے گئے، گزشتہ انتخابات میں 850 ٹن اور اس بار 2170 ٹن کاغذ کا آرڈر دیا گیا تھا۔ ضرورت کو پورا کرنے کے لئے بیلٹ پیپر کا سائز کم کردیا گیا ہے۔

بعد ازاں عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پی پی 224 سے امیدوار کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے لیے دائر اپیل مسترد کردی۔

پسندیدہ مضامین

پاکستانایسا حکم نہیں دینا چاہتے جس سے الیکشن میں تاخیر ہو: سپریم...